🕋 درسِ تفسیر القرآن🕋
سورۃ الأنعام، آیات 114 تا 117
🔸پچھلی آیات کا خلاصہ
گزشتہ آیات میں ذکر تھا کہ مشرکینِ مکہ معجزات دیکھ لینے کے باوجود مزید معجزات کا مطالبہ کرتے تھے اور قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ اگر مزید نشانیاں دیکھ لیں تو ضرور بالضرور ایمان لے آئیں گے۔ ان کے اس مطالبے میں اخلاص نہیں بلکہ ہٹ دھرمی اور ضد تھی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ان کی خواہش کے مطابق معجزات دکھا بھی دیے جائیں تو یہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے، اور سنتِ الٰہی کے مطابق اس کے بعد ان پر عذاب نازل ہو جائے گا۔
🔸دعوتِ دین کا اہم اصول
اس سے داعیانِ دین کے لیے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے کہ اگر لوگ دین قبول کرنے کے لیے مختلف شرطیں رکھیں یا کہیں کہ پہلے ہماری خواہشات کو پورا کرو، پھر ہم مانیں گے، تو ان کی خواہشات کے مطابق ہم دین کو تبدیل نہیں کرسکتے تاکہ وہ ایمان لے آئیں۔
ہمارا کام صرف وہ دین پہنچانا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، نہ کہ تبدیل شدہ دین۔ اگر اللہ کسی کے لیے ہدایت کا فیصلہ فرمائیں گے تو وہ ضرور ہدایت پا لے گا۔
لوگوں کے نہ ماننے پر دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی انہیں خوش کرنے کے لیے دین کے اصول بدلنے چاہئیں۔ اگر دین میں تبدیلی کر دی جائے تو لوگ ایک گمراہی سے نکل کر دوسری گمراہی میں چلے جائیں گے۔ اس صورت میں اگر وہ بظاہر مان بھی جائیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ جس دین سے کامیابی ملنی تھی وہ تو مسخ ہوچکا ہوگا۔
دینِ حق کی صحیح تبلیغ خود داعی کے لیے بھی باعث فائدہ مند ہے، جبکہ دین میں تبدیلی اس فائدے کو بھی ضائع کر دیتی ہے۔
🔸دین میں تبدیلی کی کوشش
اسی حقیقت کو سورۃ بنی اسرائیل میں بیان فرمایا:
کفار پوری کوشش کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو وحی سے ہٹا کر ان کی خواہشات کے مطابق دین میں تبدیلی کروا دیں۔
اگر (بالفرض) دین میں ایسی تبدیلی کر دی جاتی، مثلاً قصاص یا چوری کی سزا جیسے احکام بدل دیے جاتے، تو یہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہوتا کہ اللہ نے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں رکھی بلکہ کچھ اور رکھی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر آپ ایسا کرتے تو یہی لوگ آپ کے دوست بن جاتے، لیکن اللہ سے آپ کی دوستی ختم ہو جاتی۔
یہ معاملہ آج بھی موجود ہے۔ کفار کا پیغام یہی ہے کہ دین کے احکامات بدل کر اللہ سے تعلق کمزور کر لو، اور ہم سے تعلق مضبوط کر لو۔
🔸داعی کی ذمہ داری
* ہمارا کام خیر کی دعوت دینا ہے
* اللہ نے جیسے حکم دیا ہے ویسے ہی دین پہنچاتے رہنا ہے۔
* ﴿فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ﴾ نصیحت کرتے رہیں، کیونکہ نصیحت ضرور بالضرور فائدہ دیتی ہے۔
یہاں فائدہ صرف سننے والے کا نہیں بلکہ نصیحت کرنے والے کا بھی مراد ہے۔ ابو جہل جیسے لوگ نبی کریم ﷺ کی دعوت کا فائدہ نہیں ہوا، لیکن آپﷺ کا فائدہ اس سے ضائع نہیں ہوا۔ چنانچہ خودغرضی بے شک نہ ہو کہ میں صرف اس لئے دعوت دے رہا ہوں کہ اسمیں میرا فائدہ ہے، بلکہ مخاطب کی خیرخواہی بھی دل میں ضرور ہو، لیکن اس کو خوش کرنے کے لیے دین میں کوئی تبدیلی ہرگز نہ کی جائے۔
🔸شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے سہولت دینا
رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کے مطالبات کو شفقت کے ساتھ رد فرمایا۔ اس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ لوگوں کی جائز ضروریات کو شریعت کے دائرے میں رہ کر accommodate کیا جا سکتا ہے، لیکن شریعت سے باہر جا کر نہیں۔
🔸سنجیدگی کے ساتھ علم حاصل کرنا
جو بات پہلے واضح کی جا چکی ہو، اس کے بارے میں سوال کرنا علم حاصل کرنے کے لیے درست ہے۔
