Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 59

Class Date:01/06/2026

Aayat: 20 -26 Surah Al Ma'idah, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:

Audio

To Download or increase speed click :

Slides

Important Notes

🕋 اہم نکات درسِ تفسیر القرآن (سورۃ المائدہ، آیات 20 تا 26)

بتاریخ 1 جون 2026

سوال: بنی اسرائیل کے وہ دو افراد جن پر اللہ تعالیٰ نے خاص فضل فرمایا تھا، انہوں نے ایسا کیا عمل کیا تھا جس کی وجہ سے وہ اس فضل کے مستحق بنے؟ نیز کون سی غلطی ہماری نسبت لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے؟

جواب: بنی اسرائیل کے تمام اشخاص پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تھیں۔ مثلاً سب کے پاس عقل تھی، ہاتھ پاؤں کی نعمت تھی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انکو وقت کے دو نبیوں حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ کی صحبت و معیت بھی حاصل تھی۔ پھر بھی صرف دو اشخاص ایسے تھے جنہوں نے حضرت موسیٰؑ کی بات مانی، جبکہ باقی سب نے اس کے خلاف عمل کیا۔ یہ یقیناً ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ لیکن ان کا وہ عمل جو اسباب کے درجے میں اس فضل کی وجہ بنا یہ تھا کہ انہوں نے اپنے شیخ، یعنی حضرت موسیٰؑ سے اپنی نسبت کو مضبوط کرنے پر محنت کی تھی، جسے ہم اوپر والی نسبت یا “ورٹیکل نسبت” بھی کہ سکتے ہیں۔ ان کی نسبت اپنی قوم کے دوسرے افراد، دوست رشتہ داروں سے بھی تھی، جسے ہم “ہوریزنٹل نسبت” کہ سکتے ہیں، جو رکھنا بھی یقینا دین میں جائز ہے۔ لیکن چونکہ ان کی ورٹیکل نسبت، ہاریزنٹل نسبت سے زیادہ مضبوط تھی اس لئے انہوں نے سیدنا موسیٰؑ کی بات مان کر کسی سے قوم عمالقہ کی شان و شوکت کے بارے میں کچھ نہ کہا۔ اسی عمل کی وجہ سے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے اپنے فضل سے امتحان کے وقت ان کی حفاظت فرما دی، اور یہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے غضب سے محفوظ ہو گئے۔ جب کہ اس کے برعکس جو باقی دس سردار تھے انکے عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکی ہوریزونٹل نسبت انکی ورٹیکل نسبت سے زیادہ مضبوط تھی۔ اسی لئے انہوں نے موسیٰؑ کی بات مان کر قوم عمالقہ کے حالات کو اپنی قوم سے مخفی رکھنے کی بجائے سب کے ساتھ اپنے تعلقات نبھانے کو زیادہ ترجیح دی اور بات آگے پھیلادی۔ چنانچہ ہم بھی اگر اپنی ہوریزونٹل نسبت پر تو محنت کریں، لیکن ورٹیکل نسبت پر محنت ہی نہ کریں یا کم کریں، تو شیطان اسی بظاہر جائز چیز کو استعمال کرکے ہماری اپنے بڑوں سے نسبت کو توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

اہم نکتہ: مرید کو اپنے شیخ کی صحبت کا فائدہ بھی اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنی ورٹیکل نسبت کو مضبوط کرنے کی محنت کرتا ہے۔ ہوریزنٹل نسبت نیک لوگوں کے ساتھ بنانا بھی دوسرے درجے میں ایک اچھی بلکہ قابل تعریف چیز ہے۔ لیکن ہمیں اپنی ورٹیکل نسبت کو ہاریزنٹل نسبت سے زیادہ مضبوط بنانا ہے (اللہ سے اسکی مضبوطی کی دعا مانگ کر اور اسکے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کرکے)۔ شیطان ورٹیکل نسبت کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لئے موقع ملے تو مریدوں کی آپس کی باتوں کے ذریعے سے ہی مرید کے دل میں شیخ کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس مشکل امتحان کے وقت ورٹیکل نسبت کی مضبوطی مرید کی حفاظت کرتی ہے۔ ورنہ یہ نسبت ٹوٹ جاتی ہے اور شیطان اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

سوال: جب کوئی حکومت کسی جسمانی ڈاکٹر (طبیب) کو لوگوں کے علاج کے لیے کسی مقام پر تعینات کرتی ہے تو اسے کن سہولیات اور کس نوعیت کی مدد کے ساتھ بھیجتی ہے؟

