Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Halaat ko Ehkam sey Jorna

Class Date:14/08/2026

Surah Al An'aam 118-121:

Audio

To Download or increase speed click :

Class Notes

🌷 Recording & Notes – Weekly Majlis Bayan🌷
🕋 درسِ تفسیر القرآن
سورۃ الأنعام، آیات 121 تا 118
🌼 حالات کو احکام سے جوڑنا 🌼

🔹 آیات کا ربط
وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ
مندرجہ بالا پچھلی آیت ۱۱٦ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر تم زمین کی اکثریت کی اتباع کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کی راہ سے گمراہ کر دیں گے۔ پھر اللہ پاک نے آگے فرمایا۔

وَإِنَّ كَثِيرًا لَيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ
اللہ تعالیٰ یہاں یہی فرما رہے ہیں کہ اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو پھر تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ یعنی انہوں نے ایک بظاہر عقل کی بات پیش کی؛ اگر تم اس بات کو قبول کرلو گے تو گمراہی میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ کیونکہ تمہاری عقل کی بات انکی عقل کی بات سے زیادہ بھاری تھی۔ یعنی محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔ تو اسمیں جو حکم ہے وہ انسانوں کی عقل سے زیادہ اہم ہے۔ بلکہ اس حکم الٰہی کے مقابلے میں عقل کی بات علم نہیں غیرِ علم ہے۔
🔹 شیاطین اور کفار کی بات قبول کرنے کی مثال
اسکی مثال ایسی ہے کہ آپ ہائی وے پر گاڑی چلا رہے تھے اور آگے کسی نے اشارہ دے کر آپ کو ریگستان کی طرف بلایا تو آپ اسی طرف چل پڑے۔ آپ نے اس اشارے کو اپنی مرضی سے فالو کیا، کسی نے آپ پر کوئی زبردستی تو نہیں کی تھی۔ یہی معاملہ انسان اور جن شیاطین کا بھی ہے۔ وہ ہمارے دلوں میں آئیڈیاز ڈالتے ہیں اور ہم اپنی مرضی سے ان پر چلتے ہیں۔ شیطان کبھی بھی ہمیں کان سے پکڑ کر کسی راستے پر نہیں چلا سکتا۔
🔹فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ
صحابہ کے دور کا واقعہ (مذبوح و غیر مذبوح)
اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان آیات میں اللہ پاک ایک مخصوص واقعے کا ذکر فرما رہے ہیں، جو مذبوح اور غیر مذبوح جانور کی حلت و حرمت کے متعلق ہے۔ یعنی جس جانور کو اللہ کے حکم کے مطابق ذبح کیا گیا، وہ حلال ہے، جبکہ جو جانور اللہ کی تقدیر سے مر گیا، وہ مردار ہے اور حرام ہے۔
اس واقعے میں کفار نے بظاہر انتہائی عقل والی بات پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے جس جانور کو خود مار دیا ہے، تم اسے تو نہیں کھاتے، جبکہ جس جانور کو تم خود ذبح کرتے ہو (یعنی اپنے ہاتھ سے مارتے ہو)، اسے کھاتے ہو۔ گویا وہ اپنی بات کو عقلی دلیل کے طور پر پیش کر رہے تھے۔
یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ کوئی بات جو ہماری عقل کے حساب سے ہمیں بہت بھلی لگے، لیکن اللہ کے حکم کے خلاف ہو، تو کسی بھی صورت میں اسے نہیں مانا جائے گا۔ کیونکہ خالق کا فیصلہ ہی فطرت کے مطابق فیصلہ ہے اور وہی مخلوق کے لیے بہترین فیصلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں کوئی دوسری بات نہ کسی بھی طور پر بہتر ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس میں حقیقی بھلائی ہو سکتی ہے۔
