Allah ki Ata'at ke liye Makhloq ki Raza?
Surah Al An'aam 114-117:
Urdu PDF
Download Urdu PDFClass Notes
🌷 Recording & Notes – Weekly Majlis Bayan🌷
🕋 درسِ تفسیر القرآن
سورۃ الأنعام، آیات 114 تا 117
🌼اللہ کی اطاعت کے لئے مخلوق کی رضا؟ 🌼
❀ درس کے نوٹس کا مطالعہ
الحمد للہ درسِ تفسیر کے نوٹس باقاعدگی سے تیار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ بعض اوقات یہ کچھ تفصیلی ہو جاتے ہیں، لیکن ان کا مطالعہ ہرگز مشکل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کے دل میں اس بار یہ بات ڈالی کہ انہیں موضوعات کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کرکے بھیجا جائے، تاکہ پڑھنے میں مزید آسانی ہو۔ اب آپ لوگوں کا کام صرف اتنا ہے کہ ان نوٹس کو توجہ، غور و فکر اور اپنی اصلاح کی نیت سے پڑھیں۔
ہمارے پردادا پیر حضرت فضل علی قریشیؒ فرمایا کرتے تھے:
“فقیروں یہ روٹی جو تمہارے سامنے کھانے کے لیے رکھی ہے، جب اس کے لیے گندم بوئی گئی تو حالت وضو میں، جب اسے پانی دیا گیا تو حالت وضو میں، جب فصل کاٹی گئی تو حالت وضو میں، جب آٹا گوندھا گیا تو حالت وضو میں، اور جب روٹی پکائی گئی تو وہ بھی حالت وضو میں۔ اب تمہارا کام صرف اسے کھانا ہے، کتنا اچھا ہو کہ تم بھی اسے حالت وضو میں کھاؤ۔”
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے قرآنِ کریم کی تفسیر، موجودہ دور کے حالات کے مطابق اس کی تشریح، پھر ان کے نوٹس تیار کرنے، اور انہیں WhatsApp کے ذریعے ہم تک پہنچانے کے تمام اسباب مہیا فرما دیے۔ اگر ہم اتنا وقت بھی نہ نکال سکیں کہ انہیں توجہ، تدبر اور اپنی اصلاح کی نیت سے پڑھ لیں، تو کیا ہم واقعی اللہ تعالیٰ کی محبت اور خصوصی عنایت کے مستحق بن سکتے ہیں؟ اس کا فیصلہ ہر شخص اپنے ضمیر سے خود کرے۔
ہمیں اپنی حالت پر غور کرنا چاہیے۔ بعض اوقات جب اس بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں کے کیا اللہ کو غیرت نہیں آتی۔ تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اپنے وہ رویے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف محسوس نہیں ہوتے، جن میں وہ بار بار اصلاح کے اسباب مہیا فرماتا ہے اور ہم ان سے بے اعتنائی برتتے رہتے ہیں۔
جب ہمارا رویہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا ہو تو پھر ہم یہ امید کیسے رکھ سکتے ہیں کہ موت کے وقت، قبر کی تنہائی میں، اور میدانِ حشر میں، جہاں ہمارے ساتھ کوئی نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ کی خاص مدد، رحمت اور محبت ہمارے شاملِ حال ہوگی؟
اگر ہمارا یہی رویہ برقرار رہا تو یہ دنیا میں بھی سزا کا سبب بنے گا، موت کے وقت بھی، اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور سزا کا مستحق بنا دے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اتنا رحیم ہے کہ وہ عذاب نہیں دیتا۔قرآن کریم میں جن اقوام کے واقعات بیان کیے گئے ہیں، ان میں عذاب انسانوں ہی پر نازل ہوا تھا، کسی اور مخلوق پر نہیں۔ قومِ عاد، قومِ ثمود، قومِ نوح، قومِ لوط، بنی اسرائیل اور ابو جہل جیسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔ کیا وہ اشرف المخلوقات انسان نہیں تھے؟
ایک انداز سے ہمارا اللہ کے ساتھ رویہ کافروں سے بھی زیادہ برا ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس نبی کریم ﷺ کے وارثین کے ذریعے قرآن عظیم الشان کی تعلیمات، اس کی تفاسیر، تشریحات اور ان کے مرتب شدہ نوٹس اور حالات سے مطابقت رہنمائی سب کچھ پہنچ چکی ہے۔ اگر اس کے باوجود ہم غفلت اختیار کریں، پھر تو ہم دوہرے عذاب کے مستحق بن جاتے ہیں۔
❀ اہم نکتہ
محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے ہمیں یہ سب اسبابِ ھدایت عطا فرما دئیے۔ اس کے باوجود اگر ہم غفلت، بے اعتنائی اور لاپرواہی اختیار کریں تو ہم صرف ایک موقع ہی ضائع نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس عظیم نعمت کی ناقدری بھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب نعمت کی قدر نہ کی جائے تو وہ نعمت چھین لی جاتی ہے۔
