Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 56
Aayat: 20 -26 Surah Al Ma'idah, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:
Important Notes
سورۂ المائدہ (آیات 20 تا 26)
📆 Date: 11 May, 2026
اس درس میں ہمیں اپنے دین کے بارے میں جن سوالات کے جواب اللہ کے فضل سے ملے
سوال: بنی اسرائیل کی غلامی اور عام غلامی میں کیا فرق تھا؟
جواب: بنی اسرائیل کی غلامی انتہائی اچھوتی تھی۔ وہ فرعون کے ذہنی غلام تھے۔ وہ فرعون کی دنیوی ترقی، طاقت اور تہذیب سے اس قدر مرعوب تھے کہ اس کی محبت اور اطاعت میں گرفتار ہوگئے تھے
عام غلامی جسمانی غلامی ہوتی ہے جس میں انسان کو جسمانی تشدد اور جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی مثال ماضی قریب میں افریقیوں کی غلامی ہے جنہیں امریکی زبردستی قید میں رکھ کر کام لیتے تھے، اور بھاگنے پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ مکہ مکرمہ کے ابتدائی دور میں کفار بھی ایمان لانے والے غلاموں پر جسمانی ظلم کرتے تھے۔ جیسے حضرت بلالؓ۔
بنی اسرائیل کو بھی ظاہری آزادی مل گئی تھی مگر پھر بھی انکی ذہنی غلامی اتنے شدید تھی کے وہ اس میں جوں کے توں گرفتار رہے۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے ایسی غلامی سے نجات کا کیا طریقہ بتایا ہے؟
جواب: ذہنی غلامی سے نجات صرف و صرف سچی توبہ، ندامت اور اللہ سے معافی مانگنے سے ممکن ہے۔ توبہ زبردستی مسلط نہیں کی جاسکتی بلکہ انسان کو خود اپنے گناہوں کا احساس کرکے رجوع الی اللہ کرنا ہوتا ہے۔
سوال: بنی اسرائیل کی اس وقت کی غلامی اور آج کی ہماری غلامی میں کیا مماثلت ہے؟
جواب: آج ہماری غلامی بھی بنی اسرائیل کی طرح ہی کی ذہنی غلامی ہے۔ 1947 میں ہمیں ظاہری آزادی تو مل گئی، مگر ہم مغربی تہذیب، تعلیمی نظام اور ذرائع ابلاغ سے مرعوب اور اسکی محبت کا شکار ہیں۔ انکی ہر بات کو بلا سوچے سمجھے قبول کرنا ذہنی غلامی کی علامت ہے۔
آپ ﷺ نے غلامی کو یکدم ختم نہیں فرمایا کیونکہ اس بارے میں اللہ کا حکم تدریجاً آیا، لیکن اسلام نے غلاموں کے ایسے حقوق بیان کیے اور ان کی آزادی کی ایسی فضیلت بتائی کہ صحابہ کرامؓ کثرت سے غلام آزاد کرنے لگے۔ چنانچہ ثابت ہوا کہ غلامی سے نجات ایک تدریجی عمل ہے۔ یہ ذہن سازی یعنی تعلیم کے ذریعے سے ہی کیا جاسکتا ہے۔
سوال: دینِ اسلام اصل میں ہمیں کس کی غلامی سکھاتا ہے؟
جواب: دینِ اسلام بھی غلامی ہی سکھاتا ہے کیونکہ اسلام دین فطرت ہے۔ اور یہ خالق نے ہماری فطرت میں گوندھ دیا ہے کہ ہم کسی نہ کسی کے غلاف بن کر رہیں۔ چنانچہ اسلام کوئی غیر فطری بات نہیں سکھاتا بلکہ صرف ہمیں نفس اور شیاطین (من الانس و الجن) کی غلامی سے نکل کے پاک پروردگار کی غلامی میں جانا سکھاتا ہے۔ اسی کو تو عبودیت یعنی بندگی کہتے ہیں۔
