Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Deen tu Iztirab ka Dosra Naam Hay

Class Date:28/08/2026

Surah Al An'aam 122:

Audio

To Download or increase speed click :

Class Notes

🌷 Recording & Notes – Weekly Majlis Bayan🌷
🕋 درسِ تفسیر القرآن
سورۃ الأنعام، آیات 122
بروز جمعہ : ۲۸ اگست ۲۰۲٦
🌼 دین تو اضطراب کا دوسرا نام ہے 🌼
أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔
یہی لفظ “میّت” اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ کی آیت میں بھی استعمال فرمایا ہے:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ
تم پر مردار حرام کر دیا گیا۔
وہاں “مردار” سے مراد وہ جانور ہیں جو اپنی موت آپ مر گئے، جسے کہا جاتا ہے کہ اللہ رب العزت نے ان کی جان قبض کر لی اور وہ جسمانی و مادّی طور پر مر گئے۔
أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا
اس آیت میں اللہ پاک اپنی قدرت کا اظہار فرما رہے ہیں کہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ یہ شخص جسمانی طور پر تو زندہ تھا تو اسکے اندر روح تو پہلے ہی موجود تھی تو پھر اسکو روحانی طور پر مردہ کیوں فرمایا۔ یہ کیوں فرمایا کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور نور عطا کیا، جس کے ذریعے سے وہ حق کے راستے پر چل سکے۔ اس نور کی روشنی میں وہ چیزیں دیکھ سکے، اپنا راستہ متعین کر سکے، نقصان دہ چیزوں سے اپنے آپ کو بچا سکے، اور فائدے کی چیزوں تک پہنچ سکے اور انہیں اپنا سکے۔
کیونکہ ایک تو جسم کی زندگی ہے ایک روح کی اپنی زندگی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے پروردگار کو پہچاننے اور اس کی طرف رجوع کرنے کے قابل ہو۔ کیونکہ یہی اس کا مقصدِ حیات ہے، اور اگر وہ اس مقصدِ حیات کو پورا نہیں کرتی تو وہ روح ہے مگر مردہ ہے۔
انسان جس کے اندر روح موجود ہے، مگر اپنے پروردگار کو نہیں پہچانتا، اسکے احکامات کو اہمیت نہیں دیتا، اسکی روح مردار ہے، مری ہوئی ہے، کیونکہ اپنے مقصدِ زندگی کو پورا نہیں کر رہی ہوتی۔ اور ہمیں معلوم ہے کہ مردار تو نجس ہوتا ہے۔
پھر جب اللہ تعالٰی اس کی روح کو ہدایت کے ساتھ زندہ کر دیتا ہے تو پھر یہ ہدایت والی روح اس سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتی۔ مرتے وقت بھی اس کے ساتھ رہتی ہے اور اس کے ساتھ جاتی ہے۔
بات کی وضاحت کے لیے مثالیں:
اسی وجہ سے ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ساری زندگی ظاہراً مسلمان رہا، اور جب موت سے چند لمحے دور رہ گیا اور وہ ایمان سے محروم ہو کر مر گیا، تو جو شخص موت سے پہلے ایمان سے محروم کر دیا گیا، اس کے پاس کیسی ہدایت تھی؟ وہ کون سی ہدایت تھی جو اس کے ساتھ قبر تک نہ جا سکی، جو اس کے ساتھ رہ نہ سکی بلکہ اس سے جدا ہو گئی؟ چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے پاس جو ہدایت تھی، وہ محض ظاہری ہدایت تھی، ایک دھوکا تھا۔ وہ حقیقت میں ہدایت نہیں تھی۔
اگر اس کے پاس اصل ہدایت ہوتی تو وہ تو کبھی جدا ہونے والی چیز نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ پہلے ہی سے کفر پر تھا، لیکن ہم نے اس کے نیک اعمال دیکھ کر اس کے بارے میں اچھی رائے قائم کر لی تھی (جو ہمیں کرنی بھی چاہیے تھی کیونکہ ہمیں کسی کے مستقبل کا تو نہیں پتا)۔ لیکن حقیقت میں اس شخص کے پاس کچھ نہیں تھا۔ جب موت کا وقت آیا تو حقیقت کھل کر سامنے آگئی، اور جو دھوکا تھا وہ ختم ہو گیا۔
