Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Hamarey Iman Ki Haqeeqat

Class Date:07/08/2026

Surah Al An'aam 118-121:

Audio

To Download or increase speed click :

Class Notes

🌷 Recording & Notes – Weekly Majlis Bayan🌷

🕋 درسِ تفسیر القرآن
سورۃ الأنعام، آیات 121 تا 118

🌼”ہمارے ایمان” کی حقیقت؟ 🌼

فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ
ترجمہ: اگر تم اللہ تعالیٰ کی آیات کو ماننے والے ہو تو اس چیز میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔
ان آیات میں اللہ رب العزت ایمان والوں کو مخاطب فرما رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید براہِ راست نبی علیہ السلام پر نازل ہوا، صحابہ کرام پر نازل نہیں ہوا۔ لیکن قرآن مجید میں مختلف اسلوب سے خطاب ہوا ہے۔ کبھی اللہ تعالیٰ براہِ راست نبی علیہ السلام کو مخاطب فرماتے ہیں، کبھی نبی علیہ السلام کو مخاطب کر کے اہلِ ایمان کو مخاطب کیا جاتا ہے، اور کبھی اہلِ ایمان کو براہِ راست مخاطب کیا گیا ہے۔ یہ آیت بھی انہی آیات میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو مخاطب فرما رہے ہیں۔
یہاں مُؤْمِنِينَ کا ترجمہ صرف ’’ایمان لانے والے‘‘ کرنا بھی درست ہے، لیکن ہمارے موجودہ حالات کے اعتبار سے ’’ماننے والے‘‘ کا لفظ اس مفہوم کو زیادہ واضح کرتا ہے۔
بدقسمتی سے آج ہم لفظ ایمان تو بہت استعمال کرتے ہیں، لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ایمان کا مطلب کیا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں، مسلمان ملک میں پیدا ہوئے ہیں، ہمارا نام مسلمانوں والا ہے، اس لیے ہم ایمان والے ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں ایمان والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات و احکامات، جو نبی علیہ السلام کے واسطے سے ہم تک پہنچے ہیں، ان پر کامل اعتماد کرنے والا ہو۔
اہم نکتہ: یہاں تک کہ ایسے اعمال کرنا جو بظاہر ایمان والوں جیسے عمل ہوں کافی نہیں، جب تک دل سے اللہ تعالیٰ اور نبی علیہ السلام پر کامل اور مکمل اعتماد نہ ہو۔ اسی لیے ہمارے مشائخ اور مفسرین نے بھی یہاں مُؤْمِنِينَ کا ترجمہ ’’ماننے والے‘‘ سے کیا ہے۔ ماننے والا یعنی کامل اعتماد کرنے والا، وہ جو آیات و احکامِ الٰہی کے سامنے اپنی عقل اور مشاہدے کو رد کرکے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سچ مانتا ہو (چاہے بشری کمزوری کی وجہ سے اس کے مطابق عمل نہ بھی کر پائے)۔
🔹 وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ
ترجمہ: تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیا مسئلہ ہے کہ تم اس چیز میں سے نہیں کھاتے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے؟
اور اس کی وجہ بھی بیان فرمائی:
وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ
ترجمہ: حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تفصیل سے بیان کر دیا ہے کہ تم پر کیا چیزیں حرام کی گئی ہیں۔
یہ بات قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ اس مجلس کے ساتھیوں کے لیے یہ زیادہ مطابقت رکھتی ہے کیونکہ حالیہ دروس میں یہ بات مزید واضح طور پر بیان ہوئی ہے، کیونکہ ہم ایک طرف سورۃ الانعام کی تفسیر پڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف سورۃ المائدہ کی بھی تفسیر پڑھ رہے ہیں۔ سورۃ المائدہ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا واضح طور پر ذکر فرمایا ہے جنہیں حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہ ساری تفصیل ہم پہلے بھی پڑھ چکے ہیں کہ کیا چیز حرام ہے اور اس حرمت کا اطلاق کن صورتوں میں ہوتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ
سوائے اس چیز کے جس کی طرف تمہیں اضطرار کی حالت میں مجبور ہونا پڑے۔
یعنی اگر کسی حرام چیز کے استعمال کے بغیر جان کو حقیقی خطرہ لاحق ہو تو شریعت نے بقدرِ ضرورت اس کے استعمال کی اجازت دی ہے، تاکہ جان بچ سکے۔ لیکن اس اجازت کا مطلب یہ نہیں کہ حرام چیز کو معمول بنا لیا جائے، بلکہ صرف اتنی مقدار میں اجازت ہے جس سے ضرورت پوری، یعنی جان بچ جائے۔
تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب حلال و حرام کی تفصیل تمہارے سامنے واضح کردی گئی ہے تو پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جس چیز پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، اسے نہیں کھاتے؟
وَإِنَّ كَثِيرًا لَيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ
اور بے شک بہت سے لوگ اپنی خواہشات کی بنیاد پر، بغیر علم کے، دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔
یہاں لَيُضِلُّونَ کے لفظ پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ خود گمراہ ہوتے ہیں، بلکہ وہ دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔
جو طلبہ علم الصّرف پڑھ رہے ہیں، وہ اس فرق کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ثلاثی مجرد اور بابِ افعال میں کیا فرق ہوتا ہے۔ بعض افعال ثلاثی مجرد میں اپنے فاعل تک محدود رہتے ہیں، جبکہ بابِ افعال میں وہ متعدی ہوجاتے ہیں اور کسی دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہاں أَضَلَّ يُضِلُّ کا مفہوم ہے: کسی کو گمراہ کرنا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگ دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، لیکن کس بنیاد پر؟
بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ
اپنی خواہشات کی بنیاد پر، بغیر علم کے۔
یہاں أَهْوَاء سے مراد خواہشات ہیں۔ یعنی ان کے پاس علم نہیں ہوتا، تحقیق نہیں ہوتی، انہوں نے مسئلہ سیکھا نہیں ہوتا، اہلِ علم سے پوچھا نہیں ہوتا، لیکن اپنی خواہشات اور اپنے خیالات کی بنیاد پر مفروضے قائم کرلیتے ہیں، اپنی طرف سے اندازے لگاتے ہیں، اور پھر انہی اندازوں کی بنیاد پر دوسروں کو گمراہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔
یہاں گمان سے مراد وہ اچھا یا برا گمان نہیں جو ہم عام طور پر کسی شخص کے بارے میں باندھتے ہیں۔ یہاں مراد ہے کہ بغیر علم کے اپنی طرف سے ایک رائے قائم کرلی جائے اور پھر اسے دین کا حکم سمجھ کر پیش کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ بہت سے لوگ اپنی خواہشات کی بنیاد پر بغیر علم کے دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔
اور یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ یہ بات کوئی مولوی صاحب نہیں فرما رہے، کوئی پیر صاحب نہیں فرما رہے، کوئی سائنس دان نہیں فرما رہا، بلکہ اللہ رب العزت فرما رہے ہیں۔ وہ اللہ جس نے سب کو پیدا کیا، سب کا مالک ہے، اور سب کے ظاہر و باطن کا مکمل علم رکھتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کون کیا کر رہا ہے، کس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور کس کے دل کی کیا کیفیت ہے۔
چنانچہ فرمایا:
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ
بیشک تمہارا رب حد سے تجاوز کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔
