Tafseer Surah Al An'aam - Part 110 (Ramadan 1447)
Aayat: 74-81 Surah Al An'aam, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:
Video
Important Notes
💐 اہم نکات درس قرآن – ٨ رمضان المبارک ١٤٤٧💐
💠 جو حقیقی موحد ہوتا ہے وہ نڈر ہوتا ہے۔ ڈرپوکی کی وجہ دل میں کسی نہ کسی درجے کے شرک کا موجود ہونا ہوتی ہے۔ البتہ اہل علم و تقوی اگر کبھی کفار کے سامنے جھک کے معاملہ کرتے ہیں تو وہ کسی شرعی مصلحت سے کرتے ہیں، جیسے نبی کریم ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کی۔ اللہ نے وہ واقعہ امت کو اس بات کا علم دینے کے لئے کروایا تاکہ یہ استثنائی صورت بھی مشروع ہو جائے۔ شرعیت کا حصہ بن جائے۔
💠 پرستی کا لفظ فارسی کے پرستش سے بنا۔ عربی میں اسی کو عبادت کہتے ہیں۔ محبت کے ہر درجہ کو عبادت نہیں کہتے، صرف سب سے انتہائی درجے کو عبادت کہتے ہیں۔ اس لئے پیر استاد شیخ سے محبت شخصیت پرستی نہیں کہلائے گی جب تک وہ عبادت کے درجے پر نہ پہنچ جائے کہ ان کی وجہ سے اللہ کا حکم توڑنا شروع کردیا جائے۔ شیخ کی عزت احترام، ان سے علم حاصل کرنے کے لئے خود کو انکے سامنے بطور طالب علم کے بٹھانا یا تزکیہ نفس روحانی علاج کے لئے بطور مریض کے خود کو شیخ کے سپرد کرنا یہ شخصیت پرستی ہرگز نہیں کہلائے گا۔
💠 جدید دھریت modern atheism میں خدا تو ہے لیکن خدا کا حکم کچھ نہیں۔ یہ لوگ سائنس کا انکار نہیں کرسکتے اسلئے جب سائنس خدا کا انکار نہیں کرسکتی تو یہ بھی خدا کا انکار نہیں کرسکتے۔ تو اب خدا تو مان لیا لیکن ساتھ ہی یہاں تک کہ دیا کہ خدا اتنا بڑا ہے تو جذبات emotions خدا میں نہیں ہیں۔ اس لئے خدا نہ کسی چیز سے خوش ہوتا ہے نہ ناراض ہوتا ہے۔ جب یہ کسی نے مان لیا تو اب ظاہر ہے خدا کا حکم اگر ہے بھی تو اسکی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔
💠 انگریزی کی بنیاد پر دین کو سمجھنے کی کوشش سے دین کچھ کا کچھ بن جاتا ہے۔ تو اللہ کی رضا اور غضب کو انگریزی کے لفظ emotions پر قیاس کرنا شروع کردیا جس کی بنیاد پر یہ مفروضہ بنا لیا کہ احکامات ہیں ہی نہیں۔
💠 ایمان کا تو جزء ہے کفر اور کافری سے بیزاری۔ جب ہم دینداری کے باوجود یہ بیزاری نہیں رکھتے تو اس کی سزا یہ ملتی ہے کہ ہماری اگلی نسل بیزار ہو جاتی ہے۔
💠 آج دیندار مسلمان کی ساری توجہ یا تو فضائل پر یا اعمال پر ہے۔ لیکن اسلام کا تعلیمی نظام بنانے پر نہیں ہے۔ حالانکہ حضرت علی میاں جیسے مفکرین تک نے سمجھایا تھا کہ اسلام تمہاری اگلی نسلوں تک نہیں رہے گا اگر تم نے اپنا تعلیمی نظام نہ بنایا۔
💠 جب بھی کسی سے کسی ایسی بات پر بات کریں جو اسکے نزدیک اختلافی ہے تو متفقٌ علیہ نکتہ تلاش کرکے اس سے بات شروع کرنی چاہیے۔ کہ بھائی اس پر تو ہم دونوں متفق ہیں نا اس لئے جب یہ مانتے ہو تو وہ بھی مان لو جو اسکا منطقی نتیجہ بنتا ہے۔
💠 جیسے بیویاں شوہر سے جب کسی مسئلہ پر بات کریں تو حضرت کا نام مت لیا کریں کیونکہ وہ تو حضرت کو مانتے ہی نہیں۔ اگر شوہر میڈیا کی خبروں کو مانتے ہیں تو تصدیق شدہ خبروں کو اپنا موقف بیان کرنے کے لئے استعمال کیا کریں۔ جیسے اسکولوں میں تشدد (bullying)، ڈرگز، بے حیائی، stabbing وغیرہ کے واقعات پر جو خبریں ملیں ان کی بنیاد پر شوہر کو سمجھائیں کہ ہم اپنے بچوں کو ایسی جگہوں کے حوالے کیسے کرسکتے ہیں۔
💠 اسلامی رشتے تب ہی بنیں گے جب ہمارا اسلام کے ساتھ تعلق دوسرے تعلقات سے زیادہ مضبوط ہوگا۔ مسلمان کی قومیت تو اسلام سے ہی ہوتی ہے۔
💠 سنت دعوت تو سب سے قریبی رشتہ داروں سے شروع ہوتی ہے۔ جو قریب کی بجائے دور سے دعوت شروع کی جائے وہ تو سنت کی ضد یعنی بدعت ہوگی۔