حضرت جی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ ایک واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ وہ طوطا بڑی اچھی طرح “اللہ اللہ” کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ شخص طوطے کا پنجرہ ٹھیک طرح بند کرنا بھول گیا۔ ایک بلی طوطے کو پکڑ کر باہر نکال کر لے گئی۔ جب وہ شخص کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ اسے بلی لے جا رہی ہے۔ لیکن اسے یہ زیادہ دکھ تھا کہ جب بلی اسے لے کر جا رہی تھی تو اس وقت وہ “اللہ اللہ” نہیں کر رہا تھا بلکہ طوطے والا ٹائیں ٹائیں نکال رہا تھا؟
اس نے یہ ساری بات ایک بزرگ کو بتائی تو انہوں نے اس کو اسکی حقیقت سمجھائی کہ دیکھو اس طوطے کی زبان پر “اللہ اللہ” تھا، لیکن اس کے دل میں اس کی اصل جانور والی فطرت ہی تھی۔تو جب اس پر مصیبت آئی تو وہی اس وقت ظاہر ہوگئی اور وہ “اللہ اللہ” بھول گیا۔
حضرت جی ایک اور واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ملتان کے ایک ہسپتال میں ایک نیک ڈاکٹر صاحب ICU میں ہوتے تھے، جہاں ایسے مریض آتے تھے جو بالکل نزع کی حالت میں ہوتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی کہ میں ان سب کو کلمے کی تلقین کرتا تھا۔ لیکن ان میں سے کوئی دس، گیارہ فیصد ہی کلمہ پڑھ پاتے تھے، باقیوں کو کلمہ پڑھنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی تھی۔ کسی کی زبان پر گالیاں ہوتیں، کوئی اپنی کاروباری بھاؤ تاؤ میں مگن ہوتا، کوئی کسی اور دنیوی بول میں۔
اہم نکتہ
زندگی میں جس نے دل میں جس کو بسایا ہوگا، موت کے وقت بھی اسی طرف اسکا دھیان ہوگا۔
كَمَا تَعِيشُونَ تَمُوتُونَ
جیسی تم زندگی گزارتے ہو، ویسی ہی تمہیں موت آئے گی۔
اللہ سے غفلت اور بے توجہی والی زندگی گزاری ہوگی، اگر اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہمارا رویہ مثبت نہ ہو، اچھا نہ ہو، جیسا تقاضا ہے ویسا نہ ہو، تو پھر ہمارا کیا خیال ہے کہ ہم ایمان و سلامتی کے ساتھ اس دنیا سے جائیں گے؟ کیسے ہم یہ توقع کر سکتے ہیں؟
ایں خیال است و محال است و جنوں
یہ محض خیال ہے، مشکل ہے بلکہ یہ تو دیوانگی ہے
ہم اللہ کے بارے میں یہ تصور کر لیتے ہیں کہ ہمارا تو اللہ کے ساتھ رویہ ایسا ہو کہ اپنے دل میں اسکو کوئی جگہ دینے کے لئے تیار نہ ہوں، مگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہاتھوں ہاتھ (بلا حساب) لے کر جنت میں داخلے کے لیے ریڈ کارپٹ ویلکم دیں۔
ابھی دو دن پہلے ایک اللہ والے شخص کا آڈیو میسج کسی گروپ میں شیئر کیا گیا جو لگ رہا تھا کہ مرض الموت میں تھے۔ آواز بھی صحیح سے نہیں نکل رہی تھی، مگر ماشاءاللہ، میسج میں اللہ کی رضا اور ایمان کی سلامتی اپنے لیے اور سب سننے والوں کے لیے مانگ رہے تھے۔ میرے دل پر اس کا اثر یہ ہوا کہ جیسے وہ اللہ والوں کی صحبت میں رہتے تھے، دل کی توجہ کے ساتھ حاضر ہوتے تھے، اب جب انہیں اپنی موت نظر آ رہی تھی ان پر اور کوئی فکر نہ تھی سوائے اس کے کہ اللہ کی رضا نصیب ہو جائے۔ بندہ جیسی زندگی گزارتا ہے، اس کی فکریں بھی پھر ویسی ہی ہو جاتی ہیں۔
موت کے ساتھ مسئلہ یہ نہیں کہ اگر ہمیں موت آگئی تو کیا بنے گا، بلکہ موت کو تو مسئلہ یہ ہے کہ جب ہمیں موت آئے گی تو ہمارا کیا بنے گا۔