🔹 دلیل سے بات کو سمجھنے کا طریقہ
جب کسی شخص کے سامنے اپنی کوئی دلیل پیش کرنی ہو تو ہم اپنی بات کس طرح رکھتے ہیں؟ وہاں سیلز والا طریقہ یا Breaking the Ice استعمال نہیں کریں گے، بلکہ Common Ground یعنی کوئی ایسا متفقہ نکتہ پیش کریں گے جسے دوسرا شخص بھی تسلیم کرتا ہو۔ پھر اسی متفق علیہ بات کو بنیاد بنا کر اپنی اصل بات سمجھائی جائے گی۔
کافر اس بات کو سمجھتے تھے اور اسی کو انہوں نے استعمال کرکے اپنی طرف سے ایک متفق علیہ نکتہ کو عقلی بنیاد پر چھیڑا کہ جب تم بھی اللہ کو بڑا مانتے ہو اور مانتے ہو کی اللہ ہی مارتا جسکو بھی موت آتی ہے تو بڑے کا مارا تو حلال ہونا چاہیے، نہ کہ تمہارا مارا ہو، یعنی ذبیحہ۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں یہ فرما رہے ہیں کہ ان سے زیادہ بڑی عقل کی بات یہ ہے کہ جب اللہ کا حکم آگیا تو اس کے مقابلے میں کسی بھی عقلی منطق کو نہیں مانا جائے گا۔ کیونکہ جب آپ نے اللہ کو خالق کائنات اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مان لیا، تو اب قرآن عظیم الشان یا حدیثِ مبارکہ کے ذریعے جو حکم آپ ﷺ بیان فرما رہے ہیں، اسی کو درست عقل سمجھا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں مخلوق کی عقلی منطق معتبر نہیں ہو سکتی؛ بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مقابلے میں اپنی عقل کو ترجیح دینا خلافِ عقل ہے۔
🔹 جشنِ عید میلاد النبی ﷺ
ہم جشنِ عید میلاد النبی ﷺ منائیں گے، خوب چراغاں کریں گے، کیونکہ یہ ہمارے نفس کے مطابق ہے، مگر اللہ کے وہ احکام جو نبی ﷺ کے ذریعے ہمیں ملے ہیں، جو اصل دین ہے، اس کی اتباع نہیں کریں گے۔ کیا ہم نے نبی ﷺ کو اللہ کا رسول اسی لئے مانا تھا۔
🔹 14 اگست، یومِ آزادی
اسی طرح 14 اگست، یومِ آزادی کے دن جشن کے نام پر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں پیش پیش رہیں گے، مگر پاکستان کا مطلب کیا لا إله إلا الله یعنی اللہ کی حاکمیت اور اس کے احکام، جو نبی ﷺ کے ذریعے ہمیں ملے ہیں، ان کی اتباع نہیں کریں گے۔ تو کیا ہم نے پاکستان جشن منانے کے لئے بنایا تھا۔
اس طرح 75 سال تو کیا اگر 175 سال بھی گزر جائیں تو ہمارے حالات کبھی نہیں سدھر سکتے۔ اللہ کے حکم کی نافرمانی کرکے نہ ہماری انفرادی حالت کبھی بہتر ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہمارے ملک پاکستان کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔
اہم نکتہ
کبھی ہو جاتا ہے کہ کسی کے باتوں میں آگئے جو کہ نہیں آنا چاہیے تھا۔ مثال کے طور کسی چینل پر کسی کو سنا لیا اور دھوکے میں آ گیے۔ اب اگر ایسا کر لیا تو فورا اس غلط بات کو چھوڑ دیں اور توبہ کریں۔ انکی دلیلوں کو مان کر شک میں پڑ گے تو شک کو فورا رفع کریں، مشائخ کی صحبت میں آ کر فوراً اپنے ایمان کی تجدید کرلیں اور اس شک کے گناہ کبیرہ سے توبہ کریں۔
🔹 عقلی دلیل کی تطبیق