لیکن غیر سنجیدہ انسان وہ ہے جو اصل موضوع چھوڑ کر ہر بار نئی بات شروع کر دیتا ہے۔ جیسے یہ مشرکین کرتے تھے کہ پہلے دئیے گئے جوابات کو چھوڑ کر نئے نئے مطالبے رکھتے رہتے تھے۔
🔸نبوت کی سب سے بڑی دلیل: قرآن
قرآن مجید نبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا اصل دعویٰ اللہ کے وجود کا نہیں تھا، بلکہ یہ تھا کہ:
میں اللہ کا رسول ہوں، اور جو احکام تمہیں بتا رہا ہوں وہ اللہ کے احکام ہیں۔
اگر کسی کو اس دعوے میں شبہ ہو تو قرآن نے چیلنج دیا کہ اس جیسی ایک چھوٹی سی سورت ہی بنا کر لے آؤ۔ عرب کے بڑے بڑے ادیب اور شعراء بھی اس کا جواب نہ دے سکے۔ ایک شاعر نے تو بے اختیار کہا:
“ما هذا قول البشر”
🔸قرآن اور سائنس
آج کے دور میں سائنس کو بہت بڑی حیثیت دی جاتی ہے۔
قرآن نے صدیوں پہلے فرمایا:
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
ہم نے ہر زندہ چیز کی ابتدا پانی سے کی۔
آج کے سائنسدان بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ قرآن کے ایسے بیانات آج کے لوگوں کے لئے اس کی صداقت کی دلیل ہیں، کیونکہ آج عربی زبان کا علم نہ ماننے والوں میں ویسا موجود نہیں کہ انکو قرآنی عربی کے اعجاز سے دعوت دی جائے۔
آج کا سائنسدان بھی قرآن مجید کے سامنے ہار چکا ہے۔ اب وہ بھی قرآن کے موجودہ اعجاز کو رد کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے لیکن وہی حرکت کہ دوسرے طریقے سے مسلمانوں کو نقصان پہنچائو ۔ آج مخالفت کا انداز بدل گیا ہے۔ قرآن کا جواب دینے کے بجائے مسلمانوں کو کمزور کرنے، علماء پر دباؤ ڈالنے اور دین سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
🔸قرآن مجید کے چار نمایاں کمالات
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا﴾
قرآن کی نمایاں خصوصیات
* اللہ کا کلام ہے
* معجزہ ہے۔ یعنی مخالفین کو شکست دینے والا۔ عاجز کردینے والا۔
* تمام بنیادی مضامین کو تفصیل سے بیان کرتا ہے۔
* اہلِ کتاب بھی جانتے تھے کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ حق کتاب ہے۔
اس کے باوجود اگر کوئی اپنا نظام کہیں اور سے لے تو یہ قرآن کی رہنمائی سے اعراض ہے۔
🔸شک سے بچنے کی تلقین
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
﴿فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ﴾
یہ خطاب دراصل امت کی تعلیم کے لیے ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کبھی شک میں مبتلا نہیں ہوئے۔
مراد یہ ہے کہ اللہ کے احکام، ان کے نفع و نقصان اور دین کی حقانیت کے بارے میں دل میں کسی قسم کا تردد نہ رہے۔ دوسروں کو دین بتاتے وقت خود بھی اس پر سو فیصد یقین ہونا چاہیے۔
🔸اکابرین، قیاس اور حسنِ ظن
اگر کسی بڑے کا کوئی قول یا عمل بظاہر اصول کےخلاف محسوس ہو تو پہلے حسنِ ظن سے اس کی تاویل کی جائے۔
فقہ میں اسی اصول سے قیاس کے ذریعے احکام لگائے جاتے ہیں، جیسے بھینس کو گائے پر قیاس کرتے ہوئے اس پر حلال کا حکم لگایا جاتا ہے۔
تو اکابر کا کوئی غیر معمولی قول یا عمل اسکی مناسب تاویل کرکے قیاس کے مطابق ثابت کیا جاسکے تو بہت اچھا، ورنہ اسے خاص حالات پر محمول کیا جائے۔ یعنی یہ انہوں نے بس کسی خاص شخص یا خاص وقت یا خاص حال کے لئے کہا تھا یا کیا تھا۔ اسکو فقہ کی زبان میں “خلاف قیاس بات کو مورد (وارد ہونے کا وقت یا جگہ) پر بند کرنا” بھی کہتے ہیں۔ لیکن اس سے شریعت کا کوئی مسلم اصول چھوڑ یا توڑ کر نہ اصول نہیں بنایا جائے۔
اس طریقے سے اکابر کے ساتھ اچھا گمان بھی باقی رہ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی۔ورنہ اللہ کے حکم کو تبدیل کردینے سے اللہ کے ساتھ تعلق ختم، اور اکابر کے ساتھ بدگمان ہوجانے سے ان کے ساتھ تعلق ختم۔
🔸دین ہی حقیقی زندگی ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾
اللہ اور اس کے رسول کی دعوت قبول کرو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی عطا کرتی ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ حقیقی زندگی اللہ کے دین میں ہے، اور اس کے بغیر روحانی موت ہے۔ داعی کے دل میں یہ یقین ہونا چاہیے کہ لوگوں کی کامیابی صرف اللہ کے دین میں ہے، کوئی متبادل راستہ نہیں۔
یہ یقین پیدا ہوگا تو سب سے پہلے دل سے دعا نکلے گی، پھر انسان چوبیس گھنٹے دین کی فکر میں رہے گا اور ہر وقت اللہ سے مدد مانگے گا۔
🔸یقین کیسے پیدا ہوتا ہے؟
یقین صرف معلومات سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ سے مانگنے سے حاصل ہوتا ہے۔
انسان کو مسلسل دعا کرنی چاہیے کہ:
اے اللہ! ہمارے دلوں سے ہر قسم کا شک دور فرما اور اپنے دین پر کامل یقین عطا فرما۔
🔸ٹیکنالوجی اور اے آئی کا صحیح استعمال
ٹیکنالوجی بذاتِ خود مسئلہ نہیں، بلکہ اصل مسئلہ اس کو سے پر سوار کرلینا ہے، بجائے اس کے کہ اس پر ہم سواری کرتے۔
یعنی اگر اسے اپنا غلام بنا کر استعمال کیا جائے تو یہ مفید ہے، لیکن اگر انسان خود اس کا غلام بن جائے تو نقصان دہ ہے۔
مثلاً:
* غیر حافظ کا قرآن کی آیت تلاش کرنے کے لئے اے آئی استعمال کرنا،
* اہل حق کا کیا ترجمہ اور تفسیر انٹرنیٹ پر دیکھ لینا،
* اہل حق کی صحبت میں اپنی ذہن سازی ہوجانے کے بعد انٹرنیٹ کو مزید تحقیق کے لئے استعمال کرنا،
یہ سب درست استعمال ہیں۔ اے آئی یا دیگر ٹیکنالوجی ایسے ہمارے کاموں میں مدد دے سکتی ہے جن سے ہمارا وقت بچے اور ہم اپنی توانائی آخرت کے اہم کاموں، عبادت، اہلِ خانہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا وقت گزارنا اور دین کی خدمت پر صرف کر سکیں۔
لیکن اے آئی وغیرہ کی وجہ سے ہنر سیکھنے، سوچنے اور علمی صلاحیتوں کو ترک کر دینا درست نہیں۔ اس کے لئے ضروری علوم سیکھنے پڑیں گے۔ ہر چیز کے لئے اے آئی پر انحصار کریں گے تو مکمل مفلوج ہوکے رہ جائیں گے۔
اصل خطرہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ نفس اور شیطان ہیں، جو انسان کو ٹیکنالوجی کا آقا کے بجائے ٹیکنالوجی کا غلام بنا دیتے ہیں۔
🔸اللہ پر کامل اعتماد
صحابۂ کرامؓ کا یقین یہ تھا کہ ہر ضرورت اللہ ہی سے مانگنی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو اللہ ہی سے مانگو۔ تو صحابہ اگر گھوڑے کی چابک بھی گرجائے تو کسی پاس کھڑے شخص سے مانگنے کی بجائے (یعنی دستیاب اسباب اختیار کرنے کی بجائے) گھوڑے سے خود اتر کر اسے اٹھایا کرتے تھے۔ ہم شاید عمل کے اس درجے تک کبھی نہ پہنچ سکیں، لیکن اپنی سوچ ضرور ایسی بنا سکتے ہیں کہ اللہ سے ہر معاملے میں مانگنا ہے چاہے اسباب اختیار بھی کر رہے ہوں۔ اسباب پر اعتماد نہیں کرنا، اعتماد اللہ پر ہی کرنا ہے۔
مصیبت آئے یا خوشی، ہر حال میں اللہ سے رجوع، دعا اور گڑگڑانا مؤمن کی شان ہے۔
🔸تفسیرِ دل
صرف معلومات، حوالہ جات اور اعداد و شمار بیان کرنا کافی نہیں۔
تفسیرِ دل وہ ہے جس میں قرآن کے معارف موجودہ حالات سے زندہ تعلق پیدا کریں اور دلوں پر اثر ڈالیں۔
اس کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں:
* علومِ قرآن اور عربی پر مضبوط دسترس
* اللہ سے وابستہ زندہ دل جو اللہ کی محبت کے جذبات سے لبریز ہو
صرف علمی مہارت کافی نہیں، اور صرف جذبات بھی کافی نہیں؛ تفسیر دل کے لئے دونوں کا جمع ہونا ضروری ہے۔
🔸اختتامی نصیحت
صحابۂ کرامؓ مختلف تہذیبوں اور فلسفوں کے سامنے آئے، مگر انہیں کامل یقین تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دیا ہوا نظام ہی سب سے بہتر ہے۔ یہ بالکل سادہ سی بات تھی کہ جب اللہ کو خالق مالک اور نبی ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ نفس اور شیطان سے سیکھ کے بنایا ہوا نظام رسول اللہ کے بتائے نظام سے بہتر ہو!
🔸اصل چیز زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ دل کا یقین ہے
اگر ہماری گفتگو اور فیصلوں سے معلوم ہو کہ اصل اعتماد اللہ کے بجائے دنیا کے نظاموں پر ہے، تو ہمیں اپنے ایمان، یقین اور اللہ سے تعلق کی تجدید کی ضرورت ہے۔