جواب: جب کوئی حکومت کسی جسمانی ڈاکٹر کو لوگوں کے علاج کے لیے کسی مقام پر تعینات کرتی ہے تو اس ڈاکٹر کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتی، بلکہ اسے تربیت دیتی ہے، ایم بی بی ایس کی سند دلواتی ہے، سینئر ڈاکٹروں کے تحت پریکٹس کرواتی ہے اور ضروری آلات و سہولیات فراہم کرتی ہے جن سے وہ عوام کے امراض کی صحیح تشخیص اور علاج کرسکے۔ اگر اچھی حکومت ہو تو وہ ڈاکٹر کو اسٹیتھوسکوپ کے علاوہ سی ٹی اسکین، ایم آر آئی وغیرہ کی مشینیں جیسے تشخیصی آلات (Diagnostic Equipment) بھی دے کر بھیجتی ہے۔ اور اگر بہت اچھی حکومت ہو تو پورا ہسپتال ہی قائم کر کے بھیجتی ہے تاکہ مریضوں کا علاج بہتر اور مکمل طور پر ہو سکے۔

سوال: جب اللہ تعالیٰ کسی روحانی معالج (یعنی شیخ) کو لوگوں کی اصلاح اور علاجِ باطن کے لیے بھیجتے ہیں تو ہمارا اس کے ساتھ کیا رویہ ہونا چاہیے؟ اللہ تعالیٰ ان کی کس طرح مدد فرماتے ہیں؟ اور حقیقی علمِ کامل کس کے پاس ہے؟

جواب: جب ایک دنیوی حکومت اپنے بیمار عوام کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے ڈاکٹر کو تربیت اور ضروری سہولیات کے ساتھ بھیجتی ہے، تو پھر اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر نہایت شفیق و مہربان ہیں، اپنے بندوں کی روحانی بیماریوں کے علاج کے لیے کسی شیخ طریقت کو بغیر تیاری اور مدد کے کیسے انکے درمیان بھیج سکتے ہیں۔ بلکہ وہ بھی خوب اچھی تربیت، صلاحیتوں اور اپنی خاص مدد کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا نظام ریئل ٹائم چلتا ہے۔ جس وقت جس قسم کا مریض ہوگا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوگا اور اس روحانی ڈاکٹر کے دل میں یہ بات ڈال دی جائے گی کہ اس مریض کو کیا بیماری ہے، اس کا علاج کیسے کرنا ہے، اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ مریض کے اندر اصل میں کیا چل رہا ہےجو کہ وہ اپنی زبان سے بیان نہیں کر رہا۔ جبھی حضرت مرشدِ عالم رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر مرید 420 ہوتا ہے تو شیخ 840 ہوتا ہے۔ اس میں شیخ کا اپنا کوئی کمال نہیں ہوتا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب حقیقتِ حال سے واقف ہیں۔ جسکو روحانی بیماریوں سے شفاء دینا چاہتے ہیں اسکے احوال شیخ صاحب پر کھول دیتے ہیں تاکہ وہ اچھے سے علاج کرسکے۔ حقیقی علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو ہمارا پروردگار ہے۔ شیخ اللہ تعالیٰ کا کام کر رہے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے ان کی رہنمائی فرما رہے ہوتے ہیں۔

سوال: ایک مریض یا مرید کا اپنے معالج یا مرشد کے ساتھ کیا رویہ ہونا چاہیے؟ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا کیا اصول ہے؟

جواب: ایک مریض یا مرید کا اپنے معالج یا مرشد کے ساتھ یہ رویہ ہونا چاہیے کہ میرے شیخ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شیخ کے واسطے سے میرا علاج کرنا ہے، اور یہاں احکم الحاکمین خود اس معاملے میں شامل ہیں۔ اس لیے ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور شیخ کی اطاعت کرنی چاہیے۔ اس بارے میں اصول یہ ہے کہ جتنی بڑی نعمت ہوتی ہے، اس کی شکرگزاری پر ثواب اور جزا بھی اتنی ہی زیادہ ملتی ہے، اور اس کی ناشکری پر سزا بھی اتنی ہی سخت ہوتی ہے۔ اگر ہم شیخ والی نعمت کی قدر کریں گے تو ہمیں وہ جزا ملے گی جو کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی جس کو اللہ نے یہ نعمت نہیں دی، اور اگر ہم اس نعمت کی ناقدری کریں گے تو ہمیں سزا بھی اسی قدر زیادہ ملے گی۔

اہم نکتہ: جس انسان کو اللہ نے شیخ والی نعمت عطا فرما دی ہو، اسے اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور اس سے اپنی اصلاح کروا لینی چاہیے۔ یہی اس نعمت کی قدر دانی ہے۔ اگر اس معاملے میں کوتاہی، یا مکاری سے کام لیا گیا تو نعمت کی ناقدری کی وجہ سے اس کی سزا ان لوگوں سے زیادہ ہو سکتی ہے جنہیں یہ نعمت حاصل ہی نہیں ہوئی۔