اصولِ دین اور بنیادی عقائد کو ثابت کرنے کے لیے عقلی دلیل درکار ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ ثابت کرنا کہ نبی ﷺ اللہ کے رسول ہیں یا نہیں، یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے، جس کے لیے عقلی دلیل کی ضرورت پڑتی ہے۔
جب نبی کریم ﷺ نے قریشِ مکہ کے سامنے دعوتِ دین پیش کی اور انہیں پہاڑ کی چوٹی پر جمع کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر موجود ہے جو ابھی تم پر حملہ کرنے والا ہے، تو کیا تم میری بات مانو گے؟ سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ آپ ﷺ صادق و امین ہیں، ہم آپ کی بات ضرور مانیں گے۔
یہ ایک عقلی دلیل تھی۔ اسی طرح ایک عاقل و بالغ شخص بھی نبی ﷺ کی صداقت و امانت کی صفات کو تسلیم کرتے ہوئے آپ ﷺ کی بات کو مانے گا۔
ایک چھوٹا بچہ اپنی ماں پر اعتماد کرکے اس کی بات مانتا ہے۔ ماں پر اس کا اعتماد اس بنیاد پر قائم ہوتا ہے کہ ماں اس کی خیرخواہ ہے، ہر وقت اس کا خیال رکھتی ہے اور اسے نقصان اور تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔ اسی وجہ سے بچے کا اپنی ماں پر یہ اعتماد بنتا ہے کہ میری ماں سچی ہے اور مجھے ہمیشہ صحیح بتائے گی۔
پھر یہی ماں اپنے بچے کو نبی کریم ﷺ کے بارے میں بتائے گی کہ وہ اللہ کے نبی تھے، اور انہوں نے جو کچھ بتایا، میں تمہیں وہی بتا رہی ہوں؛ وہ حق اور سچ ہے۔ ان کی بات ماننے میں تمہارا فائدہ ہے اور ان کی بات نہ ماننے میں تمہارا نقصان ہے۔ یہی عقلی اور منطقی طور پر بات کو ثابت کرنا ہے، اور یہی بچے کی اصل ایمانی تربیت ہے۔
کاغذی مسلمان
اس تربیت کے بغیر بچہ ایک کاغذی مسلمان بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی ختنہ ہو جاتی ہے، اس کا مسلمان نام رکھ دیا جاتا ہے، عقیقہ کر دیا جاتا ہے، یعنی کچھ رسمی اور روایتی کام مکمل کر دیے جاتے ہیں اور بچہ کاغذات میں مسلمان درج ہو جاتا ہے، مگر اس کے دل میں ایمان موجود نہیں ہوتا۔
اہم نکتہ
ایمان والا بچہ وہ ہوتا ہے جس کی تربیت ماں اور باپ نے اس کی خیرخواہی کے ساتھ عقلی اور منطقی انداز میں کی ہو، اسے نبی کریم ﷺ سے متعارف کرایا ہو اور اس کی اصل ایمانی تربیت کی ہو۔
اس کے اندر یہ شعور پیدا کیا ہو کہ جب اللہ اور نبی ﷺ کی بات سامنے آ جائے تو ہم سب کو چھوڑ کر اللہ اور نبی کی بات کو اختیار کریں گے اور باقی تمام باتوں کو رد کر دیں گے۔
اسی لیے آج کے دور میں تربیت کے انتہائی فقدان کی وجہ سے کاغذی مسلمان بچے تو بہت ملیں گے، مگر ایمان والے بچے بہت کم ملیں گے، الا ما شاء اللہ۔
ایسی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بچہ خود روتا ہے اور دوسروں کو بھی رلاتا ہے، مغرب کے نظام سے متاثر ہوتا ہے، بری صحبت میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ پھر کہیں جا کر جب اللہ تعالیٰ اسے توفیق عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی زندگی کا رخ بدلتا ہے، کسی سے اصلاحی تعلق بناتا ہے، توبہ کرتا ہے اور نیکی کے راستے پر آتا ہے۔
اس صورت میں انسان اپنی زندگی کا ایک قیمتی وقت گنوا دینے کے بعد، اللہ کی توفیق ملنے پر بالآخر دین کی طرف آتا ہے۔
کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد کے ساتھ بھی یہی ہو جو ہمارے ساتھ ہو چکا ہے؟
