Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 65

Class Date:27/07/2026

Aayat: 27-32 Surah Al Ma'idah, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:

Audio

To Download or increase speed click :

Slides

Class Notes

🕌 *درسِ تفسیر القرآن*
سورۃ المائدہ، آیات 27 تا 32
27 July 2026

▫️سوال: اللہ کے حکم کی تعمیل کرنا کیسا ہوتا ہے؟
جواب: اللہ کے حکم کی تعمیل کرنا ناممکن یا مشکل نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ اپنی مخلوق کی استطاعت کے مطابق ہی حکم دیتے ہیں (“اللہ کسی نفس پر اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا”)۔ جیسے کرکٹ پچ کی مثال دی گئی کہ انسان ایک پچ ہے اور اللہ کا حکم اس کی صلاحیت کے مطابق ہی نافذ ہوتا ہے۔
▫️سوال: حکم کس صورت میں لاگو نہیں ہوتا؟
جواب: جب کسی شخص کی استطاعت (capacity) اس حکم کو پورا کرنے کی نہ ہو، تو وہ حکم اس پر لاگو نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر کسی کی ٹانگ ٹوٹی ہو اور مسجد جانے میں تکلیف بڑھنے کا اندیشہ ہو، تو اس پر مسجد جا کر جمعہ پڑھنا فرض نہیں رہتا، وہ گھر پر ظہر پڑھ سکتا ہے۔
▫️سوال: حکم کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کیلئے کیا کرنا پڑتا ہے؟
جواب: احکامات کو صحیح طور پر نافذ کرنے کیلئے سب سے پہلے ان کا “علم حاصل کرنا” ضروری ہے۔ لاعلمی میں عمل کرنا یا اپنی طرف سے فرض کر لینا (assumption) سے نقصان ہوتا ہے۔
▫️سوال: کس نوعیت کا علم حاصل کرنا ضروری ہے؟
جواب: ایسا علم حاصل کرنا فرض ہے جو آپ کی حالت پر لاگو (apply) ہوتا ہو۔ علم حال یا ضروریات دین کا علم، جیسے پردے کے احکامات یا بیماری کی حالت میں نماز کے مسائل کا درست علم۔
▫️سوال: ایسا نہ کرنا کس بات کا سبب بنتا ہے؟
جواب: علم حاصل نہ کرنے کی وجہ سے انسان یا تو اپنی غلط فہمی پر عمل کرنے سے تکلیف اٹھاتا ہے، یا احکامات کو مشکل سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے اور دین سے بدگمان ہو جاتا ہے۔
▫️سوال: عالم یا عالمہ کورس کس مقصد کیلئے ہے؟
جواب: عالم یا عالمہ کورس کا مقصد روزمرہ کے عام مسائل (daily issues) سکھانا نہیں، بلکہ یہ “تفصیلی دینی علوم کی حفاظت” (preservation of religious knowledge) کیلئے ہوتا ہے۔
▫️سوال: حضرت آدم علیہ السلام کی امت میں قربانی کی شکل کیا تھی؟
جواب: ان کی رسالت میں قربانی صرف جانور کا خون بہانے تک محدود نہیں تھی، بلکہ اناج و غلے کی قربانی بھی ہوتی تھی۔ جیسے ہابیل نے اپنی قربانی پیش کی اور قابیل نے گندم (اناج) کی قربانی پیش کی۔
▫️سوال: غلطی پر توبہ نہ کرنے سے کیا ہوتا ہے؟
جواب: غلطی پر توبہ نہ کرنے سے انسان کا غصہ اور چڑچڑاپن (frustration) بڑھتا ہے، وہ اپنی غلطی پر ضد کرتا ہے اور مزید گناہوں یا حسد کا شکار ہو جاتا ہے، جیسا کہ قابیل کے ساتھ ہوا۔
▫️سوال: حضرت جی رحمہ اللہ علیہ کیا فرمایا کرتے تھے؟
جواب: حضرت جی رحمہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر آپ کسی گناہ والے ماحول (جیسے ناجائز جگہ نوکری، یا نوکری پر ناجائز ماحول گے پردگی وغیرہ) سے نکل نہیں سکتے اور یقین ہو کہ کل پھر دفتر جاؤں گا تو یہ گناہ ہوگا، تب بھی روزانہ سچے دل سے توبہ کرے اور ہر وقت استغفار کی حالت میں رہیے۔
▫️سوال: اعمال کی قبولیت کا دار و مدار کس چیز پر ہے؟
جواب: اعمال اور عبادات کی قبولیت کا دار و مدار صرف اور صرف “اخلاص اور تقویٰ” (خوف خدا) پر ہے۔
▫️سوال: اعمال ثواب میں کب منتقل (convert) ہوتے ہیں؟
جواب: اعمال اس وقت ثواب (جنت کی کرنسی) میں تبدیل ہوتے ہیں، جب وہ اللہ کے یہاں قبول ہو جائیں۔ اگر نیت خراب ہو یا تقویٰ (یعنی گناہ سے بچنے کی کوئی فکر تک) نہ ہو، تو اعمال رد کردئے جائیں گے اور کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
