Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 50

Class Date:30/03/2026

Aayat: 15-18 Surah Al Ma'idah, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:

Audio

To Download or increase speed click :

Slides

Important Notes

🕋 درسِ قرآن: سورہ المائدہ (آیات ۱۵ تا ۱۸) – ۳۰مارچ ۲۰۲٦

📍اللہ تعالیٰ نے کن دو کمالات کے ذریعے نبی کریم ﷺ کی نبوت کو ثابت کیا؟

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے آپ کو دو کمالات عطا فرمائے: پہلا علمی کمال اور دوسرا عملی اخلاقی کمال۔ ہمارے ذہن میں معجزات جیسے چاند کا دو ٹکڑے ہونا یا پتھروں کا بول اٹھنا کمالات سمجھے جاتے ہیں، لیکن یہ بعد کے معجزات ہیں۔ اصل کمالات آپ ﷺ کا علم اور عمل ہیں۔

📍ان دونوں میں سے بھی نبوت کی اصل دلیل کیا ہوتی ہے؟

نبوت کی اصل دلیل نبی کا کمال علم ہوتا ہے۔ عمل بھی تو علم کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے۔

📍دعوت کے کام میں نبی ﷺ کا طریقہ کار کیا ہے؟

دعوت کے کام میں نبی ﷺ کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے علم حاصل کیا جائے اور پھر اس علم پر عمل کیا جائے۔ دین کے ہر داعی کے لیے بھی یہ نہایت ضروری ہے۔

📍داعی کے نفس کی اصلاح کیسے ہوتی ہے؟ اپنوں اور گھر والوں سے (دین کی) بات کرنا مشکل کیوں ہوتا ہے اور اس کا آسان حل کیا ہے؟

داعی کے نفس کی اصلاح اپنے گھر والوں کو دعوت دینے سے ہوتی ہے، کیونکہ گھر والوں کو ہماری اصلیت کا علم ہوتا ہے۔ اسی لیے انہیں دعوت دینا مشکل ہوتا ہے اور وہ اس وجہ سے ہماری بات کو اہمیت نہیں دیتے۔
اس کا حل یہ ہے کہ پہلے انسان خود کو درست کرے، سچا اور اچھا بنے، پھر گھر والوں کو دعوت دے، اس کے بعد دوستوں، رشتہ داروں اور معاشرے کی طرف متوجہ ہو۔

📍اپنے خود ساختہ طریقوں سے دنیا میں دین کا غلبہ چاہنا، دراصل کیا ہے؟

اپنے خود ساختہ طریقوں سے دین کا غلبہ چاہنا دراصل دنیا کی محبت ہے۔ یہ سوچنا کہ پورا معاشرہ یکدم درست ہو جائے گا، ایک خام خیالی ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے خود کو درست کیا جائے، پھر گھر والوں پر، پھر دوستوں اور رشتہ داروں پر، اور پھر معاشرے پر محنت کی جائے۔

📍صراطِ مستقیم کس شرط کے ساتھ مشروط ہے؟
صراطِ مستقیم وہی نیکی کا راستہ ہوتا ہے جس پر انسان استقامت کے ساتھ چل سکے۔ چنانچہ اس کے حاصل ہونے کے لئے دین پر ثابت قدم رہنا شرط ہے، اور دین پر ثابت قدم ہونے کے لئے دین کے کام کرنے والوں کی مدد کرنا شرط ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:*اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ*
اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو جما دیگا۔ لیکن اللہ کو تو ہماری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں اس سے مراد اللہ کے دین کے کام کرنے والوں کی مدد ہے۔

📍اللہ تعالیٰ نے مسیح ابن مریم علیہ السلام کے”الہ” (خدا) نہ ہونے کے لیے کون سی ایسی منطقی دلیل استعمال کی جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا؟

اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب سے منطقی دلیل کے ذریعے فرماتے ہیں کہ اگر تم عیسیٰؑ ابن مریمؑ کو (معاذ اللہ) خدا سمجھتے ہو، تو کیا کوئی انہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر اللہ انہیں، ان کی والدہ کو اور زمین کے تمام انسانوں کو ہلاک کرنا چاہے؟
جب تم خود مانتے ہو کہ اللہ انہیں ہلاک کرنے پر قادر ہے، تو جسے کوئی دوسرا ہلاک کر سکتا ہو، وہ خدا کیسے ہو سکتا ہے؟

📍اللہ تعالیٰ کافروں سے ‘بلنڈر’ (بڑی فاش غلطی) کیوں کرواتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ کافروں سے بلنڈر کرواتے ہیں اور اپنے نبیوں کو فتح عطا فرماتے ہیں، خواہ وہ فکری و علمی فتح ہو یا دنیاوی۔ دنیاوی فتح ہر نبی کو نہیں ملی، لیکن عقلی، علمی اور فکری فتح ہر نبی کو ضرور ملی۔

📍کافروں کے خلاف اصل تدبیر کون کر رہا ہوتا ہے؟

کافروں کے خلاف اصل تدبیر اللہ تعالیٰ ہی کرتے ہیں، پہلے بھی ایسا ہی تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ اللہ کی مدد اسی وقت آتی ہے جب ہم اخلاص کے ساتھ اس کے دین کی مدد کریں، نہ کہ اپنی ذاتی مفادات کے لیے۔ اس کے لیے گناہوں، فحاشی اور بداعمالیوں کو بھی چھوڑنا ضروری ہے۔

📍اہل ایمان قرآن مجید پر کیسا یقین رکھتے ہیں؟

اہلِ ایمان (ایمانِ کامل) قرآن مجید پر ایسا یقین رکھتے ہیں جیسے انہوں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ سے پچھلی امتوں کے حالات سنے ہیں، اور ہمیں اپنی آنکھوں سے زیادہ اپنے نبی ﷺ کی بات پر یقین ہے۔

📍آخرت ‘تادیب’ (اصلاح یا سیکھنے) کا مقام کیوں نہیں ہے؟ آخرت کی سزا کا اصل مقصد کیا ہے؟
آخرت تادیب (اصلاح) کا مقام نہیں بلکہ دارالجزا ہے۔ اس لیے وہاں سزا کا مقصد اصلاح نہیں بلکہ عذاب دینا ہے۔

📍مسلمانوں کو (گناہوں کی وجہ سے) جہنم میں کیوں ڈالا جائے گا؟ ‘تزکیہ’ کا اصل مطلب کیا ہے؟

اگر کسی مسلمان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ تزکیہ (پاکیزگی) کے لیے ہوگا، کیونکہ اسے آخرکار جنت میں جانا ہے۔ گناہوں کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخلہ ممکن نہیں، اور تزکیہ کے عمل میں تکلیف ہونا فطری بات ہے۔

📍آج کے دور کے مسلمان کا ایک بڑا مغالطہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس مغالطے کے بارے میں قرآنِ عظیم الشان میں کیا فرمایا ہے؟ اور شیطان صرف کس بات پر راضی ہوتا ہے؟

آج کے دور کا بڑا مغالطہ اس آیت کو غلط سمجھنا ہے:*يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ*(وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے)
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ بغیر ایمان کے بھی سب کو بخش دے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ واضح فرما چکے ہیں کہ وہ شرک کو ہرگز معاف نہیں کریں گے۔ جبھی صرف ترجمے پر انحصار کر کے قرآن کو سمجھنا گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔ علم اور اہلِ علم سے دوری کی وجہ سے شیطان انسان کو غلط راستے پر ڈال دیتا ہے۔
شیطان اسی بات پر راضی ہوتا ہے کہ بنی آدم انسان کفر تک پہنچ جائے۔

WordPress Video Lightbox