🔹 نقلی دلیل کی حیثیت
عقلی دلائل سے بندہ ایمان والا بنتا ہے۔ اصول اور بنیاد ثابت ہونے کے بعد اعمال و فروع میں نقلی دلیل کا اعتبار ہوتا ہے۔
جب یہ مان لیا کہ نبی ﷺ کے نبی ہیں تو پھر جو کچھ وہ فرما رہے ہیں، اسے بعینہٖ ماننے میں کیا رکاوٹ ہے۔
مثلاً پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اب کوئی یہ کہے کہ پانچ نمازیں کیوں فرض ہیں؟ یا کوئی یہ کہے کہ میں پانچ فرض نمازیں نہیں پڑھوں گا بلکہ پچاس فرض نمازیں پڑھوں گا، تو اسے کہا جائے گا کہ جب تم نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا نبی مان لیا ہے تو پھر ان کی بات بھی مانو نا کہ جو وہ بتا رہے ہیں وہی اللہ کی مرضی ہے۔
فروع کے اندر دلائل نقلی طور پر ثابت ہیں، یعنی جیسے نبی کریمﷺ سے نقل ہوکے ہم تک پہنچے ہیں۔ فروع کے مسائل میں عقل کو اصولی انداز سے چلانا اکثر نقصاندہ ہوتا ہے، کیونکہ اس سے شبہات کے دروازے کھل جاتے ہیں اور شیطان کو موقع مل جاتا ہے۔ ہماری عقل کا دارومدار ہمارے علم اور تجربے پر ہوتا ہے۔ شیطان جتنا علم اور تجربہ رکھتا ہے کسی دوسری مخلوق کے پاس اتنا نہیں کیونکہ اسکا مشاہدہ اور تجربہ ہزارہا سال پر مبنی ہے۔ چنانچہ وہ ہر عقلی دلیل کا جواب جانتا ہے، سوائے اصولی عقلی دلیل کے کہ “جب میں نے انکو مان لیا تو انکی کیوں نہ مانوں”۔
طالبِ حق کے لیے عقلی دلیل
اگر کوئی طالبِ حق حق کو سیکھنا چاہتا ہو اور اطمینانِ قلب کی خاطر سوال کر رہا ہو تو اسے قائل کرنے کے لیے عقلی دلیل اضافی طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔ اس سے ایسے طالبِ علم کا اعتماد بڑھتا ہے اور اس کا یقین مزید پختہ ہو جاتا ہے۔
قرآن مجید میں اس کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے سے ملتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا:
وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ؕ— قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ؕ— قَالَ بَلٰی وَلٰكِنْ لِّیَطْمَىِٕنَّ قَلْبِیْ ؕ—
ترجمہ: اور جب ابراہیم نے کہا تھا کہ میرے پروردگار مجھے دکھائیے کہ آپ مُردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں؟ اللہ نے کہا: کیا تمہیں اعتماد نہیں یعنی کیا تم اس پر غیبی طور پر ایمان نہیں رکھتے؟ کہنے لگے: کیوں نہیں (مجھے پورا اعتماد ہے) مگر (یہ خواہش اس لیے کی ہے) تاکہ میرے دل کو پورا اطمینان حاصل ہوجائے۔
🔹 مجادلہ کی صورت میں
اگر کوئی شخص صرف بحث برائے بحث یا مجادلہ کی نیت سے عقلی دلیل پر بضد ہو تو ایسے شخص کے اعتراضات کی طرف التفات نہیں کرنا چاہیے۔
ہاں، اگر کوئی معترض اپنی تحقیق اور دلائل کے ساتھ کسی ثابت شدہ بات پر اعتراض کرے تو اہلِ حق علماء کرام کو اس کا جواب دینا چاہیے۔
🔹 باطل قوتیں اور انکی منظم محنت
آج کل دین کی مخالف قوتیں ایسے غیر معمولی ذہن رکھنے والے لوگوں کو ملازمت پر رکھ کر ان سے تحقیق اور منظم طریقے سے اعتراضات کرواتی ہیں۔ یہ صرف مغرب میں نہیں ہوتا بلکہ ہمارے ملک پاکستان میں بھی ایسی کوششیں ہوتی رہتی ہیں، جہاں بڑی عیاری اور مہارت کے ساتھ ایسے اعتراضات اور تحقیقات کو استعمال کیا جاتا ہے۔
