Tafseer Surah Al An'aam - Part 111 (Ramadan 1447)
Aayat: 74-81 Surah Al An'aam, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:
Video
Important Notes
🪷 درس قرآن سورۃ الانعام – اہم نکات🪷
(Dated 26/2/2026)
💠 یقین علم سے بڑھتا ہے، اور علم مشاہدے سے۔ اسی مشاہدے کو جدید زبان میں سائنس کہتے ہیں۔ لیکن مشاہدہ وہ جو علم کی نیت سے کیا جائے ورنہ تو سیر و تفریح میں بھی مشاہدہ ہوجاتا ہے۔
💠 یقین حاصل ہونے کے لئے صحیح علم کے ذرائع پر اعتماد (trust) کرنا بھی شرط ہے۔ جب آپ نے ذریعہ علم کو چھان پھٹک کے اختیار کرلیا تو اب اس پر شک نہ کریں۔ مائیکرو سکوپ کی مثال۔ ملیونئیر نوجوان علی بنات کی مثال جس نے کہا کہ۔
It took a man in a suit to tell me that I am going to die.
💠 علم کے فائدہ مند ہونے کے لیے ایک یہ کہ علم صحیح ذرائع سے حاصل کیا جائے۔ کیونکہ اصول یہی ہے کہ صحیح علم صحیح ذرائع سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ استثنائی صورت کبھی ہوسکتی ہے کہ غلط ذریعے سے کبھی کوئی صحیح بات پتا چل جائے۔ لیکن زندگی rules پر گزاری جاتی ہے exceptions پر نہیں
💠 صحیح علم سے بھی یقین کے حصول کا فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ حاصل ہو جائے تو اس کو قبول کرلیا جائے، ضد نہ کی جائے کہ میں نہ مانوں۔ یا کوئی عمل میں لانے والی بات ہے تو اسپر عمل کیا جائے۔ اسکو جلب منفعت اور دفع مضرت کہتے ہیں۔ یعنی جن باتوں کے فائدہ مند ہونے کا علم حاصل ہوا انکو جلب یعنی قبول کیا جائے اور جن باتوں کے نقصاندہ ہونے کا پتا چلا انکو دفع دور کیا جائے۔
💠 ہم اوپر سے جن کو حضرت کہتے ہیں اکثر انکی بات نہیں مان رہے ہوتے۔ بات ہم اپنے نفس کی مان رہے ہوتے ہیں جو ہمارا اصل حضرت ہوتا ہے۔
💠 کفر اور کافری سے بے زاری ایمان کی شرط ہے۔ اسکا متضاد رضامندی ہے۔ یعنی وہ بھی ٹھیک ہیں ہم بھی ٹھیک ہیں۔ یہ ایمان نہیں ہے۔ لکم دینکم ولی دین کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ البتہ کفر سے بغض و عداوت اللہ اور ایمان سے محبت کے درجے کے حساب سے ہوتی ہے۔ جتنی اللہ اور نبی کریم ﷺ پر ایمان یعنی اعتماد سے محبت زیادہ ہوگی اتنی ہی زیادہ کفر اور کافری سے بغض اور عداوت زیادہ ہوگی۔ and vice versa
💠 علماء حق کون ہوتے ہیں، جو کسی قسم کی علمی بدعت میں مبتلا نہیں ہوتے۔ نہ اس انتہا والی بدعت پر کہ مزار پرستی وغیرہ کریں نہ اس انتہا پر کہ جو بات اجماع سے امت میں ثابت ہے اسکا انکار کرنا شروع کردیں۔ یہ بھی علمی بدعت ہے۔
💠 جو علماء حق پاکستان بننے کے خلاف بھی تھے وہ بھی دو قومی نظریے کے خلاف نہیں تھے۔ یہ اس بات کے قائل نہیں تھے کہ قومیت کی اصل بنیاد دین اسلام نہیں ہوتا بلکہ خاندان یا وطن ہوتا ہے۔
💠 تعارف کے لئے خاندان قبیلہ کا نام لینا یا پوچھنا جائز ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے لتعارفوا ہی اس قبائلی تقسیم کی وجہ بتائی۔ لیکن عرب قبائل کا مزاج اسلام سے تبدیل ہوگیا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اپنا قبیلہ بتانے کی بجائے نحن قوم المسلمین جواب دیا۔ اس سے صحابہ کرام کی قبولیت حق کا پتا چلتا ہے کہ کیسے انہوں نے اپنے سوچ کا انداز ہی بدل لیا تھا اور اپنی ترجیہات ہی بدل دیں تھی۔

