Log Asan Samjhte Hain Musalman Hona
Surah Al An'aam 108-113:
Important Notes
🌷 *Recording -Weekly Majlis Bayan* 🌷
♻️ *Date* : 22nd May 2026
🌼 *لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا* 🌼
(درس قرآن سورۃ الانعام آیات ١٠٨-١١٣)
_Log Asan Samjhte Hain Musalman Hona_
(Dars e Qur’an Surah al-An’aam Ayaat 108-113)
*اس تربیتی درس قرآن میں زیر بحث آئے کچھ نکات:*
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً (البقرۃ: ٢٠٨)
اے ایمان والو! اسلام میں *پورے کے پورے* داخل ہو جاؤ
یہ شھادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
💧 دین کا اصول ہے کہ جو کام خود کرنا جائز نہیں، اس کا سبب اور ذریعہ بننا بھی جائز نہیں۔ جس طرح ثوابِ جاریہ ہوتا ہے اسی طرح گناہِ جاریہ بھی ہوتا ہے۔ آج کے دجالی دور میں ہماری انگلیوں کی نوک پر گناہِ جاریہ کے بے شمار اسباب موجود ہیں۔ (ایک send بٹن کی شکل میں) اس وجہ سے گناہوں کے دفتر جمع ہوتے جاتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا۔
💧 بزرگوں اور والدین کی موجودگی صرف انکی خدمت کے ذریعے اجر کا سبب نہیں بلکہ انسان کے لیے بےشمار مسائل سے ڈھال بھی ہوتی ہے جن کا ہمیں شعور بھی نہیں ہوتا۔ بسا اوقات انسان بہت سے لوگوں کی توقعات سے انکی موجودگی کی برکت سے محفوظ رہتا ہے۔ جیسے بار بار سفر کرنا۔ سفر بذاتِ خود عذاب کا ایک حصہ ہے۔ اس میں انسان دوسروں کا تابع بھی بن جاتا ہے۔
💧 لندن کے ٹریفیلگر اسکوائر میں افطاری کے بعد اذان دی گئی تو اعتراض کیا گیا کہ اذان کے الفاظ میں دوسرے مذاہب کی نفی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض مسلمانوں نے جواب میں یہ کہا کہ یہ بھی دوسرے مذاہب کی طرح محض expression of faith ہے۔ جبکہ غیر مسلم کہہ رہے تھے کہ آپ دوسرے ادیان کی نفی کر رہے ہیں جو ہمارے ملک میں جائز نہیں۔ حالانکہ یہی تو ہمارے دین کی اصل ہے۔ تو بہت سے غیر مسلم آج کے دور میں ہمارے دین کو بہت سے مسلمانوں سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔
💧 ایسے حالات پر علامہ اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا:
؎ تجھے تہذیبِ حاضر نے عطا کی وہ آزادی
کہ ظاہر میں تو آزادی، باطن میں گرفتاری
تو اے مولائے یثربؐ آپ میری چارہ سازی کر
میری دانش ہے افرنگی، میرا ایماں ہے زنّاری
علامہ اقبالؒ نے یہ اشعار اس وقت کہے جب ہمیں ظاہری آزادی بھی حاصل نہ ہوئی تھی کیونکہ انکا تو انتقال 1938 میں ہوگیا تھا۔ یعنی ہم 1947 سے پہلے ہی آزادی کے فریب میں مبتلا ہوچکے تھے۔ چناچہ انگریز کی موجودگی میں ہی ہمیں جو چند ظاہری اعمال کرنے کی اجازت ملی ہوئی تھی اسکو ہم نے مکمل دینی آزادی سمجھنا شروع کردیا تھا۔ ہمیں اپنی فکری اور نظریاتی غلامی کا احساس بھی نہ رہا تھا۔ اسی کو تو دجل کہتے ہیں۔