عربی زبان میں نفی کے لیے دو لفظ آتے ہیں: ایک لا اور دوسرا لَيْسَ۔ لَيْسَ سے پورے جملے کی نفی ہو جاتی ہے۔
لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ
یعنی یہ انسان اس سے نکل ہی نہیں پا رہا۔
اسی آیت کی ابتدا میں اس کا جواب موجود ہے:
جسے اندھیروں میں سے نکالا، اسے حیات دی، زندگی دی، اسے اللہ ہی نے دی۔ اور جسے نہیں نکالا؟ اللہ تعالیٰ کا اس کے حق میں ایسا فیصلہ نہیں اس لیے وہ اس ظلمت سے نکل تہے۔ قرآنِ عظیم الشان واضح طور پر فرماتا ہے کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتے، بلکہ یہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ جب اللہ کسی کو ہدایت نہیں دیتے تو یہ کوئی ظلم نہیں، بلکہ یہ اس شخص کے اپنے کیے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے نیکی کی توفیق نہیں دی۔
چنانچہ وہ خواہ کیسے ہی اعمال کرلے، الٹا لٹک جائے، اپنی محنتوں کی بنیاد پر وہ ان اندھیروں سے نہیں نکل سکے گا جب تک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے انکار کرتا رہے گا۔ رجوع کرنے کا مطلب سچی پکی توبہ کرنا ہے تمام شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے۔
مگر ہم اپنے اعمال، اپنی صلاحیتوں، اپنی سوچ، عقل اور علم میں ایسے پھنس گئے ہیں کہ ہم رجوع الی اللہ یعنی توبہ کو بھول گئے ہیں۔
آج صبح ساتھیوں سے بات ہو رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ
قسم ہے زمانے کی، بے شک انسان خسارے میں ہے۔
پہلے ہی انسانیت کے بارے میں فیصلہ ہوا ہوا ہے کہ وہ تباہی اور خسارے میں ہے، اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس سے استثنیٰ بیان فرماتے ہیں:
إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے۔
اس ترتیب میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلی چیز “آمَنُوا” (ایمان لانا) رکھی ہے۔
اگر ہم اپنے دل میں جھانک کر دیکھیں تو کیا واقعی ہم “ایمان” لائے ہیں؟ اس کے لئے دیکھنا پڑے گا کہ ایمان لانے کا مطلب کیا ہے؟
کیا ابوجہل اللہ کو نہیں مانتا تھا؟ کیا یہودی اور عیسائی آخرت کو نہیں مانتے ہیں؟ نہیں بلکہ بالکل مانتے ہیں۔ لیکن محض اللہ اور آخرت کے وجود کو مان لینا تو ایمان نہیں ہے۔ ہم ایمان کی تعریف جانے بغیر ہی اپنے آپ کو بڑی تیزی سے مومن تسلیم کر لیتے ہیں اور فورا سے آگے بڑھ پر و عملوا الصلحت پر آجاتے ہیں۔
ایمان کی تعریف
نبی کریم ﷺ جو کچھ لے کر آئے، ان کی ہر ہر بات پر اعتماد کرنے کو ایمان کہتے ہیں۔ چاہے اس کی حکمت ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ آپ ﷺ کی کسی بات کا انکار نہ کرنا، بلکہ صرف زبان سے اقرار ہی نہیں دل کی تصدیق کے ساتھ اسے ماننا اور اس پر اعتماد کرنا۔
کیا ہم نے اس بارے میں کبھی سوچا بھی ہے؟
حقیقت یہ نہیں کہ ہم کہیں آپ کی کسی بات کا انکار تو نہیں کر رہے، بلکہ مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی کون سی بات کا اقرار کرتے ہیں؟ کیا ہم قرآن کے احکامات میں سے کسی ایک بات کا بھی اقرار کرتے ہیں، یا سب ہی کا انکار کر رہے ہیں؟
جب تک اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے دین، نظام اور ترتیب کو اصل نہیں سمجھیں گے اور اپنے خود ساختہ دین ہی کو دین سمجھتے رہیں گے، تو ہم تو ایمان والے ہی نہیں ہیں۔ تو پھر ہم ان اندھیروں سے کیسے باہر نکل سکیں گے جن میں ہم پھنسے ہوئے ہیں؟ اللہ تعالیٰ تو ایمان والوں کو ان اندھیروں سے باہر نکالتا ہے۔ بے ایمانوں کو تو نہیں۔۔