آسیہ مسیح کا مقدمہ 2009 سے 2019 تک چلا۔ کیس میں تمام عدالتوں میں اسے سزا سنائی مگر جب سپریم کورٹ میں اس کی باری آئی تو اسے رہا کر دیا گیا۔ علماء کرام سے سنا ہے کہ اس معاملے میں جو دلائل پیش کیے گئے وہ کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس کے پیچھے ایک منظم محنت تھے جس کے ذریعے سے اسکے حق میں کیس تیار کیا گیا۔ تو آجکل باطل قوتیں بہت منظم طریقے سے کام کر رہی ہیں جبکہ ہمارے پاس علم کم ہے کیونکہ ہماری اس طرف توجہ نہیں۔ اب ہم علم کے بغیر جب اعتراضات سے الجھتے ہیں تو ہمارا اپنا نقصان ہوتا ہے۔
اہم نکتہ
باطل فرقوں اور نظریات سے انگیج ہونے کی صورت میں اگر ہمارا اپنا ایمان کمزور، سمجھ کم اور علم ناقص ہوگا تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ ہم خود ہی باطل کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔
جیسے عباسی خلیفہ مأمون الرشید کے زمانے میں بعض لوگوں نے جب یونانی فلسفہ پڑھنا شروع کیا تو ان میں سے اکثر گمراہ ہوگئے، حتیٰ کہ دینِ اسلام سے منحرف ہوئے اور خود باطل فرقے بنانے کا سبب بنے یا دین اسلام کے تجدد کی کوششیں شروع کردیں۔
آج کے دور میں یونیورسٹیوں میں عقائد اور ایمانیات کے حوالے سے جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ بظاہر بڑا اچھا لگتا ہے، لیکن اس میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان اداروں کو چلانے والا نظام اور اس کی فکری بنیادیں کن کے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر طالب علم کی اپنی ایمانی بنیاد مضبوط نہ ہو تو ایسی اچھی تعلیم سے مثبت اثر کے بجائے منفی اثر پیدا ہوتا ہے اور ہمارے جیسے کاغذی (on paper only) مسلمان اپنا ایمان خراب کر بیٹھتے ہیں۔ ایسا مسلمان پھر گمراہی کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔
جب تک ہمارا اپنا ایمان یعنی غیب کی خبروں پر ہمارا اعتماد مضبوط نہیں ہوتا یا کم از کم اگر ہم اپنے مشائخ کے ساتھ مضبوط نسبت قائم کرلیں گے تو بھی ہم گمراہی کے سمندر میں ڈوبنے سے بچ سکتے ہیں، کیونکہ اگر ہم ڈوبنے لگیں گے تو وہ ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں اوپر کھینچ لیں گے۔ (لیکن ایسا کرنے کے لئے انکے ہاتھوں میں ہاتھ دینا لازمی ہے۔ صرف واجبی تعلق سے ایسا نہیں ہوتا، جیسے بیعت تو کرلی لیکن انکی سننے کے لئے تیار نہیں۔)
آج یہی ہو رہا ہے کہ کافروں کو شکست دینے کے نعرے تو لگتے ہیں، مگر علم اور عمل کے اعتبار سے آدمی خود کمزور ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خود بھی ڈوبتا ہے اور دوسروں کو بھی ساتھ لے ڈوبتا ہے۔
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
ایسے بہت سے لوگ مغربی تہذیب یا نظام کو جواب دینے کے بجائے اسلام ہی کو تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
اہم نکتہ
ان چیزوں میں بغیر علم اور مضبوط ایمان (اعتماد) کے بغیر پڑا نہیں جا سکتا۔ پہلے ایمان مضبوط کرنا ضروری ہے، علم حاصل کرنا ضروری ہے، اور اہلِ حق سے مضبوط تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔ اور پھر انکی رہنمائی میں ان فتنوں، شبہات اور باطل نظریات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