▫️سوال: ثواب کسے کہتے ہیں؟
جواب: ثواب دراصل آخرت کی وہ کرنسی ہے جو اللہ کے یہاں اعمال کے قبول ہونے کے نتیجے میں ملتی ہے، جس کے بدلے میں آخرت میں انعامات اور جنت کے درجات ملتے ہیں۔
▫️سوال: ثواب کا ہونا یا نہ ہونا کس اہم چیز پر موقوف ہے؟
جواب: ثواب کا ملنا اعمال کی “قبولیت” پر موقوف ہے، اور قبولیت تقویٰ پر موقوف ہے۔
▫️سوال: صحابی کی کیا تعریف ہے؟
جواب: صحابی وہ ہے جو ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺ سے ملا ہو (یا آپ کو دیکھا ہو، یا آواز سنی ہو)، اور اسی حالت میں اس کا انتقال ہوا ہو۔
▫️سوال: تابعین کن کو کہتے ہیں؟
جواب: تابعی وہ شخص ہے جس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دین کا علم حاصل کیا اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کیا۔ نبی کریم ﷺ کا کلمہ پڑھنے والا ہر وہ شخص جو صحابہ کے بعد والی نسل میں پیدا ہوا، تابعی نہیں کہلاتا، بلکہ صرف وہ تابعی ہے جس نے دین میں صحابہ کرام کی اتباع کی۔ یعنی صحابہ کی مخالفت کرنے والا تابعی نہیں کہلائے گا۔
▫️سوال: خیرالقرون کا کیا مطلب ہے؟
جواب: خیر القرون (بہترین زمانے) سے مراد وہ ابتدائی دور ہے (صحابہ اور تابعین کا)، جب معاشرے کا مجموعی نظام اور قوانین شریعت کے اصولوں کے مطابق نافذ تھے۔
▫️سوال: حضرت عمر بن عبدِ العزیز رحمہ اللہ نے کیا نصیحت فرمائی؟
جواب: انہوں نے نصیحت فرمائی کہ: “میں تجھے تقویٰ کی تاکید کرتا ہوں، جس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور اہل تقویٰ کے سوا کسی پر رحم نہیں کیا جاتا۔”
▫️سوال: حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا تقویٰ کے بارے میں کیا فرمان ہے؟
جواب: آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “تقویٰ کے ساتھ کیا گیا کوئی چھوٹا عمل بھی چھوٹا نہیں ہوتا، اور جو عمل اللہ کے ہاں مقبول ہو جائے وہ چھوٹا کیسے ہو سکتا ہے۔۔”
▫️سوال: تقویٰ کا کم از کم درجہ کیا ہے؟
جواب: تقویٰ کا سب سے نچلا اور بنیادی درجہ “ایمان” ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں پر 100 فیصد پختہ یقین ہونا اور ان میں شک نہ کرنا۔ کہنے کا مقصد یہ کہ ایمان کے بغیر کوئی تقوی نہیں چاہے کوئی بظاہر کتنی پاک زندگی گزارے۔
▫️سوال: درسِ تفسیر میں تقویٰ کے کون سے درجات بیان ہوئے؟
جواب: درس میں تقویٰ کے یہ درجات بتائے گئے:
1. ایمان: سب سے بنیادی درجہ
2. رزق حلال اور صدق مقال: یعنی حلال کمانا اور سچ بولنا
3. مکروہات طبعیہ کا مکروہات شرعیہ بن جانا: یعنی شریعت جن چیزوں کو ناپسند کرتی ہے، انسان کی طبیعت بھی ان سے کراہت محسوس کرنے لگے
4. دل کی پاکیزگی: دل میں کوئی ایسی تمنا ہی نہ ہو جو قیامت کے دن رسوائی کا باعث بنے
▫️سوال: توریہ اور جھوٹ میں کیا فرق ہے؟
جواب: توریہ کا مطلب ذو معنی بات کرنا ہے (جس کے دو مطلب نکلتے ہوں)، جبکہ جھوٹ بالکل الگ چیز ہے۔ عام حالات میں توریہ کو جھوٹ کا نام نہیں جاسکتا کیونکہ توریہ جائز ہے اور جھوٹ ایک ناجائز چیز۔ اسی طرح حالت جنگ کے علاوہ جھوٹ کو توریہ کا نام دے کر بولنا بھی جائز نہیں ہے۔
▫️سوال: ہمیں کس حالت میں رہنا چاہیے، اور کیوں؟
جواب: ہمیں ہر وقت “توبہ اور ندامت کی حالت” میں رہنا چاہیے۔ کیونکہ اگر ہم کسی مجبوری کے تحت گناہ کے ماحول سے نہیں نکل پا رہے، تو دل سے نادم رہنا اور مسلسل توبہ کرنا ہمیں اللہ کی رحمت سے جوڑے رکھتا ہے، اور یہ تقویٰ کا کم سے کم درجہ ہے۔
♻️ *Class download link:*
https://www.rememberallah.org/courses/tafseer-surah-al-maidah-part-65/

WordPress Video Lightbox