سوال: روحانیت کیا ہے؟ روحانیت کا تعلق کس کے ساتھ ہے؟ اور ہمارا اصل مولا کون ہے اور کافروں کا مولا کون ہے؟

جواب: روحانیت کسی جادو ٹونے، یا کچھ جادوئی الفاظ کے پڑھنے، یا خاص حرکات کرنے کا نام نہیں ہے۔ روحانیت اصل میں اللہ تعالیٰ سے تعلق کا نام ہے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ سے رجوع کر لیں تو ہمیں فتح حاصل ہو جاتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنین کے مولا ہیں، اور کافروں کے لیے کوئی مولا نہیں ہے۔ اور اس کی دلیل قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَىٰ لَهُمْ

ترجمہ: یہ اس لیے کہ اللہ ایمان والوں کا مولا (مددگار / سرپرست) ہے، اور کافروں کا کوئی مولا نہیں ہے۔

سوال: اعتماد اور یقین کی کیفیات میں کیا باہمی رشتہ ہے؟

جواب: جب کسی کا اعتماد نبی پر ہوتا ہے تو وہ مومن کہلاتا ہے۔ جب کسی کا اعتماد یقین کے درجے تک پہنچ جائے تو وہ اللہ کا ولی بن جاتا ہے۔ یہ کیفیت اللہ کے اولیاء کو حاصل ہوتی ہے۔

اہم نکتہ: ان دونوں حضرات کو یقین تھا کہ جب حضرت موسیٰؑ نے فرما دیا تو فتح ہمیں ضرور حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین کی وجہ سے یہ اللہ کے ولی بن گئے۔

سوال: مفتی محمد شفیع عثمانی (رحمہ اللہ) نے بنی اسرائیل کی سخت کلامی کی کس طرح تاویل فرمائی ہے اور اس کی کیا وجہ بیان کی ہے؟

جواب: قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَہَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوۡا فِیۡہَا فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ بنی اسرائیل کا یہ کلمہ اگر طنز کرنے یا چڑانے کے لیے ہوتا تو یہ صریح کفر، یعنی کلمۂ کفر ہوتا۔ اور اس کے بعد حضرت موسیٰؑ کا ان کے ساتھ رہنا، یعنی انکے کافر ہو جانے کے بعد ان کے ساتھ رہنا اور ان کے لیے میدانِ تیہ میں دعائیں کرنا—جس کا ذکر اگلی آیت میں آتا ہے—ممکن نہ ہوتا۔ کافروں کی صحبت سے تو امت کو منع کیا گیا ہے، تو پھر نبی کیسے کافروں کی صحبت میں رہ سکتے تھے اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعائیں کرسکتے تھے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اس جملے کے کہنے سے کافر نہیں ہوئے تھے۔ حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے بنی اسرائیل کی اس سخت کلامی کی تاویل یہ فرمائی ہے کہ بظاہر تو یہ کلمۂ کفر جیسا لگتا ہے، لیکن اس کی حقیقت یہ تھی کہ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ: “آپ اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے مقابلہ کیجیے، ہم تو مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔” اسی وجہ سے حضرت موسیٰؑ ان کے لیے دعائیں بھی فرماتے رہے اور بدستور انکی صحبت میں موجود بھی رہے۔

اہم نکات :

1. مسلمان کافر کے لیے ہدایت کی دعا تو کر سکتا ہے، لیکن ان کے معاملات کے لئے اللہ کی مدد یا انکی دنیا کی ترقی کی دعائیں نہیں مانگ سکتا۔

2. تاویل مسلمان کے حق میں کی جا سکتی ہے، لیکن تاویل کرکے کسی کافر کو مسلمان ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

سوال: آج کے دور میں بہت سے مسلمان اپنی لاعلمی کی وجہ سے کافروں کے انتقال پر انہیں مختلف دعاؤں اور القاب سے نواز دیتے ہیں۔ اس رویے کی کیا تاویل کی جا سکتی ہے؟ اور کن لوگوں کے لیے ایسی تاویل کرنا درست نہیں ہوگا؟

جواب: آج کے دور میں بہت سے مسلمان اپنی جہالت کی وجہ سے کافروں کے انتقال پر انہیں مختلف القاب سے نواز دیتے ہیں۔ جیسے کوئی کافر یہودی یا عیسائی مر جائے تو اسے شہید کہ دیتے ہیں اور اس کے لیے رحمت اللہ علیہ بھی لگا دیتے ہیں اور RIP بھی لکھتے ہیں “Rest in Peace” یعنی قبر میں آرام کی نیند سو جاؤ۔ اگر کوئی جانتے بوجھتے یہ کرتا ہو تو اس کا تو ایمان نہیں بچتا۔ اس کی تاویل یہ کرنی پڑتی ہے کہ امت کے اندر علم کی کمی اور جہالت ہے اور یہ بے علمی کی وجہ سے ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم علم سیکھیں اور سکھائیں تاکہ ہماری غلطیاں ختم ہو سکیں۔