ۚ وَ تَمَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدۡقًا وَّ عَدۡلًا ؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ
❀ نیک اعمال پر انعام کا وعدہ سچا ہے
قرآن مجید کی یہ آیت کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں۔ یعنی نیک اعمال پر عزت، انعام اور کامیابی کا وعدہ ہے۔ جبکہ ہمارا معاملہ اس وعدے کو سچا نہ ماننے کا ہے۔ جب اللہ کے کسی حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے ہمیں دنیا کی مخالفت یا لوگوں کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں کہ اب میرا کیا بنے گا؟ میں ان لوگوں کا سامنا کیسے کروں گا؟
یہ ہماری کیفیت اس لیے ہوتی ہے کہ ہمیں اللہ کے وعدے پر اعتماد نہیں ہوتا۔ حالانکہ جب کوئی شخص اللہ کی رضا کی خاطر اس کے حکم پر عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ بندہ یہ عمل کس نیت سے کر رہا ہے، اور بے شک وہ اس کی مدد کرتے ہیں، اسے لوگوں کے سامنے رسوا نہیں ہونے دیتے، لوگوں کے دل نرم کر دیتے ہیں اور اس کے لیے لوگوں کے دلوں میں رعب اور احترام پیدا فرما دیتے ہیں۔
جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کا ایسا کوئی وعدہ ہے ہی نہیں، یا اگر ہے تو اللہ اپنا وہ وعدہ پورا نہیں کرتا۔ یہ تو دراصل ہم قرآن عظیم الشان کی تکذیب کر رہے ہوتے ہیں، اور یہی تو کفر ہے۔
اب چاہے کسی کا نام محمد ہو یا عبداللہ (منافقین کے سردار کا نام بھی عبداللہ بن اُبی تھا)، اگر ہمیں قرآن کریم یا نبی کریم ﷺ کے کسی قطعی فرمان پر اعتماد نہیں، تو ہمارا ایمان باقی نہیں رہتا۔
❀ احکام الٰہی صرف اللہ کی عظمت ثابت کرنے کے لئے نہیں
اللہ تعالیٰ نے جو احکام بیان فرمائے ہیں، وہ اپنی بالادستی ظاہر کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ہر ہر حکم ہمارے فائدے کے لیے ہے۔ اللہ کے احکام ہمارے لیے درحقیقت زندگی ہیں، اور ان کے بغیر ہمارے لیے موت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا:
﴿اسْتَجِيبُوا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾
اسی وجہ سے جو شخص اللہ کے احکام کی طرف بلاتا ہے، وہی حقیقی خیرخواہ ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کھانا کھلانے والے یا ملازمت دلانے والے کو تو خیرخواہ سمجھتے ہیں حالانکہ کوئی یقین نہیں ہوتا کہ وہ کھانا ہمیں ہضم بھی ہوگا یا نہیں وہ نوکری ہمارے لیے خیر و عافیت کا سبب بنے گی یا نہیں۔ جبکہ اللہ کے احکام جن میں ہمارے لئے یقینی کامیابی ہے اس کی طرف بلانے والے کو ہم مصیبت سمجھتے ہیں۔
“میں اسے سمجھوں ہوں دشمن، جو مجھے سمجھائے ہے۔”
چنانچہ اللہ کے وعدوں اور وعیدوں کے بعد، دوسری قسم کے کلمات اللہ وہ ہیں جن میں احکام بیان کیے گئے ہیں، اور انہی میں انسان کی صلاح (اصلاح) اور فلاح (کامیابی) کے اصول موجود ہیں۔
کلماتُ اللہ کی ان دونوں قسموں کا تعلق درج ذیل دو صفات سے ہے:
صدقًا: قرآن میں بیان کیے گئے تمام واقعات سراسر سچے ہیں۔
عدلًا: قرآن کے تمام احکام عدل پر مبنی ہیں۔ عدل کے دو معنی ہیں:
1. انصاف: ہر شخص کو اس کا پورا حق دینا، نہ زیادہ نہ کم۔
2. اعتدال: احکام ہر دور ہر زمانے کے ہر انسان کی استطاعت کے عین مطابق ہیں۔ نہ اس سے زیادہ ہیں نہ کم۔
❀ پردے کے حکم کے ساتھ ہمارا رویہ
ہمارے گھروں کا حال یہ ہے کہ ماں بیٹے سے کہتی ہے کہ تمہاری بیوی نے میرے بیٹے کو غیر بنا دیا (اللہ نے اسکو نامحرم قرار دیا اس کا کوئی لحاظ نہیں) اب وہ اس سے پردہ کرے گی۔ یا اگر تمہاری بیوی نے پردہ کیا تو خاندان ٹوٹ جائے گا۔ لیکن یہی ماں اپنے لختِ جگر کو اچھی کمائی کی خاطر سات سمندر پار اکیلا بھیج دیتی ہے، اور اس وقت خاندان ٹوٹنے کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ دعائیں کرکے، بلکہ قرض لے کر بھی بھیج دیتی ہے تاکہ دنیا حاصل ہو جائے۔ گویا خاندان صرف اللہ کے حکم پر عمل کرنے سے ہی ٹوٹتا ہے۔