اہم نکتہ: کسی کی بھی ذہنی غلامی بالآخر اسکی شدید محبت کا باعث بنتی ہے۔ جب ہم اللہ کی غلامی یعنی اسی کی اطاعت کریں گے تو ہمیں اسی کی محبت ملے گی۔
سوال: یہاں “طبعی خصوصیات” اور طبعی بگاڑ سے کیا مراد ہے؟
انسان میں طبعی بگاڑ کن وجوہات سے پیدا ہوتا ہے؟
آج کے دور میں اس کی مثالیں کہاں نظر آتی ہیں؟
جواب: مطلب یہ ہے کہ انھوں اپنی خواہش و نفس پرستی کی وجہ سے اپنی اچھی فطرت کو مسخ کر لیا تھا۔ فطرت سلیمہ والا وعدہ پورا کرتا ہے، سچ بولتا ہے، باحیاء ہوتا ہے۔ انہیں universal virtues بھی کہتے ہیں۔ لیکن بنی اسرائیل نے اللہ پاک کی طرف سے اتنی واضع کامیابیوں اور نعمتوں کے باوجود وہ وعدے پورے نہیں کیے جو اللہ سے کئے تھے۔
آج کے دور میں یورپ اور امریکہ والوں کی فطرت مسخ ہوگئی ہے انکو بے حیائی اچھی لگتی اور حیاء بری لگتی ہے۔
اہم نکتہ: خواہش و نفس پرستی انسان کی فطرت سلیمہ کو مسخ کر دیتی ہے۔
سوال: “یَتِيهُونَ” کا کیا معنی ہے؟اور یہ لفظ ہمارے موجودہ حالات کی کس طرح ترجمانی کرتا ہے؟
اس کیفیت کو کیا کہا جاتا ہے؟
جواب: لفظ یَتِيهُونَ کا عربی زبان میں بنیادی معنی حیران ہونا، بھٹکنا یا راستہ بھول جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا کے طور پر وادیِ تِیہ میں چالیس سال تک بھٹکائے رکھا۔ وہ روزانہ مصر جانے کی کوشش کرتے تھے، مگر شام تک پھر وہیں پہنچ جاتے جہاں سے چلے ہوتے تھے۔
ہمارا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ایک سیاسی جماعت دوسری کو الزام دیتی ہے، پھر دوسری آ کر پہلی کو موردِ الزام ٹھہراتی ہے۔ یعنی ایک ہی دائرے میں گھومتے رہنا۔ یہ محض کسی سیاسی جماعت کا کیا دھرا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہوتا ہے۔ یتیہون کا لفظ پاکستان کے حالات پر بھی عین صادق آتا ہے۔
اہم نکتہ: جب انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ پاک دنیا میں بطورِ عذاب اسے بھٹکا دیتے ہیں۔
سوال: انسان کی کون سی خصلت توبہ میں رکاوٹ بنتی ہے، یہاں تک کہ مرتے وقت بھی انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے؟
جواب: ضد اور انانیت کے سوا کوئی چیز توبہ سے رکاوٹ نہیں بنتی۔ جس کا نفس بہت سخت ہو جائے، وہ توبہ نہیں کرتا۔
سوال: 40 سال تک بھٹکنے کے باوجود انہوں نے توبہ کیوں نہیں کی؟ یعنی ارض مقدسہ جانے کے لئے تیار کیوں نہیں ہوئے؟
جواب: کیا ابو جہل نے توبہ کی تھی؟ جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے مارنے کے لیے تلوار چلائی تو اس بدبخت نے یہ کہا کہ میری گردن اونچی کاٹنا، تاکہ جب میرا سر دوسرے سروں کے ساتھ رکھا جائے تو اونچا دکھائی دے۔ موت کی حالت میں بھی وہ توبہ نہ کر سکا۔ اسی طرح بنی اسرائیل نے بھی یتیہون کی سزا کے باوجود توبہ نہ کی۔ انکو تو ابو جہل کی سزا یعنی موت سے بہت کم سزا ملی تھی۔
