Tafseer Surah Al An'aam - Part 144
Aayat: 108-113 Surah Al An'aam, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:
Important Notes
🪷 Dars e Tafsir Surah Al An’am Ayaat 108-113 🪷
(Dated 11/5/2026)
صحابہ کرامؓ کی تعلیم و تربیت
⭐ صحابہ کرام نبیﷺ کی صحبت میں رہتے تھے، وہاں باقاعدہ لیکچرز نہیں ہوتے تھے بلکہ صحابہ کے ساتھ بات چیت ہوتی رہتی تھی۔
⭐ نصابِ تعلیم قرآن پاک ہوتا تھا۔
آج کے دور میں لیکچرز کی ضرورت
⭐ اگرچہ آج کے دور میں بھی صحبت والا علم موجود ہے لیکن نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ والا ماحول میسر نہیں ہے۔
⭐ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے academic / classroom lectures
کی ضرورت پڑتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سے کس چیز کی توقع رکھتے ہیں؟
⭐ اللہ تعالیٰ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کون بات سنتا ہے اور کون نہیں سنتا۔
⭐ دنیا کی جزا و سزا جزوی ہے، مکمل جزا و سزا تو آخرت میں ہی ملے گی۔
علم میں توجہ حاصل کرنے کے دو طریقے
⭐ غور سے سننا۔
⭐ غور سے پڑھنا۔
صرف سننا اور پڑھنا کیوں اہم ہے؟
⭐ ❓ اس کی کیا وضاحت ہے کہ صرف یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کون غور سے سنتا ہے اور غور سے پڑھتا ہے جبکہ یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ کون عمل کرتا ہے؟
⭐ اگر سننے کا طریقہ صحیح ہوگا تو عمل کی توفیق بھی مل جائے گی، یعنی ہمارا کام غور سے سننا ہے پھر اللہ تعالیٰ عمل بھی کروا دیں گے۔
سننے کی اہمیت
⭐ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ سننے کا تذکرہ رکھا ہے، (کہ سنتے نہیں ہیں، سننا چاہیے وغیرہ)۔
⭐ اہم نکتہ: ہم صرف زندہ انسانوں کی ہی آواز سن سکتے ہیں، مردہ انسانوں، اصحاب القبور کی نہیں۔
⭐ اللہ تعالیٰ تو زندہ ہیں، حی القیوم ہیں لیکن اللہ کی آواز بھی ہم اس دنیا میں نہیں سن سکتے۔
⭐ اس لیے صرف اور صرف زندہ انسانوں کو ہی سنا جاسکتا ہے یعنی جو ہمارے دور ہمارے زمانے میں زندہ ہیں۔ چنانچہ واضح ہوا کہ یہ جو قرآن مجید میں بار بار سننے کا تذکرہ ہے تو اصل میں یہ بار بار ہمیں صحبت کی اہمیت کی یاد دہانی بھی ہے۔ کیونکہ صحبت بھی صرف زندہ انسانوں کی ہی اختیار کی جاسکتی ہے۔
پڑھنے کی اہمیت
⭐ جب پڑھنے کی بات کی جائے گی تو اس میں اللہ رب العزت کا کلام (قرآن پاک) اور نیک بندوں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھنا شامل ہیں۔
🤝 صحبتی علم کسے کہتے ہیں؟
⭐ جو انسان ہمارے درمیان زندہ اور موجود ہیں جب انہیں غور سے سنیں گے تبھی علم حاصل ہوگا، اسے ہی صحبتی علم کہتے ہیں۔
علم حاصل کرنے کے بنیادی ذرائع
⭐ ▪️ سب سے اہم اور primary طریقہ، صحبت اختیار کرنا اور غور سے سننا ہے۔
⭐ ▪️ دوسرا، Secondary طریقہ، کتابیں پڑھنا۔
♦️وَنُقَلِّبُ أَفْـِٔدَتَهُمْ وَأَبْصَـٰرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا۟ بِهِۦٓ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ وَنَذَرُهُمْ فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ♦️
🔷تقلیب: Timestamp: 32:00🔷
-تقلیب: پھیرنا
-” ہم پھیریں گے ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو” – یہاں معنوی پھیرنا مراد ہے، جو اندر سے ہوتا ہے
-معنی: توفیق چھین جانا؛ حق کو حق سمجھنے کی توفیق، اور جو آنکھوں کے سامنے ہے اُس کو دیکھنے اور سمجھنے کی توفیق
♦️ وَ لَوۡ اَنَّنَا نَزَّلۡنَاۤ اِلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ وَ کَلَّمَہُمُ الۡمَوۡتٰی وَ حَشَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ کُلَّ شَیۡءٍ قُبُلًا مَّا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَجۡہَلُوۡنَ ﴿سورہ الانعام ۱۱۱}♦️
Timestamp: 30:49
🔸سوال: جب کچھ سامنے آجاتا ہے، جیسے اگر جنت اور جہنم دکھا دی گئیں تب تو ضد بالکل ختم ہو جانی چاہیے۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ کیوں فرماتے ہیں کہ اگر یہ سب کچھ ان کے سامنے آ جائے یہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے؟
🔸جواب: اصل میں ہم بھول جاتے ہیں کہ ایمان کیا ہے- ایمان جنت جہنم وغیرہ کے وجود کو ماننا نہیں ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے اور آپ کی تمام باتوں پر اعتماد کرنے کو کہتے ہیں۔ مسئلہ جنت اور جہنم کو ماننے کا نہیں تھا۔ وہ تو پہلے ہی ان سب باتوں کو مانتے تھے۔ مسئلہ تو نبی کریم ﷺ کو ماننے کا تھا۔
Timetamp: 45:25
🔸 سوال: ایک طرح سے تو وہ نبی کریم ﷺ کی بات کو مانتے تھے؛ یعنی فرشتے، جنت، جہنم اور اللہ کے وجود کو تو وہ مانتے تھے۔ تو پھر نبی کریم ﷺ کی کونسی بات تھی جس کو وہ نہیں مانتے تھے؟
🔸جواب:
The problem was not about believing in existence of all this. The problem was following Nabi Kareem (saw)’s orders, meaning
احکامات
یعنی جو نبی کریم ﷺ نے فرمایا مت کرو، اُس کو نہ کرو، اور جس چیز کو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کرو، اُس کو کرنا ہے؛ یہی ایمان کی اصل ہے
اور یہ نبی کی شخصیت کو مانے اور اس پر اعتماد کے بغیر ہو نہیں سکتا۔ گویا جس کے نزدیک احکامات اہم نہیں اسکے نزدیک نبی کی شخصیت اہم نہیں۔
🔷وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَجۡہَلُوۡنَ🔷
🔸 سوال: ان کے رویے کو جہالت سے تعبیر کیوں کیا؟
🔸 جواب: کیونکہ اگر ماننے کا ارادہ ہی نہیں تھا لیکن پھر بھی نشانیاں دکھانے کی demand یا فرمائش کرتے ہیں، یہ تو بالکل جہالت والی بات ہے۔