💧 ہماری ظاہری آزادی درحقیقت فکری غلامی ہے۔ اسلام حقیقی آزادی صرف توحید کے ذریعے دیتا ہے، جسکا مطلب شرک کی مکمل نفی ہے۔ اس کے بغیر توحید نہیں ہوسکتی۔ مگر ہم نے کلمۂ توحید کو محض پڑھ پڑھ کے ثواب حاصل کرنے کی چیز سمجھ لیا ہے اور توحید کے بغیر ہی دین کو مکمل سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ اسکے بغیر تو دین بالکل کھوکھلا ہوتا ہے۔
💧 کفار ابو طالب کے پاس آئے تاکہ ان کے ذریعے نبی کریم ﷺ سے کوئی سمجھوتہ کر لیا جائے کہ آپ ان کے معبودوں کو برا نہ کہیں، یعنی ان کی اصلاح چھوڑ دیں۔ جب ابو طالب نے یہ مطالبہ نبی کریم ﷺ کے سامنے رکھا تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ تم صرف “لا إله إلا الله” کہہ دو تو تمہیں دنیا کے خزانے بھی مل جائیں گے۔ مشرکینِ عرب بخوبی جانتے تھے کہ اس کلمے کو کہنے کے بعد انکو توحید کو اپنانا بھی پڑے گا اور وہ اس کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ کلمہ نبی کریم ﷺ سے اپنی غلطیوں کی اصلاح کروانے کا بھی پیش خیمہ تھا جو انسانی نفس پر سب سے زیادہ بھاری چیز ہے۔ لیکن اسی سے تزکیہ نفس ملتا ہے اور انسان صحیح معنوں میں موحّد مسلمان بنتا ہے۔
💧 فتنۂ دجال کی بنیادیں چار سو سال پہلے رکھی جاچکی ہیں اور اس کی شدت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ حدیث میں ظہورِ دجال کے زمانے کے دنوں کا ذکر آیا ہے: ایک دن سال کے برابر، دوسرا مہینے کے برابر، تیسرا ہفتے کے برابر، اور باقی دن صحابۂ کرامؓ کے دنوں جیسے ہوں گے۔ اسی لیے حدیث میں “كأيامكم” فرمایا گیا۔ صحابۂ کرامؓ کا دن تو فجر سے شروع ہو کر مغرب پر ختم ہو جاتا تھا۔ پھر رات کی طرف تبدیلی شروع ہو جاتی تھی، اور عشاء کے بعد وہ جلد سوجاتے تھے تاکہ تہجد ادا کر سکیں۔ تو بظاہر حدیث سے ایسا لگتا ہے کہ دجال کے اس دنیا میں باقی ماندہ 37 دن اسی شکل کے ہونگے۔
💧 تزکیۂ نفس کا مطلب نفس کو نچوڑ کے پاک کرنا ہے۔ جو شخص اہل اللہ کی صحبت میں رہ کر اپنے نفس کو پامال کر لیتا ہے وہی تزکیہ پاتا ہے۔ قرآنِ کریم نے فلاح اور کامیابی کو تزکیہ کے ساتھ جوڑا ہے، محض علم یا عمل کے ساتھ نہیں۔ علم حاصل کرلینے اور اعمال کرلینے کے بعد بھی انسان گمراہی کی طرف پلٹ سکتا ہے، لیکن تزکیہ کے بعد نہیں۔ اسی لئے مشائخ نے فرمایا “الفانِیُ لا یُرَدُّ”۔ فانی لوٹ نہیں سکتا۔ مشائخ کے اس قول پر دلیل قرآن مجید کی آیات سے ملتی ہے۔
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّى﴾
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا﴾
﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ﴾ سورہ مؤمنون کی اس آیت سے لگتا ہے کہ جیسے محض ایمان لانا ہی کافی ہے۔ لیکن اس کے فورا بعد کی آیات میں ایمان والے کی جو کیفیات بیان کی گئی ہیں وہ تزکیہ کی طرف ہی دلالت کرتی ہیں۔ کیونکہ تزکیہ یافتہ ہی ان صفات کا حامل ہوسکتا ہے۔