اہم نکتہ: ایک اہم اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ کافر مرنے کے بعد جہنم میں جائیں گے۔ اگر کوئی مسلمان یہ کہے کہ مرنے کے بعد کوئی کافر سکون اور آرام سے ہے یا اسے شہید کہے تو اس قول کی وجہ سے اس کا ایمان خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔

سوال: مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنی کتاب “اسلام اور سیاستِ حاضرہ” میں پاکستان کے قیام کے چوبیس سال بعد پاکستان کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟

جواب: مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنی کتاب “اسلام اور سیاستِ حاضرہ” میں پاکستان کے قیام کے چوبیس سال بعد پاکستان کے بارے میں یہ فرمایا “آزادی کے بعد چوبیس سالوں میں اللہ تعالی سے جو وعدہ کر کے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا، اس کے مطابق ایک کام بھی نہیں کیا گیا۔ ہر کام اس کے خلاف کیا گیا اور بے حیائی کے کام کیے گئے، شراب نوشی اور کفر و الحاد کو فروغ دیا گیا، اور اللہ کے احکام کے خلاف ہر قسم کے کام کیے گئے۔” پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا فرما دیے کہ مسلمان 80% اور ہندو 20% ہونے کے باوجود 20% ہندو مسلمانوں پر غالب آ گئے، اور اکثریت ہونے کے باوجود مسلمان کمزور ہو گئے۔ جب اللہ تعالیٰ کا قہر آتا ہے تو ظاہری اسباب کام نہیں دیتے۔

اہم نکتہ:

1. اللہ کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو توڑنے سے اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا، جس کا ذکر ہم سورۃ الفاتحہ میں کرتے ہیں۔

2. اللہ تعالیٰ کے وعدے توڑنے کی وجہ سے کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اقلیتوں کے ذریعے مسلمانوں کو آزماتے ہیں، جیسے نمرود کو مچھر کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔

سوال: شیخ الاسلام نے مسبّب الاسباب پر نظر رکھنے اور اسی کی اطاعت اختیار کرنے کے بارے میں کون سی اہم نصیحت فرمائی ہے؟

جواب: شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے مسبّب الاسباب پر نظر رکھنے اور اسی کی اطاعت اختیار کرنے کے بارے میں یہ نصیحت فرمائی اللہ تعالیٰ ہتھیار کے بغیر بھی دشمن کو ہلاک کر سکتا ہے۔ 1971 میں نہ پاکستان کے پاس میزائل تھے نہ ایٹم بم، اس وقت انہوں نے لکھا: “تم اگر اللہ تعالیٰ کے حکموں کی خلاف ورزی کرو گے تو تم اگر ایٹم بم بھی بنا لو تو بھی تمہاری رسوائی ختم نہیں ہوگی۔”

سوال: کن قوموں کے واقعات اور اعمال مسلمانوں پر من و عن منطبق ہوتے ہیں، اور اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: بنی اسرائیل کے واقعات مسلمانوں پر، خصوصاً پاکستانیوں پر، من و عن منطبق ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی اور اسی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ قومِ عاد اور ثمود کفار و مشرکین تھیں، ان کا براہِ راست ویسا تعلق ہم سے نہیں ہوتا جیسا بنی اسرائیل کا ہوتا ہے۔

سوال: حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کے نامناسب رویے کے باوجود کس کیفیت میں رہے؟ اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

جواب: حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کے نامناسب رویے سے رنجیدہ ہوئے، لیکن اس کے باوجود وہ اس کام پر استقامت کے ساتھ قائم رہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا تھا۔ انہیں دکھ ہوا، لیکن ان کی نظر اللہ پر تھی اور اللہ سے اجر کی امید رکھتے تھے۔ وہ انسانوں سے اجر کی امید نہیں رکھتے تھے، لیکن دکھ ملنے کے باوجود ان کے ساتھ خیرخواہی کرتے رہے جو سراسر دین ہے۔(الدین النصیحہ-حدیث)

اہم نکتہ: اللہ کے نبی یا ان کے وارث کو لوگوں کی اذیت سے دکھ ہوتا ہے کیونکہ ان کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے، لیکن یہ ان کے رجوع الی اللہ میں کمی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ البتہ ایسا کرنے والا خود نقصان اٹھاتا ہے۔

 

WordPress Video Lightbox