🌼 دین بِدون اللہ – Deen Devoid of Allah 🌼 (درس قرآن سورۃ الانعام آیات ١١٤-١١٧)
(Dars e Qur’an Surah al-An’aam Ayaat 114-117)
🔹قرآنِ کریم کا سیکھنا اہم اور ضروری قرآن عظیم الشان میں بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں کوئی لفظ یا حکم صراحتاً مذکور نہیں ہوتا، مگر سیاق و سباق سے علماء اسکی تفسیر کرتے ہیں اس لئے ہم صرف ترجمہ سے قرآن مجید کے مفہوم کو نہیں سمجھ سکتے بلکہ تفسیر کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ تاہم ہر مسلمان کو چاہیے کہ قرآنی عربی سیکھے تاکہ ترجمہ بھی سمجھ آسکے۔
🔹اہلِ کتاب کا حق کو چھپانا اور قرآن کی گواہی مولانا مکی حجازی مدظلہ نے سیرت کے حوالے سے ایک واقعہ بیان فرمایا کہ ہرقل کے دربار میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ واقعۂ اسراء کا ذکر آیا تو ایک پادری نے اس کی تصدیق کی۔ جب ہرقل نے اصل تورات اور انجیل منگوانے کا ارادہ کیا تو دوسرے پادریوں نے کہا کہ اگر اصل تورات سامنے آگئی تو آپکی حکومت ختم ہو جائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب کے علماء کے پاس اصل تورات اور نبی کریم ﷺ کی نبوت کی نشانیاں موجود تھیں، مگر انہوں نے دنیاوی مفادات کی خاطر حق کو عوام سے پوشیدہ رکھا۔ اسی حقیقت کو قرآن عظیم الشان نے واضح کرتے ہوئے فرمایا:
يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ “وہ انہیں اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔”
اہم نکتہ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب کے علماء کے پاس نبی کریم ﷺ کی نشانیاں موجود تھیں، اور آج بھی ہیں۔ یہ بس اپنے عوام سے انکو چھپاتے ہیں۔
🔹ہمارا ایمان دراصل محض “ایمان کا دعویٰ” ہے حقیقی معنوں میں ایمان نہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ “پس آپ شک کرنے والوں میں ہرگز نہ ہوں۔”
اگرچہ خطاب بظاہر نبی کریم ﷺ سے ہے، مگر مقصود امت کو تعلیم دینا ہے، کیونکہ آپ ﷺ تو اپنی دعوت پر خود یقینِ کامل کے پیکر تھے۔ کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ داعیٔ حق خود اپنی دعوت پر شک میں مبتلا ہو۔
اس کے برعکس ہم زبان سے تو کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کا راستہ ہی کامیابی کا راستہ ہے، مگر ہماری زبان سے نکلے باقی الفاظ، ہمارے افعال و حرکات، جیسے ہماری اولاد کی تعلیم، تربیت اور اولاد کو جو ہم نے کامیابی کا معیار دیا ہوتا ہے وہ نبی کریم ﷺ کے مخالفین کی تعلیم و تہذیب سے لیا ہوا ہوتا ہے۔ ہمیں اس نظام پر مکمل اعتماد ہے، جبکہ نبی ﷺ کے طریقے میں ہمیں کامیابی نظر نہیں آتی۔ پھر یہ دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ ہم تو نبی ﷺ کے اوپر اعتماد کرتے ہیں یعنی آپ ﷺ پر ایمان لاتے ہیں۔ تو ہم اللہ کے اس حکم کے بھی نافرمان بنے کہ شک میں پڑنے والوں میں سے نہ ہو جانا، اور ہماری دعوت بھی دعوتِ حق کے طریق پر نہ ہوئی۔
ہم تو مغربی تعلیم کے گرویدہ ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ بچے کے امتحانات سے ایک ماہ پہلے ہفتے میں صرف ایک گھنٹے کا تفسیرِ قرآن کا درس بھی چھڑوا دیتے ہیں کہ کہیں گریڈز متاثر نہ ہو جائیں۔ ہم دینی طبقہ بھی اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں، خواہ دین ہی کا نقصان کیوں نہ ہو جائے۔ ہماری ترجیحات ہی ہماری وفاداری کو ظاہر کرتی ہیں۔
🔹اس میں سے ظاہری استثناء اختیار کرنے کے لئے شرط اگر ہم خود اور اپنے بچوں کو مغربی نظامِ تعلیم میں پڑھا رہے ہیں تو یہ صرف مجبوری کی وجہ سے ہمارے لئے جائز ہوسکتا ہے۔ ہمارے دل میں اس نظام سے نفرت اور اللہ کی مدد سے اسے بدلنے کی نیت کا ہونا لازم ہے، نہ کہ اسے ہم دل میں کامیابی کا معیار سمجھیں۔ اگر ہماری دل کی حالت ایسی ہے تو پھر ہماری عبادتوں کی حیثیت صرف ظاہری حرکات و سکنات رہ جاتی ہے کیونکہ اللہ رسول کے نظام پر عدم اعتمادی ہے۔