‎
یہاں الْمُعْتَدِينَ کا لفظ بھی قابلِ غور ہے۔ اس کے حروف اصلی عدو، جس کا مطلب دشمن ہوتا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں، وہ اپنے بھی دشمن ہوتے ہیں اور دوسروں کے بھی۔
اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی حدود ہیں۔ ان حدود سے تجاوز کرنا ہی اعتداء ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی حدود سے آگے بڑھتا ہے تو وہ شیطان کے راستے پر چلنے لگتا ہے، کیونکہ دوسروں کو گمراہ کرنا شیطان کا کام ہے۔ انسان بھی جب یہی کام شروع کردے تو وہ شیطان کے کام میں شریک ہوجاتا ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہارا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔
اس کے بعد فرمایا:
وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ
اور گناہ کے ظاہر کو بھی چھوڑ دو اور اس کے باطن کو بھی۔
یعنی وہ گناہ بھی چھوڑ دو جو تم لوگوں کے سامنے کھلے عام کرتے ہو، اور وہ گناہ بھی جو چھپ کر کرتے ہو۔
بعض لوگ گناہ کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ لوگوں کے سامنے جری بن کر، نڈر بن کر، بلکہ اوور اسمارٹ بن کر اپنے گناہ بیان کرتے ہیں۔ کسی کو دھوکا دیا، کسی سے جھوٹ بولا، کسی کو اپنی باتوں سے تکلیف پہنچائی، کسی کو نقصان پہنچایا، پھر اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔
یہاں وَذَرُوا کا لفظ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کسی چیز کو چھوڑ دیا۔ اس میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ انسان کسی چیز کو برا اور نقصان دہ سمجھ کر اس سے الگ ہوجائے، اسے ناگواری کے ساتھ ترک کرے۔
یعنی گناہ کو اس طرح چھوڑنا نہیں کہ آج چھوڑ دیا، مگر دل ادھر ہی اٹکا ہوا ہے کہ موقع ملے تو دوبارہ کروں گا۔ یہ اللہ کے حکم وَذَرُوا پر عمل نہیں ہے۔ جو وَذَرُوا پر عمل کرے گا وہ اللہ کا حکم ماننے والا کہلائے گا اور جو نہیں کرے گا وہ اللہ کے حکم توڑنے والا کہلائے گا۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ غیور ہیں، جو اس کے حکم کو توڑتا ہے، اللہ اُس کو اس کی سزا ضرور بضرور دیتے ہیں۔
اللہ پاک تو ہماری آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے۔ ہم اللہ کے احتساب سے کیسے بچ سکتے ہیں اگر ہم وَذَرُوا کے حکم پر عمل نہیں کرتے۔
إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ
بے شک جو لوگ گناہ کماتے ہیں، انہیں ان اعمال کی جزا دی جائے گی جو وہ کرتے رہے ہیں۔
حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ وفاق کے امتحان میں دو چیزوں کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے: ایک ممتاز لانے کے لیے اور ایک فیل ہونے کے لیے۔ کیونکہ آپ نے وفاق والوں کو اپنی انتہائی خراب کارکردگی سے مجبور کر دیا ہوتا ہے کہ انہیں فیل کرنا پڑ جاتا ہے۔ ورنہ وہ آپ کو فیل کرنا نہیں چاہتے۔
مولویوں کی ویسی ہی کمی ہے اور ہمارے استاد محترم کہا کرتے تھے کہ یہ آٹھ سال جو آپ پڑھتے ہیں، اس میں بس آپ عربی پڑھنا سیکھتے ہیں۔ مولوی تو دراصل بعد میں بنتا ہے، جب وہ لوگوں کے معاملات اور مسائل کو سنتے اور اس شریعت کے مطابق حل کرنے کی محنت کرتے ہے۔ یعنی ڈاکٹری اصطلاح میں جب وہ ہاؤس جاب کرتے ہے تو اصل میں مولوی بنتے ہیں۔ اسی طرح گناہ کرنے کے لئے آوٹ اوف دے وے جائے کے محنت کرنی پڑتی ہے۔