ہم نے قرآنِ عظیم الشان کو چھوڑ رکھا ہے، اور اس کے ساتھ ہمارا یہ رویہ ہے کہ یہ ایک وظیفہ ہے جسے بس ہم نے مجبوراً پڑھنا یا سننا ہے، تو چلو جلدی سے اس پر سے گزرو، کیونکہ اس کے بعد ہمیں اصل کام پر لگنا ہے، یعنی اعمال کرنے ہیں۔ گویا اعمال ہی اصل اور زیادہ اہم چیز ہیں۔ ہم دینداروں کے لیے اعمال ہی اصل بن گئے ہیں، کیونکہ ہم انہیں دیکھ سکتے ہیں، چھو سکتے ہیں اور محسوس کر سکتے ہیں۔
ہمیں اپنے دل کو ٹٹول کے پوچھنا چاہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ ہمارے لیے واقعی غیب ہیں، یا اللہ پاک کی ذات ہمارے لیے معدوم ہے، یعنی ہے ہی نہیں؟ غیب تو وہ چیز ہوتی ہے جو ہو لیکن بس ہمیں نظر نہ آتی ہو۔ جیسے اس مجلس میں خواتین اور بچے موجود ہیں لیکن ہمیں نظر نہیں آرہے۔ وہ معدوم تو نہیں ہیں۔
لیکن ہمارے رویے، ہمارے طرزِ عمل اور ہمارے نام نہاد دینی اعمال سے تو یہی لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے موجود ہی نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ غور و فکر کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہمارا رویہ غیب والا ہے یا معدوم والا؟
ہماری اپنی محنتیں، ہمارے اعمال اور ہماری تدبیریں سب ہمارے نزدیک موجود بھی ہیں اور اصل بھی۔ جب کہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کا حکم، اس کا وعدہ اور اس کی بتائی ہوئی حقیقتیں ایک تخیل (fantasy) سے زیادہ نہیں۔
یہ وہ سوال ہے جس پر ہمیں اپنے دل کے اندر اتر کر غور کرنا چاہیے۔
کافر کسے کہتے ہیں؟
جو اللہ اور نبی علیہ السلام کی بات کا انکار کرے۔ کافر صرف اس کو تھوڑی کہتے ہیں جس کا نام کافروں والا ہو۔ آج کل تو عبداللہ اور محمد ex-Muslim ادارے کے رہنما ہیں اور اپنے آپ کو کھلے عام کافر، یعنی ex-Muslim بتاتے پھرتے ہیں۔
كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
یہی تو اللہ پاک قرآنِ عظیم الشان میں فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شیطان کے ذریعے سے ان کے اعمال انکے سامنے مزین بنوا دیتا ہے۔ ہمارا مقصد یہاں کسی پر کفر کا فتویٰ لگانا نہیں۔ ہمارا مقصد اضطراب پیدا کرنا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ جس کو چھوڑ کر آگے نکل جایا جائے۔ یہ ایمان کا مسئلہ ہے۔
شیطان ہمارے اعمال مزین اس لئے نہیں بناتا کہ ہم سے ہمارے مزین شدہ اعمال خرید لے۔ بلکہ ہمیں اطمینان دلانے کے لیے ایسا کر رہا ہے کہ تم جو کر رہے ہو، بہت اچھا کر رہے ہو اور یہی صحیح ہے۔ بس تمہاری آنکھ بند ہونے کی دیر ہے، اللہ پاک تمہارا ریڈ کارپٹ کے ساتھ استقبال کریں گے۔ تو نبی کی باتوں کے انکار کے ساتھ اعمال پر اطمینان دلانا شیطان کا کام ہے۔
شیطان کی ضد کیا ہے؟ غیر مطمئن کرنا، مضطرب کرنا، پریشان کرنا، تاکہ ہم اٹھیں اور جاگیں، ٹٹولیں کہ کیا واقعی ہم نبی ﷺ کی باتوں پر ایمان لائے ہیں یا انکے انکاری ہیں؟
ہمارے مشائخ فرماتے تھے کہ تصوف اضطراب کا دوسرا نام ہے۔ ہمیں ان الفاظ کی حقیقت کا کیسے پتا چلے گا؟ جب ہم مشائخ، رجال اللہ اور اہلِ علم کے پاس بیٹھیں گے تو پتا چلے گا کہ یہاں تصوف سے مراد محض دین کا کوئی جدا شعبہ نہیں جس کے لئے اضطراب ضروری ہے اور باقی دین ٹھنڈ کا نام ہے۔ نہیں بلکہ یہاں تصوف سے مراد حقیقی دین ہے۔ چنانچہ درحقیقت حقیقی دین اضطراب کا دوسرا نام ہے۔