ہم مدینہ منورہ جاتے ہیں، روضۂ رسول ﷺ پر سلام پیش کرتے ہیں، محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپﷺ کا حق ادا ہوگیا، لیکن کامیابی کا معیار آپ ﷺ کے دشمنوں سے لیتے ہیں۔ یہ صرف ہم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔
🔹فتنہ دجال میں ہماری ابتلاء ہماری اپنی پسند جتنا خود کو دھوکہ دینا اس زمانے میں ہے اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ ہم نہ صرف دوسروں کو بلکہ اپنے آپ کو بھی دھوکہ دینا پسند کرتے ہیں۔ چنانچہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے دجال کو بھیجنا ہے۔ جو خود دھوکے میں جینا پسند کرے تو اللہ تعالیٰ اسکی عین پسند کے مطابق اسکو فتنہ دجال کا شکار فرمائیں گے، کیونکہ دھوکا کھانا اسکی اپنی چاہت تھی۔ وہ حقیقت کی طرف آنکھ خود ہی نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔ چنانچہ دجال کا فتنہ ایسے شخص کا ایمان اسے محسوس ہوئے بغیر ہی چھین لے گا اور آخرت میں اسکے لیے کچھ نہیں ہوگا۔
اہم نکتہ: جسے کامیابی مغرب کے راستے میں نظر آتی ہو حالانکہ وہ زبان سے کہتا ہو کہ کامیابی اللہ کے دین میں ہے، اس کا دعویٰ ایمان جھوٹا ہے۔ آج، إلا ما شاءاللہ، یہی حال تقریباً ہم سب دینداروں کا ہے۔
جب تک دل میں حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ کے ساتھ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ کی کیفیت پیدا نہ ہو اس وقت تک ایمان کیسے پورا ہوسکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ اعمال تو ہم کبھی بھی صحابۂ کرامؓ جیسے نہیں بنا سکتے لیکن ایمان کے لئے تو انکا ایمان ہی معیارِ قبولیت قرار دیا گیا ہے اور انکے ایمان کی کیفیت صرف محبت نہیں ہے بلکہ نفرت کفر بھی اسمیں شامل ہے۔
🔹کلماتِ اللہ مفتی محمد شفیعؒ فرماتے ہیں کہ قرآن میں “کلماتُ اللہ” دو طرح کے ہیں:
ایک احکام، جیسے نماز، روزہ اور حسن اخلاق وغیرہ کا حکم دوسرے گزشتہ قوموں کے واقعات، جن میں اللہ کا اٹل قانون بیان ہوا ہے کہ جس نے اللہ کے حکم کو مانا وہ کامیاب ہوا، اور جس نے انکار کیا، خواہ قابیل ہو یا نبی ﷺ کا قریبی رشتہ دار ابو لھب، وہ ناکام ہوا۔
اہم ترین نکتہ: اللہ کے احکامات کو بدل دینا دراصل نیا دین بنانا ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ موسیقی روح کی غذا ہے یا اللہ کے کلام میں کیفیت پیدا کرنے کے لیے موسیقی ضروری ہے، پردہ انکھوں کا ہوتا ہے وغیرہ۔ یہ دین کی تبدیلی ہے۔ حالانکہ اللہ کا اعلان ہے کہ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ۔ یعنی نہ احکامات تبدیل کئے جاسکتے ہیں نہ ہی احکامات پر عمل کرنے اور نہ کرنے کے نتائج۔ کہ کوئی سمجھنا شروع کردے کہ اللہ کا حکم ماننے کا کوئی فائدہ نہیں اور حکم نہ ماننے کا کوئی نقصان نہیں۔ نہیں، ایسا کرنے کی کسی میں مجال نہیں۔ جس نے ایسا کیا وہ اس دین سے نکل کے ایک دوسرے دین میں داخل ہو جانے والا بنے گا جو دین اسلام نہیں ہوگا، بلکہ اسکا اپنا بنایا ہوا دین ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس دنیا میں ایسی جماعت موجود رکھیں گے جو کلمات اللہ کی حفاظت کریں گی۔
🔹اکثریت حق کی دلیل نہیں وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚإِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ (سورۃ الأنعام، 6:116) ترجمہ اور اگر آپ زمین میں رہنے والے اکثر لوگوں کی بات مانیں گے تو وہ آپ کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔ وہ تو محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور صرف اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔”
قرآن کا واضح اصول ہے کہ اگر تم زمین والوں کی اکثریت کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔ پوری دنیا کی اکثریت کبھی بھی ہدایت پر نہیں ہوگی۔ ہاں، کسی محدود علاقے، جیسے مدینہ منورہ میں صحابۂ کرامؓ کے زمانے میں، اہلِ حق کی اکثریت تھی، لیکن مجموعی طور پر دنیا کا مزاج یہی رہے گا کہ حق پر چلنے والے کم ہوں گے۔