صراطِ مستقیم ایک ہی ہے اور اس کی مثال ہائی وے کی ہے۔ جب انسان اپنی گاڑی ہائی وے پر چلاتا ہے، وہ اپنی منزلِ مقصود پر بآسانی، بغیر کسی بے جا مشقت کے پہنچ جاتا ہے۔ اور گناہوں والے راستے کی مثال ایسی ہے کہ آپ ہائی وے سے اتر کر پگڈنڈی یا صحرا پر گاڑی کو ڈال دیں۔ محنت اور مشقت بھی ہوگی، راستہ بھی مشکل اور منزل تک رسائی بھی ناممکن ہو جائے گی، جب تک ہائی وے پر واپس نہیں آتے۔
بیان کے بعد نجی مجلس میں اس پر بات ہوئی اور مزید اس کو اس طرح سمجھایا گیا کہ صراطِ مستقیم والا راستہ فطری راستہ ہے اور جو اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کے مطابق ہے، وہ راستہ یقیناً آسان اور سہل ہے، کیونکہ خالقِ کائنات نے یہ راستہ متعین کیا ہے۔ جبکہ گناہوں والا راستہ شیطان والا راستہ، یعنی غیر فطری راستہ ہے۔ اس پر مشقت و محنت اور پھر ناکامی یقینی ہے۔ ایک ہی صورت ہے اس سے بچنے کی: توبہ کی شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے سچی پکی توبہ کی جاہے اور صراطِ مستقیم کے ہائی وے پر چل جائے۔
🔹 ہائی وے سے اترنے والے کون ہوتے ہیں؟
ء(Ambitious) یعنی بے جا خواہشات رکھنے والے لوگ۔ وہ اپنی زندگی میں ہر وقت کچھ نیا اور انوکھا کرنا چاہتے ہیں۔ ہر اس جگہ پر جہاں سے انکا کوئی تعلق نہیں ہے، اپنی ناک گھسیڑنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی زندگی کو مشکل بناتے ہیں۔
مسلمان کو ہر جگہ پر گھسنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ نے جو نعمتیں دی ہیں، گھر بار، بیوی بچے، ان میں رہتے ہوئے حلال طریقہ کو اپنے بڑوں اور مشائخ سے سیکھ کر، ان کی رہنمائی کے ساتھ انجوائے کرنا چاہیے۔ کلُّ جدیدٍ لذیذٌ (ہر نئی چیز مزیدار ہوتی ہے) کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔ آج کے دور کا المیہ ہی یہ ہے کہ نوجوانوں کے نفس کو ہر جدید چیز لذیذ لگتی ہے۔ جو زندگی کا نصب العین اپنے نفس کو فیڈ کرنا بنا لیتا ہے، وہ صراطِ مستقیم سے ہٹ جاتا ہے۔ دین پر عمل رہنمائی کے ساتھ ہوتا ہے (guided approach)۔
ہم نے بچیوں کو یہ بات بہت تاکید سے سمجھا دی ہے کہ جو پابندیاں آپ پر ہیں، اسی طرح پابندیاں لڑکوں پر بھی ہیں۔ دین میں کسی کو بھی کھلی چھوٹ نہیں۔ یہ ہم نے گمان کر لیا ہے، ہماری بے علمی کی وجہ سے، کہ لڑکیوں پر تو پابندی ہے مگر لڑکوں پر نہیں ہے۔ یہ سراسر جہالت ہے۔ جس کسی نے اپنی جہالت کی وجہ سے یہ چھوٹ دی ہوئی ہے، وہ اس کا سزاوار ہے۔
یہی وجہ ہے feminism کی۔ شیطان نے اس کو استعمال کیا، feminism کو بڑھاوا دینے کے لیے۔ ہم نے اس مردود کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ یقیناً لڑکے پابندی سے آزاد نہیں ہیں۔ مردوں کو دنیا میں انجوائے کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ ان کو کام کرنے اور ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے شیخ کی رہنمائی کے ساتھ انجوائے کر سکتے ہیں۔ یہ آج کل کے دور کی ضرورت ہے اور اس کو guided manner میں کرنا ہی صحیح طریقہ ہے۔
اہم نکتہ: اللہ نے دونوں، یعنی لڑکے اور لڑکیوں کی ذمہ داریاں الگ الگ بنائی ہیں۔ ان کے کام کا دائرۂ کار مختلف ہے۔ اس دائرۂ کار میں رہتے ہوئے شریعت کے مطابق حلال انجوائمنٹ کی دونوں کو اجازت ہے۔
جنہوں نے ڈبل اسٹینڈرڈز بنائے ہیں، ان کو یقیناً پتہ چلے گا، اور جو اس ڈبل اسٹینڈرڈ کو رواج دیتے ہوئے دنیا سے چلے گئے ہیں، ان کو پتہ چل رہا ہوگا۔
ہماری فکر چھوٹے گناہوں پر تو ہوتی ہے کہ اس کو کرنے سے یہ سزا ملے گی اور اس کو کرنے سے فلاں سزا ملے گی۔ مگر اللہ کے بنائے ہوئے نظام کو ہی الٹ پلٹ کر دینے کو گناہ ہی نہیں سمجھتے اور سمجھتے ہیں کہ اس پر کوئی سزا نہیں ملتی۔ چنانچہ مرد و عورت کے لئے اللہ تعالی نے جو نظام بنایا ہے اس کو اس شکل سے بگاڑنا یہ عظیم گناہ ہے۔
سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا یَقۡتَرِفُوۡنَ
جو اپنی محنت سے وہ کام کرتے تھے جو احکامِ الٰہی کے خلاف ہیں، ضرور بالضرور ان کو اس کی سزا ملے گی۔ جو اللہ کہتے ہیں، وہ کرتے بھی ہیں۔ اللہ پاک کی ذات اپنے فیصلے میں پکی ہے۔
ہماری دعا کی حقیقت
لوگ کہتے ہیں: دعا کر لی، اب کرنا کیا ہے؟ گویا کہ اصل اور حقیقی کام تو دعا کے بعد شروع ہوگا۔ تو کام ہمارے کرنے سے ہوگا، دعا سے کچھ تھوڑی ہوتا ہے۔ وہ تو ایک فورمیلیٹی تھی ہم نے پوری کرلی۔ یہ ہمارا مزاج ہے۔ ہم اپنی عقل اور قابلیت پر اصل بھروسہ کرتے ہیں، نہ کہ اللہ پر۔
دعا کرتے ہوئے ہمارا رویہ انتہائی گستاخانہ ہوتا ہے۔ یہ عاجز تو یہ کہے گا کہ جس طرح ہم دعا کرتے ہیں، جو ہم نے دعا کو سمجھا ہے، دراصل ہم اللہ کی شان میں بدتمیزی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ وہ اس لیے کہ ہم نے، نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ کو ہندو کے بت سے زیادہ حیثیت نہیں دی ہوئی ہے جسکی تعظیم وہ مشرک اسئے کرتا ہے کیونکہ اس کے ماں باپ کرتے ہیں لیکن اس کو بھی پتا ہوتا ہے کہ اس پتھر کے بت نے کچھ کرنا نہیں۔ اللہ ربّ کائنات کے لئے ایسا سوچنا تو اس کے ذات بدتمیزی کے ہی مترادف ہے۔
وَلَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَاِنَّهٗ لَفِسْقٌ ؕ—
اس میں سے مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ یہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے، اس کو فسق کہتے ہیں۔
وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤی اَوْلِیٰٓـِٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ ۚ— وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ ۟۠
شیطان اپنے وسوسوں کے ذریعے اپنے دوستوں کی مدد کرتے ہیں، ان کے دلوں میں وسوسوں کے ذریعے وحی کرتے ہیں تاکہ یہ آپ سے بحث کریں، مجادلہ کریں، جھگڑا کریں، تاکہ آپ اپنے منصب پر عمل نہ کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ کیسی عجیب اور اہم بات فرما رہے ہیں کہ اے ایمان والو! (صحابہ کرام سے خطاب ہے) اگر تم شیطان کے اس وسوسوے کی پیروی کرو گے تو مشرک ہو جاؤ گے۔
یہاں کسی بت کے سامنے سر ٹیکنے کی بات نہیں، شیطان کے وسوسوں میں آ کر اس کی پیروی کرنے پر مشرک ہو جانے کی نذیر ہے۔
توبہ کیے بغیر گزرا ہی نہیں ہے
We are doomed to hell.
کہاں کا ایمان، کون سا ایمان؟ ہمارا نام تو گویا کہ جہنم والوں میں لکھ دیا گیا ہے۔ ہم جگہ جگہ پر قرآنِ عظیم الشان کا جو انکار کر رہے ہوتے ہیں، ہمارے نظریات سرے سے قرآن کے خلاف ہیں۔ ہمیں اپنی اس روش و حرکت سے توبہ کرنی پڑے گی۔
میں اعمال کرلوں گا اور اللہ کے عذاب سے بچ جاؤں گا۔ طواف کر لوں، صدقہ خیرات کر لوں گا، نوافل پڑھ لوں گا، مگر مجھے توبہ کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ ہماری سوچ ہے۔ حالانکہ ہمیں تو انکارِ قرآن کے اصل گناہ یعنی اپنے کفر سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف فسق و فجور سے نہیں۔
جب اللہ کے اولیاء اس بات کو بار بار دہراتے ہیں تو ہم کیسے اس سے خود کو مستثنیٰ کر سکتے ہیں۔
اپنے کسی عمل پر سہارا ہی نہیں ہے
توبہ کیے بغیر گزارہ ہی نہیں ہے
Recording Link
https://www.rememberallah.org/courses/hamarey_iman_ki_haqeeqat/

WordPress Video Lightbox