Bin_Moulvi_Guzara_Nahi
Surah Al An'aam 108-113:
Important Notes
🌼 بن مولوی گزارا نہیں 🌼
(درس قرآن سورۃ الانعام آیات ١٠٨-١١٣ بروز جمعہ ٥ جون ٢٠٢٦)
🔷 جائز کاموں میں فساد کی وجہ سے شریعت کا حکم
دین کا ایک اہم اصول ہے کہ جو کام خود کرنا جائز نہیں، اس کا سبب، ذریعہ یا معاون بننا بھی جائز نہیں۔
اسی طرح ایک اور اصول یہ بھی ہے کہ کوئی کام اپنی اصل کے اعتبار سے جائز اور محمود ہو، لیکن اگر اس کے نتیجے میں کوئی فساد، خرابی یا شرعی ممانعت لازم آتی ہو تو وہ بھی ممنوع ہو جاتا ہے اور اسکا ترک کرنا واجب ہو جاتا ہے۔
🔷 اہم نکتہ: البتہ یہ حکم خاص طور پر ایسے جائز کاموں کے بارے میں ہے جو ضروریاتِ دین اور مقاصدِ شریعت میں شامل نہ ہوں؛ کیونکہ ضروریاتِ دین اور احکامات الہی کو محض کسی ممکنہ فساد کی وجہ سے ترک نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ ان سے پیدا ہونے والے مفاسد کے الگ سے تدارک کی کوشش کی جائے گی، جتنا ممکن ہو۔
جیسے نبی کریم ﷺ کی خواہش کہ مشرکین مکہ کے تعمیر کیے ہوئے بیت اللہ کو منہدم کرکے ابراہیمؑ کی تعمیر کے طرز پر قائم کرنا۔ فتح مکہ کےبعد نئے صحابہ کی رعایت کرتے اس کام کو نہیں کیا اس لئے کہ کعبہ کی تعمیر نو مقاصد شریعت میں سے نہیں تھی، کیونکہ اس کے لئے اللہ کا کوئی حکم نہیں آیا تھا۔
🔷 اہم نکتہ: اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اسلام لانے کے بعد ایمان یعنی نبی ﷺ پر اعتماد میں پختگی تدریجاً آتی ہے۔ چنانچہ اس وقت نبی کریم ﷺ نے نئے مسلمانوں سے بدگمانی کے خدشے کا اظہار فرمایا اور کعبہ کی تعمیر نو کو ترک فرما دیا۔ اللہ پاک نے سورہ حجرات آیت ١٤ میں فرمایا۔
قَالَت الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
اسی طرح تابعین میں سے حضرت حسن بصری اور حضرت محمد بن سیرین رحمھما اللہ ایک مرتبہ ایک جنازے میں شریک ہونے کے لیے گئے۔ وہاں عورتوں کا اجتماع دیکھ کر ابن سیرین رحمہ اللہ واپس تشریف لے گئے، جبکہ حسن بصری رحمہ اللہ جنازے میں شریک رہے۔ آپ نے فرمایا کہ کسی خرابی یا فساد کے اندیشے کی وجہ سے ہم ایک فرض عمل کو ترک نہیں کریں گے۔
🔷 اہم نکتہ: اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ شریعت میں نماز جنازہ جیسی عبادت کے لئے بھی عورتوں کا گھر سے باہر نکل کے جمع ہونا مفسدہ سمجھا گیا تو غیر عبادات کے لئے عورتوں کے مجمع کے لئے کیا حکم ہوگا۔ سوائے حج، عمرہ اور ضروری اسفار کے لئے محرم کے ساتھ نکلنا ورنہ قرنَ فی بیوتکن کے حکم پر عمل۔ اس سے مزاج شریعت کا پتا چلتا ہے۔
🔷 قبرستان میں عورتوں کا داخلہ ممنوع
عجیب بات ہے کہ عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر زندگی کے ہر شعبے اور ہر میدان میں بھیجنے میں کوئی شریعی حرج محسوس نہیں کیا جاتا، لیکن جب قبرستان کا معاملہ آتا ہے تو یکایک شریعت یاد آ جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عورتوں سے متعلق شریعت کے باقی تمام احکام کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو، اور صرف قبرستان سے متعلق حکم ہی یاد ہے۔ حتی کہ کوئی قبرستان میں آجائے تو اسے فوراً باہر نکالا جاتا ہے۔ ہم ہرگز یہ نہیں کہ رہے کہ عورتوں کو قبرستان میں جانا چاہیے، لیکن سوچنا چاہیے کہ آجکل انکے قبرستان میں داخلے پر ممانعت پر اتنی شدت سے عمل کس وجہ سے ہے؟
🔷 مقاصدِ شریعت کا تعین کون کرے گا؟
ظاہر ہے کہ یہ اپنی ناقص عقل کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا، بلکہ یہ کام علماء و مفتیانِ کرام کا ہے کیونکہ انہوں نے ہی دین کا گہرا اور مستند علم حاصل کیا ہے۔ یہ محض نماز پڑھا دینا یا فاتحہ پڑھ دینا جیسا آسان کام نہیں جو کوئی بھی سطحی علم کے ساتھ کرسکے۔ اسی لئے ہم علماء کرام کے ہمیشہ محتاج رہیں گے۔