قرآن شریف ایک ایسا ضابطے حیات ہے اور اس کے احکامات بھی اتنے جامع اور مکمل ہیں کہ اس کے نزول کو چودا سو سال گزر جانے کے بعد بھی اسکے احکامات ہر دور میں اور آج بھی اسی طرح برمحل (relevant) ہیں جیسے اسکے نزول کے وقت تھے۔
ان احکامات کی (relevant) برمحل تشریح تو اہل علم ہی نے ہر دور میں سمجھائی اور آج بھی وہی سمجھاتے ہیں۔ ہمارا رویہ یہ ہوتا ہے کہ یہ اہل علم مولوی صاحب کی ہم نے بات نہیں ماننی۔ قرآن مجید اور حدیث شریف کے الفاظ موجود ہیں اور میری عقل عقلِ کل ہے۔ میں اسکو خود ہی سمجھ لوں گا۔ پھر شیطان ہمارا پوشیدہ شیخ اور عالم بن جاتا ہے اور قرآن شریف کے تفسیر کے ذریعے ہماری گمرائی کا راستہ بناتا ہے۔
قران کی تفسیر اگر ہم شیاطین سے لیں گے تو یقینا وہ گمراہی کا سبب بنے گی۔ جیسکے اللہ تعالی نے قرآن عظیم الشان میں فرمایا۔
يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا
اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ اسی قرآن کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کو ہدایت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعے ان لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں جو اپنا شیخ شیطان کو بناتے ہیں اور اللہ والوں اہل حق سے دور بھاگتے ہیں۔
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
❀ اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتے
اس آیت کے ضمن میں ایک نہایت عبرت ناک بات یہ سامنے آئی کہ امریکہ میں ایک بے پردہ مسلمان طالبہ نے اپنی گریجویشن کی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آیت نے مجھے یہ سبق دیا ہے کہ زندگی کی مشکلات مجھے مضبوط کرنے کے لئے آتی ہیں۔ پھر اس نے اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشکلات اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا نہیں ہوتیں۔
حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ اور امت کے علماء کرام کا اجماع ہے کہ بندے پر آنے والی ہر مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف کسی نہ کسی شکل میں سزا ہوتی ہے۔
ایک اہم اصول کہ اگر مصیبت آنے پر بندہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے، توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے، تو یہی مصیبت اللہ سے قرب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
لیکن اگر وہ گناہوں بھری زندگی سے توبہ نہ کرے اور یہ کہتا رہے کہ “یہ مصیبت تو مجھے مضبوط بنانے کے لیے آئی ہے”، تو اپنے گناہوں پر اصرار کی وجہ سے اس مصیبت سے سبق حاصل کرنے کے بجائے مزید گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور وہ مصیبت اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مزید جم جانے کا سبب بن جاتی ہے۔
البتہ اگر توبہ کرلینے کے باوجود اللہ تعالیٰ وہ مصیبت دنیا میں اس سے دور نہ فرمائیں، تو وہ بھی بندے کی وسعت کے مطابق ہوتی ہیں جنکو جھیلنا اس کے لئے مشکل نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی پر اسکی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ اور یہی اس آیت کا صحیح مطلب ہے۔
❀ اہم نکتہ
ہمیں دین کی تعلیمات اور قرآنِ عظیم الشان کی تفسیر اہلِ علم اور علماءِ حق سے حاصل کرنی چاہیے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر ایسا نظام رکھا ہے کہ انسان خالی نہیں رہتا؛ پھر شیطان اس کا مربی اور رہنما بن جاتا ہے، اور قرآن کی ایسی من مانی تشریح اس کے ذہن میں ڈالتا ہے جو اسے صرف گمراہی اور جہنم کے راستے پر لے جاتی ہے۔
❀ احکامات کا حالات حاضرہ میں تعامل (applicability)
ہم اور ہمارے بچے اسکرینوں پر نگاہوں کا زنا کرتے رہتے ہیں، اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اس کے نشے کے عادی (addicted) ہو جاتے ہیں۔ جس طرح نشے کا عادی شخص ہر حال میں نشہ چاہتا ہے اور اس کی طلب کبھی ختم نہیں ہوتی، اسی طرح بدنگاہی کا انجام بھی یہی ہوتا ہے کہ انسان اس کی لت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