اہم نکتہ: ظاہر سی بات ہے کہ جہاں گناہگاروں کی اکثریت ہوگی وہاں فساد بھی ہوگا۔ اس لیے یہ تصور کہ پوری دنیا ایک دن جنت بن جائے گی، اسلامی تصور نہیں۔
🔹مسلمان کا کام اللہ کی بندگی اور وہ بھی صرف آخرت میں انعام کی خاطر مسلمان دنیا کو جنت بنانے کے لیے نہیں آیا، بلکہ اللہ کے حکم کا بندہ بننے کے لیے آیا ہے۔ جنت ہے جہاں من مرضی کی زندگی ہوگی یہ اس دنیا میں ممکن نہیں۔ ہمارا کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنا ہے، نہ کہ اپنی خواہشات کے مطابق دنیا کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنا۔
اس لیے ہماری جنت مرنے کے بعد ہے۔ دنیا میں ہمارا کام خود اللہ کے دین پر عمل کرنا، اپنے گھر میں اللہ کے احکام نافذ کرنا اور اپنی استطاعت کے مطابق دین کی دعوت دینا ہے، نہ کہ جذبات میں آکر وہ کام کرنا شروع کردینا جن کا اللہ نے حکم نہیں دیا۔ اور نہ ہی اپنی جہالت کے ساتھ یہ فیصلے کرتے پھرنا کہ قرآن کا کون سا حکم ابھی پورا کرنا ہے اور کون سا ابھی نہیں۔
🔹اس دنیا سے کبھی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی انبیاء علیہم السلام اور صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں دیکھیں۔ نبی کریم ﷺ، حضرت ابوبکرؓ کی رحلت میں دنیا کے انسان کے دیے ہوے زہر کا اثر شامل، حضرت عمرؓ شہید کئے گئے، حضرت عثمانؓ کو شہید کیا گیا، حضرت علیؓ کو شہید کیا گیا، حضرت حسنؓ کو بھی زہر دیا گیا اور حضرت حسینؓ کا کس کو نہیں معلوم۔ خلاصہ کلام یہ کہ جب ایسی بہترین ہستیوں کے ساتھ دنیا میں ایسا معاملہ کیا گیا تو اس دنیا سے کیا خیر کی توقع رکھنا۔
🔹اس دنیا کی واحد حقیقت: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہم اللہ کے ہی ہیں اور ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
اگر ہم اللہ کے ہی نہ بن سکے تو پھر اپنی زندگی میں کچھ بھی نہ پا سکے۔ اور اللہ کو پانے کا طریقہ اللہ کی اطاعت، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اولی الامر کی اطاعت ہے۔ اولوا الامر کون جو اللہ کے حکم کی وجہ سے کسی پر حاکم بنا ہو۔ مثلاً شوہر بیوی پر اولوا الامر ہے کیونکہ وہ نکاح کے ذریعے اللہ کے نام پر اسکا شوہر بنا ہے۔ چنانچہ اس کی اطاعت بھی بیوی پر لازم ہوتی ہے۔
اہم نکتہ: اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم دینی اعمال بھی اپنے نفس کے لئے کرتے ہیں۔ اللہ کے لئے نہیں۔ چنانچہ پیر صاحب سے بھی تعلق میں انکی خوشنودی کی خاطر جھوٹ بول جاتے ہیں۔ حالانکہ پیر، شیخ کا مقصد تو بندے کو ایک اللہ سے جوڑنا تھا۔ اگر صرف ساری زندگی پیر سے جڑے رہے اور اللہ سے نہ جڑ سکے تو یہ تو مقصد ہی حاصل نہ ہوا۔
🔹ہمارے دین کا محاسبہ ہم نے دینی اعمال کی صورت تو بنالی حتی کہ دنیا کی خاطر کچھ برائیاں بھی چھوڑ دیں لیکن اللہ کی خاطر اللہ کی نافرمانیاں نہ چھوڑ سکے۔ جس کی وجہ سے دین پر آنے کے ساتھ جو اللہ کی مدد ملنی تھی وہ ہمیں نہ مل سکی۔ اسی لئے جب مدد کی ضرورت پڑتی ہے تو ہمیں وہی دنیاداری والے طور طریقوں کی طرف ہی لوٹنا پڑتا ہے۔
اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے خدا کو جزا اور سزا کے قابل نہیں سمجھا بلکہ اسکو کوئی مردہ بت کی طرح کا خدا سمجھ لیا جیسے ہندو مشرک کا کوئی خدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دنیاوی شخصیات اور انکے نظاموں کو ہم نے زندہ سمجھا جن کے پاس ہتھیار بھی ہیں اور ٹیکنالوجی بھی اور مدد کرنے کی استطاعت بھی۔
اہم ترین نکتہ: جب تک اللہ تعالیٰ ہمارے لئے زندہ حقیقت نہیں بن جاتا، ہم ہر مشکل میں دنیا، اسباب اور طاغوت ہی کی طرف دیکھتے رہیں گے۔ ہمارے سوچ اور ہمارے معاملات دنیا داروں جیسے ہی رہیں گے۔
چنانچہ ہمیں اپنے موجودہ دین پر بھی توبہ کرنی چاہیے کیونکہ وہ اللہ کے بغیر (بدون اللہ) ہے، اللہ کے لئے (لله) نہیں۔