Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Iman aur Kufr - Qur'an ki Roshni Main Part-1

Class Date:10/07/2024

Audio

To Download or increase speed click :

Video

Important Notes

“ایمان و کفر قرآن کی روشنی میں” کلاس نوٹس
کلاس نمبر ۱، تاریخ ۱۰ جولائی ٢٠٢٤

اہم ہدایات برائے استفادہ
نیت: اللہ کی رضاء اور آخرت کی جزا۔
یہ دور فتنہ دجال کا دور ہے: جو در حقیقت ایمان کے چھن جانے کا فتنہ ہے۔ ان دروس کو ہمیں اپنے اور اپنی آل و اولاد کے ایمان کے بچانے کی کوشش اور اپنی فکر کی اصلاح کی نیت کے ساتھ سننا ہے۔ کیسے کافر قوتیں اس دور میں مسلمانوں کو عقیدے کی خرابی میں مبتلا کرکے انکے ایمان کو چھین لینے کی محنت کر رہی ہیں جبکہ اس کے بارے میں ہمارا علم اور سمجھ بہت محدود بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ بہت اہم موضوع ہے اور اس دور میں اسکا علم حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ حدیث میں ہے۔

فقيهٌ واحدٌ أشدُّ على الشَّيطانِ من ألفِ عابدٍ
ترجمہ : ایک علم اور سمجھ رکھنے والے کو سیدھے راستے سے ہٹانا شیطان کے لئے ایک عابد کو گمراہ کرنے کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

اس دور میں ہمیں ایمان کے بارے میں Paranoid ہو جائیں یعنی پاگل اور Crazy ہو جانے کی ضرورت ہے، جیسے کہ صحابہ کرام ایمان کے بارے میں Paranoid تھے۔ وہ ایمان کے چھن جانے کے خوف سے روتے تھے حالانکہ جان، مال اور گھر کے چھن جانے سے ڈرتے بھی نہیں تھے۔

ہماری نیت نہ کسی دوسرے پر تنقید کی ہو نہ کسی کو کافر قرار دینے کی۔ ہم کسی کو کافر قرار دینے کی اہلیت نہیں رکھتے، یہ کام مفتی حضرات اور دار الافتاء کا ہوتا یے۔

فکر کا فائدہ، دل سے دعا: ہم اللہ پاک سے ایمان کی حفاظت کے لئے خوب دل جمعی کے ساتھ ٹوٹ کر مانگے والے بن جائیں گے جب ہم سمجھ جائیں گے کہ اللہ کی دی ہوئی تمام چیزوں میں ایمان ہمارے پاس سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے اور اسکا چھن جانا کتنا زیادہ آسان ہے۔

غایت، یعنی اس درس میں ہم کیا کیا پڑھیں گے: لفظ بلفظ یہ کتاب، ایمان اور کفر کی تعریفات، تفسیر قرآن مجید سے الحاد کا بیان، کفار کی سازشیں جو مسلمانوں کو ایمان سے محروم کرنے کے لئے ہو رہی ہیں انکی سمجھ حاصل کرنا۔

 سرورق پر درج آیت
اس کتاب کے شروع میں ہی سرورق پر یہ آیت مفتی شفیع عثمانی رحمتہ علیہ نے لکھی ہے۔

وَمَن یَّکفُر بِالایمَانِ فَقَد حَبِطَ عَمَلُهٗ
ترجمہ : – اور جو شخص ایمان سے انکار کرے گا اس کا سارا کیا دھرا غارت ہو جائے گا اور آخرت میں اس کا شمار خسارا اٹھانے والوں میں ہوگا۔

 تفسیر
اس آیت میں کسی مشہور بڑے عقیدہ کی بات نہیں ہو رہی، جیسے اللہ پر ایمان، آخرت پر اور رسالت پر ایمان۔ بلکہ اس میں حلال قطعی کی حلت کا اور حرام قطعی کی حرمت کا انکار کر دینے کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ یعنی شرعی احکامات۔ مطلب احکامات شریعت کا انکار اور ترتیب میں الٹ پلٹ کر دینے سے بھی ایمان ختم ہوجاتا ہے۔ ہماری کم علمی کا فائدہ اٹھا کر شیطان احکامات میں ہماری ترتیب کو بدل دیتا ہے۔ نفل کو اہم اور فرض کو غیر اہم بنا کے یا احکامات کی ہی ترتیب بدل کے۔ مثلاً دشمن کو ڈرانے کے لئے گھوڑے پالنا (یعنی جنگی تیاری کرنا) بھی قرآن میں اللہ کا حکم ہے۔ مگر شیطان نے ہمیں اس میں مگن کردیا اور جو بنیادی احکامات اس پر مقدم ہیں، انکی اہمیت ہمارے ذہن سے محو کردی۔ حالانکہ ہم قرآن ہی کے ایک حکم پر عمل کر رہے ہیں لیکن خلاف ترتیب، اور بہت خوش ہیں کہ ہم تو حکم پر عمل کررہے ہیں۔

Books

WordPress Video Lightbox