ایسا شخص اپنے نکاح میں بھی حقیقی خوشی حاصل نہیں کر پاتا۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر دنیا بھر کی عورتیں بھی ایسے شخص کو مل جائیں، تب بھی اس کی ہوس کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔
ہمارا حال یہ ہے کہ ہم سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ جب ہمارے شیخ ہمیں نصیحت کرتے ہیں بچوں کو اسکرینوں سے بچاؤ، ورنہ برباد ہو جائیں گے، تو جواب میں کہا جاتا ہے: “دین میں اتنی سختی نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں کہاں لکھا ہے کہ بچوں کو ٹیب (Tab) وغیرہ نہ دو؟”
❀ اہم نکتہ
ہمیں ہر حال میں اپنے بچوں کو اسکرینوں سے دور رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی اور، مثلاً چچا، ماموں یا کوئی دوسرا، انہیں کبھی اسکرین دکھائے تو ہمیں انہیں بھی منع کرنا ہے۔ کیونکہ اگر بچہ ایک مرتبہ بے حیائی کا منظر دیکھ لے، تو پھر وہ اسے دوبارہ تلاش کرنے لگتا ہے۔ اور ہر حال میں اسکو دیکھتا ہے۔
❀ ہمارا الٹا اصول
دین کا اصول اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے
لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ
یعنی مخلوق کی بات صرف اس وقت تک مانی جائے گی جب تک خالق کی نافرمانی کا باعث نہ بن رہی ہو
لیکن نعوذ باللہ ہم نے اپنا دین بنایا ہوا ہے
لا طَاعَةَ لِلہِ فِي مَعْصِيَةِ الْمخلوق
یعنی خالق کی بات بس اس وقت تک مانی جائے گی جب تک مخلوق کی ناراضگی کا باعث نہ بن رہی ہو
اصول یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہو، وہاں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی، خواہ وہ مخلوق ہمارے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن ہمارا طرزِ عمل اس کے برعکس ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ والدین کی بات ماننا اصل ہے، اس لیے اگر اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، جبکہ اللہ کی اطاعت اصل نہیں ہے۔
❀ وَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ – اللہ کا ایک اور وعدہ
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مددگار ہے۔ لیکن آخر اللہ تعالیٰ ہماری مدد کو کیوں نہیں آتا۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہمیں اس بات پر اعتماد ہے ہی نہیں۔ ہم دیکھا دیکھی اعمال کرلیتے ہیں یا اپنے باپ دادا کی روایات کی پاسداری میں کچھ اعمال کرلیتے ہیں۔
البتہ یہ بات بھی یاد رکھنی ہے کہ ولی کا مطلب یہ نہیں کہ کفر سے ہر مقابلے میں فتح حاصل ہوگی۔ نہیں اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت میں جہاں کوتاہی ہوگی تو ایمان کے باوجود شکست ہوگی۔ جیسے غزوۂ اُحد میں ایمان والوں کو فتح عطا نہیں فرمائی، کیونکہ ان میں سے چند ایک سے نبی کریم ﷺ کی اطاعت میں ایک کوتاہی ہوگئی تھی۔
❀ ایمان کی بنیاد پہلے پھر ایمان کا کمال
ایمان اور یقین کی محنت میں پہلا مرحلہ ایمان سیکھنا ہے، یعنی نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے اس دینِ حق پر اعتماد پیدا کرنا، جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، علماءِ کرام اور مشائخِ عظام کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔ یعنی اعتماد اپنی عقل و ذہانت یا کفار کے نظام طور طریقوں پر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان پر ہونا چاہیے۔
جب ایمان مضبوط ہو جاتا ہے تو اس کے بعد اللہ کی مدد کے مشاہدوں سے یقین کا درجہ حاصل ہوتا ہے، جو ایمان ہی کا اعلیٰ اور کامل تر مرتبہ ہے۔
اہم نکتہ : اصول کی بات: جب ایمان، یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ پر اعتماد، مضبوط بنیادوں پر قائم نہ ہو تو یقین کی عمارت بھی استوار نہیں ہو سکتی۔