🔷 اہم نکتہ: محض اس بنیاد پر کہ ہمیں کوئی چیز اچھی لگتی ہے یا دوسرے لوگ اس سے برا مان جائیں گے، اسکو ترک کرنے کا فیصلہ جائز نہیں۔ جو کرے گا وہ گناہ کا مرتکب ہوگا اور گناہ پر تو اللہ کی طرف سے سزا ملتی ہے۔
🔷 اہم نکتہ: نصیحت یعنی خیرخواہی میں حکمت
اولاد یا کسی اور کو براہِ راست نصیحت کرنے یا کسی کام کا حکم دینے سے اسکے بغاوت یا والدین کی نافرمانی کے کبیرہ گناہ کے مرتکب ہونے کے خطرہ کی وجہ سے اگر نصیحت یعنی خیر خواہی کو فی الوقت چھوڑنا بھی ہو تو بھی اسکو مکمل ترک نہیں کرنا چاہیے، بلکہ حالات کے مطابق اس کا اسلوب اور طریقۂ کار بدل لیا جائے تاکہ خیر خواہی کا مقصد حاصل ہو سکے۔ نبی کریم ﷺ نے بتا دیا کہ الدین النصیحہ، دین تو سراسر خیر خواہی ہی ہے۔
🔷 قرآن عظیم الشان – دائمی معجزۂ نبی کریم ﷺ
ہمارے پیارے نبی ﷺ کا سب سے عظیم، زندہ اور دائمی معجزہ قرآنِ کریم ہے، جو آج بھی اسی طرح محفوظ اور ہمارے درمیان موجود ہے جیسے چودہ سو سال پہلے نازل ہوا تھا۔ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے معجزات انکے اپنے اپنے زمانے اور وہاں موجود لوگوں تک محدود تھے؛ بعد میں آنے والی نسلیں ان معجزات کو براہِ راست نہیں دیکھ سکیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا امتِ محمدیہ پر یہ عظیم فضل ہے کہ اس نے اس کو ایسا معجزہ عطا فرمایا جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ اس عظیم الشان نعمت اور کلام الہی کے ساتھ ہمارا رویہ اس کے شایانِ شان نہیں۔ قرآنِ کریم محض تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ ہدایت حاصل کرنے، سمجھنے، اس میں غور و فکر کرنے اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنے کے لیے ہمیں عطا کیا گیا۔
اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دوسروں کی باتوں پر زیادہ توجہ دینے کی بجائے اپنے رب کے اس کلام کے معانی و مقاصد کو سمجھیں، اس کی تعلیمات میں تدبر کریں، علمائے ربانی سے اس سے متعلق سوال پوچھیں اور اسے اپنی زندگی کا رہنما بنائیں۔ یہی قرآن کے حق کی ادائیگی ہے اور یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
🔷 مقاصد شریعت کیا ہیں؟ “اللہ کے احکامات”
اللہ تعالیٰ کے وہ احکامات، جو نبی کریم ﷺ کے ذریعے ہمیں پہنچے ہیں، اصل میں انہی کی اطاعت مطلوبِ شریعت ہے، لیکن افسوس کہ ہم اس اصل کو نظر انداز کرکے اپنی خواہشات کے مطابق دین اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ جو بات اپنی طبیعت کے موافق ہو اسے قبول کر لیتے ہیں، اور جو ناگوار گزرے اسے یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ تو دین ہے ہی نہیں۔
🔷 اصلاح، تربیت اور یکسوئی
اسی طرح اصلاح و تربیت کے لیے جس شیخ سے تعلق قائم کیا جاتا ہے، اس کی ہدایات، بیانات اور پیغامات کو بھی وہ توجہ نہیں دی جاتی جس کا تقاضا ہے۔ شیخ کے پیغامات کو سرسری طور پر پڑھ لیا جاتا ہے یا بعض اوقات بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ادھر ادھر کی باتیں شوق سے سنی جاتی ہیں اور شیخ سے بھی ان ہی سے متعلق سوالات پوچھتے ہیں۔ شیخ کے اپنے کلام سے متعلق کوئی طالب علمانہ سوال ہی نہیں کیا جاتا جس سے ہماری یکسوئی اور سنجیدگی کا اظہار ہو۔
اس طرح نہ ہماری اصلاح ہوتی ہے بلکہ یہ طرزِ عمل ہماری نسبت کے کمزور ہونے کا سبب بنتا ہے جو آگے چل کے ہمیں بہت بڑے نقصانات میں مبتلا کردیتا ہے۔