اہم نکتہ: کسی شاعر نے خوب فرمایا ہے
نہنگ و اژدہا و شیرِ نر مارا تو کیا مار
بڑے موذی کو مارا، نفسِ امّارہ کو گر مارا
نفس ایک نہایت موذی چیز ہے۔ جسے اپنے نفس کو قابو کرنے اور مارنے کی فکر ہو جائے، اسے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اللہ کی مدد کے بغیر نفس پر قابو پانا ممکن نہیں۔
سوال: گزشتہ تیس یا چالیس سالوں میں برصغیر میں غلامی کی کون سی نئی صورت سامنے آئی ہے، جو حقیقت میں دین تو نہیں، مگر ہم اسی پر فریفتہ ہیں؟
یہ صورت کس طرح بنی اسرائیل کی حالت سے مشابہت رکھتی ہے؟
جواب: اس سے پہلے والے دور میں دین عام نہیں تھا۔ دینداری مخصوص طبقوں تک محدود تھی؛ جیسے مدارس، مساجد، خانقاہوں اور تبلیغی جماعتوں میں۔ عام مسلمان کھل کر انگریز کی محبت میں گرفتار تھے اور اس کا اظہار بھی علانیہ کرتے تھے۔ اب پچھلے تقریباً چالیس سالوں میں وہی لوگ، جو انگریزوں کی محبت کا کھل کر اظہار کرتے تھے، ان کی اولاد ظاہراً دیندار ہو گئی ہے۔ یعنی اپنے من پسند دین پر چلنے لگے ہیں۔ جو دین میں خود کو اچھا لگے، وہی کرنا ہے اور اپنی اسی دینداری پر فریفتہ ہونا ہے۔ جبکہ دین دراصل اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر بلا چون و چراں کامل اطاعت و اتباع کا نام ہے، جو نبی علیہ السلام کے واسطے سے ہمیں ملے ہیں۔ بنی اسرائیل بھی اپنی خواہشات کے مطابق دین پر چلتے تھے اور نبی کی اتباع میں شرائط لگاتے تھے۔
اہم نکتہ: ہمیں اپنے من مرضی والے دین سے توبہ کرکے اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو علماء و مشائخ سے سیکھ کر انکی کامل اتباع میں اللہ کی اطاعت کرنی ہے۔
سوال: مرعوبیت پر مبنی محبت کس طرح کی ہوتی ہے؟
اس طرح کی محبت میں ہم کس طرح گرفتار ہیں؟
جواب: مرعوبیت محبت کی اعلی قسم ہوتی ہے۔ برابر والوں کی جو محبت ہوتی ہے وہ تو شفقت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جنکو بڑا سمجھتے ہیں انکی محبت میں مرعوبیت ہوتی ہے۔ اللہ سے محبت مرعوبیت والی محبت کی بہترین مثال ہے۔ اس محبت کا کوئی بہت زیادہ اظہار بھی ضروری نہیں ہوتا۔ یہ زیادہ تر دل ہی میں ہوتی ہے، تھوڑا بہت اظہار بھی ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی جب ہم مغرب کو بڑا سمجھتے ہیں تو اس کی مرعوبیت بھی دل میں ہوتی ہے اگرچہ کے ظاہر میں اسکی نفی ہورہی ہوتی ہے۔
سوال: قرآنِ مجید میں “مُلُوكًا” کا لفظ استعمال کرنے کی کیا حکمت ہے؟
جواب: قرآن عظیم الشان میں اللہ تعالیٰ کا ایک ایک لفظ گہرے معانی رکھتا ہے۔ اچھی حکومت اور بادشاہت کو پوری قوم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے ذریعے تمام بنی اسرائیل کو مخاطب فرمایا ہے۔