ہم چین میں کیسے رہ سکتے ہیں جبکہ ہمارا ایمان خطرے میں ہو؟ چین میں ہونے کا تو مطلب ہے کہ ہمارا ایمان ہے ہی نہیں۔
حضرت جی فرمایا کرتے تھے:
انسان پتھر نہیں کہ پڑا رہے، درخت نہیں کہ کھڑا رہے۔ یہ تو اشرف المخلوقات ہے، اسے چاہیے کہ اپنے رب کی یاد میں لگا رہے۔
کیا مطلب، تسبیح کرتا رہے؟ نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ اپنے رب سے جڑا رہے اس کے کلام کے ذریعے سے یہ دیکھے کہ اس کا اعتماد اپنے رب پر ہے یا ہر ایرے غیرے نتھو غیرے پر ہے۔
کوئی ڈاکٹر کہہ دے کہ آپ کی زندگی میں چار مہینے ہیں، تو ہم اس کو پتھر پر لکیر سمجھتے ہیں۔ اس پر پورا اعتماد ہوتا ہے۔ اگر کوئی اسکول ٹیچر کوئی بات کہہ دے تو ہم اپنے بچے کو سمجھاتے ہیں کہ آپ نے کچھ بھی ہو جائے، ان کی بات ماننی ہے۔
بس نہیں ماننی تو ہمیں پروردگار اور نبی علیہ السلام کی بات نہیں ماننی۔ ہم آمَنُوا کے اوپر سے چھلانگ لگا کر سیدھے عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کی طرف جاتے ہیں۔ اس لئے ہمارے اعمال پھر کیا بنتے ہیں؟ وہ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ کا مصداق بن جاتے ہیں۔
تو اعتماد تو ہمارا شیطان پر ہے جب ہی اس کے دھوکے کو ہم حقیقت سمجھ کے اپنے اعمال پر فریفتہ ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالی، قرآن مجید، اللہ کے نبی علیہ السلام اور ان کی باتوں کو سمجھانے والے اہلِ علم پر تو ہمارا اعتماد نہیں ہوتا۔
اس وجہ سے ہم ان اعمال میں ایسے پھنس جاتے ہیں کہ سورہ و العصر میں بتائی نجات کے لئے تیسری اور چوتھی چیز تک پہنچ ہی نہیں پاتے، جو کہ:
وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
اہم نکتہ
اسی اعمال کے گھن چکر میں پھنسنے کی وجہ سے ہم اپنے اعمال میں ہی مگن رہتے ہیں، جو کہ دراصل سزا ہوتی ہے ہمارے اس رویے کی جو ہم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ رکھتے ہیں۔ تو یہ وہ گناہ ہیں جن سے ہمیں توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان باتوں کو آپ کے ساتھ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم اضطراب میں رہیں۔
جب سعودی عرب میں ہماری نوکری اچھے سے چل رہی ہوتی ہے تو ہم اطمینان میں ہوتے ہیں، اور جب ہمیں کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ کی نوکری نہیں رہی، تو ہم پر اضطراب کی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ اب ہمیں سعودی عرب چھوڑ کر اپنے ملک جانا پڑے گا جہاں کے حالات اچھے نہیں۔
اسی طرح جب دینداروں کی زندگی ایک ڈگر پر آ جاتی ہے اور وہ اپنے اعمال پر اطمینان کی حالت میں آجاتے ہیں اور فکر ختم ہو جاتی ہے۔ تو ایسی صورتحال میں ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کہیں یہ شیطان کے مزین کردہ اعمال تو نہیں، ہمارے ایمان یعنی اعتماد کا کیا حال چل رہا ہے۔
اہم نکتہ
کتنی سنگین بات ہے کہ نہ اپنے ایمان کی فکر، نہ اپنی اولاد کے ایمان کی فکر، نہ اپنے گھر والوں کی، نہ اپنے رشتہ داروں کے ایمان کی فکر کہ کیا ہو رہا ہے، کیا چل رہا ہے ان کے ساتھ، اور پھر بھی اعمال پر خوش ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ کے قرآنِ عظیم الشان کے ساتھ صحیح معنوں میں جڑیں اور اس کے ساتھ جو رویہ ہم نے رکھا ہوا ہے، اس سے توبہ کریں۔

WordPress Video Lightbox