Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 53
Aayat: 19 Surah Al Ma'idah, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:
Important Notes
🕋 درسِ قرآن: سورہ المائدہ (آیت ۱۹) – ۲۰ اپریل ۲۰۲۶
اس درس میں ہمیں اپنے دین کے بارے میں جن سوالات کے جواب اللہ کے فضل سے ملے:
📍 تورات اور انجیل میں اصل تحریف کیا ہوئی؟ کس دین کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے اور کس دین کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں ہوتی؟ دین کب فائدہ مند ہوتا ہے اور کب نقصان دہ ہو جاتا ہے؟
جواب
تحریفِ اصلی:
اگرچہ تحریر میں رد و بدل کو بھی تحریف کہا جاتا ہے، لیکن اصل تحریف احکامات میں ہوتی ہے، جو کہ تورات و انجیل میں ہوئی۔
دین کی نسبت:
جس دین میں رد و بدل نہ ہو، اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے، اور جس میں رد و بدل (تحریف) ہو جائے، اس کی نسبت انسانوں کی طرف ہو جاتی ہے۔ یعنی اب وہ اللہ کا دین نہیں کہلائے گا بلکہ انسانوں کا بنایا ہوا دین کہلائے گا۔
فائدہ مند اور نقصان دہ دین:
جب دین اپنی اصل حالت میں ہو تو فائدہ مند ہوتا ہے، اور جب تحریفات سے خراب ہو جائے تو نقصان دہ بن جاتا ہے۔ جس طرح اگر کوئی پھل سڑ جائے تو اس میں وٹامنز اور منرلز ہونے کے باوجود اسے کھانے سے بیماری کا خطرہ ہوتا ہے۔
📍 اللہ نے کس سورہ مبارکہ میں دونوں طرح کے دین کے لیے “دین” کا لفظ استعمال کیا؟
جواب:
قرآن مجید میں سورۂ کافرون میں ارشاد ہے:
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
یہاں “دینکم” کافروں کے دین کی طرف اور “دینِ” اللہ تعالیٰ کے سچے دین کی طرف اشارہ ہے۔
📍 اللہ تعالیٰ نے دین یا قرآنِ کریم کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ قرآن کی حفاظت کے وعدے کا اصل مطلب کیا ہے؟
جواب:
اللہ تعالیٰ نے دین اور قرآن کریم کی حفاظت کا جو ذمہ لیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ایک جماعت ہر وقت دینِ اصلی پر قائم رہے گی۔
دلیل (قرآن و حدیث):
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
“لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق…” (صحیح مسلم)
“میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اور غالب رہے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے۔”
“حافظون” سے مراد یہ ہے کہ الفاظ، معانی، مفہوم اور احکامات کی حفاظت قیامت تک ایک جماعت کے ذریعے ہوتی رہے گی، جو ان پر عمل بھی کرے گی اور اسے محفوظ بھی رکھے گی۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ تحریف کی کوششیں نہیں ہوں گی۔ کوئی بھی من گھڑت حدیث کی کتاب لکھ سکتا ہے یا جھوٹے دعوے ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا حقیقی محفوظ دین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
📍 بدعات کن شکلوں میں ہوتی ہیں؟ کیا فقط دین میں اضافہ ہی بدعت ہے؟
جواب:
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دین میں اضافہ ہی بدعت ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دین میں اضافہ اور کمی دونوں بدعت ہیں۔
📍 کیا تورات اور انجیل کے اصل نسخے موجود ہیں؟
جواب:
ان کتابوں کے اصل نسخے کسی نہ کسی صورت میں موجود رہے ہیں، لیکن عملی زندگی میں ان پر عمل نہیں کیا جا رہا۔
دلائل:
عقلی دلیل: یہود کے بعض مغیبات کے علم کی درستگی۔
نقلی دلائل:
ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے کہ تورات و انجیل کے اصل نسخے کہیں نہ کہیں موجود تھے۔
“يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ” انکے نسخے محفوظ تھے جبھی تو وہ ان سے پڑھ کے نبی کریم ﷺ کی علامات پہنچانتے تھے۔
سورت الانعام میں بھی آتا ہے کہ اہلِ کتاب کچھ حصے بیان کرتے ہیں اور کچھ چھپاتے ہیں۔
نوٹ: یہ نسخے عام لوگوں کی دسترس میں نہیں بلکہ محدود سطح پر موجود ہیں۔
📍 کتاب کی تبدیلی میں کون سی چیز زیادہ اہم ہے؟ ہماری نظر کس پر ہونی چاہیے؟
جواب:
الفاظ اہم ہیں، لیکن اصل اہمیت احکامات کی ہے۔ ہمیں اپنی توجہ احکامات پر عمل کی طرف دینی چاہیے۔
📍 ان سوالات سے اصل سبق
(Take Home Point)
کیا ہے؟
جواب:
اللہ کے احکامات کو اصل دین سمجھنا ضروری ہے۔
مسخ شدہ دین کو اسلام کہنے سے کوئی فائدہ نہیں، یہ خود فریبی ہے۔
مثال: پلاؤ کو بریانی کہنے سے وہ بریانی نہیں بن جاتا۔
📍 اس آیتِ مبارکہ میں رسول کی کون سی صفت بیان ہوئی ہے؟
جواب:
يُبَيِّنُ لَكُمْ
یعنی حق و باطل کو واضح کرنا۔ اس سے مراد علمی وضاحت ہے، نہ کہ عملی طور پر مجبور کرنا۔
📍 رسول کے ورثاء کا اصل کام کیا ہے؟
جواب:
رسول ﷺ کے ورثاء کا کام یہ ہے کہ دلائل کے ساتھ حق کو واضح کریں تاکہ لوگوں کے لیے عمل آسان ہو اور کنفیوژن ختم ہو۔
کسی کو زبردستی عمل کروانا ان کا کام نہیں۔
📍 بت پرستی کی سب سے انتہائی شکل کیا ہے؟
جواب:
نفس پرستی۔
📍 اہلِ مکہ کے ہاں کس چیز کی قدر تھی؟ آج ہم کیا کر رہے ہیں؟
جواب:
اہلِ مکہ کے ہاں نامور مگر بدعمل علماء کی قدر تھی۔
آج بھی ہم سوشل میڈیا کے مشہور مگر بے عمل علماء کو ترجیح دیتے ہیں۔
ہمیں اس روش کو غلط سمجھ کر توبہ کرنی چاہیے۔
اپنے کسی عمل پر سہارا ہی نہیں ہے
توبہ کیے بغیر گزارہ ہی نہیں ہے