🔹 عبرت انگیز واقعات اور اللہ کے احکام
عبرت انگیز واقعات ہمارے اردگرد ہر جگہ پیش آ رہے ہوتے ہیں، لیکن ہم ان کو اللہ کے احکام سے کنیکٹ ہی نہیں کر پا رہے ہوتے۔
یہ جو برا معاملہ پیش آیا، یہ اللہ کے کس حکم کی نافرمانی کی وجہ سے ہوا؟ ہمیں اس کا شعور ہی نہیں ہوتا۔
گھروں میں مختلف وجوہات کی بنا پر بہت سے عبرت انگیز حادثات اور واقعات پیش آتے ہیں۔ ہم جیسے داڑھی والے مولوی صرف یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ زمانہ ہی خراب ہے، لوگ بات ہی نہیں مانتے۔ لیکن ہم یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ کے کون سے حکم کو توڑنے کی وجہ سے یہ صورتِ حال پیدا ہوئی۔
پھر ہم اسے مختلف جدید اصطلاحات سے بیان کرکے مطمئن ہو جاتے ہیں، مثلاً کہتے ہیں کہ یہ Postpartum depression تھا، یا فلاں بیماری تھی۔ Postpartum depression صرف یہاں کیوں ہوتا ہے امریکہ میں کیوں نہیں ہوتا جہاں ماں اپنے نومولود بچے کو زندہ جلا دیتی ہے یا اسکا گلا کاٹ دیتی ہے۔ اگر ہم اس کو اسکا قصوروار ٹھہراتے ہیں اور پوسٹ پارٹم کو الزام نہیں دیتے تو اپنے لئے پوسٹ پارٹم کو بہانہ کیوں بناتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ ایسے معاملات کے پیچھے اللہ کے احکام کی کونسی نافرمانیاں موجود ہیں۔
ہمارے ملکوں میں خاندان کے خاندان اجڑ جاتے ہیں اور کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ ابھی IBA کے ایک گریجویٹ نے کامیابی سے Waffle کا کاروبار شروع کیا تھا۔ وہ اپنے گھر سے کچھ دیر میں واپس آنے کے لیے نکلا، مگر واپس نہیں آیا۔ تحقیق کے بعد اس کی لاش انتہائی تشدد کی حالت میں ملی۔ آخر ایسے واقعات کیسے ایک مسلمان معاشرے میں موجود رہ سکتے ہیں۔
ہم یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ جس اللہ کو ہم مانتے ہیں، اس کے احکام ہمارے معاشرے میں دوسرے لوگ اور ہم خود کس طرح توڑ رہے ہوتے ہیں۔
🔹 وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ
اس آیت سے واضع ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام کسی کو تکلیف دینے کے لیے نہیں بلکہ جرائم کی روک تھام اور معاشرے کے تحفظ کے لیے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان احکام پر عمل کر رہے ہیں تاکہ جرائم کو روکا جا سکے؟ ہم تو اپنے برے حالات کو اللہ کی نافرمانی سے جوڑتے تک نہیں ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں تو اللہ کی مدد آتی ہے، اور جب ہم نافرمانی کرتے ہیں تو اس کے نتائج اور سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات کسی شیخ کسی مولوی کی کہی نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کی براہِ راست کہی ہوئی ہے یعنی قرآن عظیم الشان میں ہے۔
عبرت انگیز واقعات کو ہم ہر چیز کے ساتھ جوڑتے ہیں؛ حکمرانوں کے ساتھ، سیاسی جماعتوں کے ساتھ، کرپشن کے ساتھ، لیکن اگر کسی کے ساتھ نہیں جوڑتے تو اللہ کے حکموں کے ساتھ نہیں جوڑتے۔
ہم کیوں ایسے کرنے کے قابل نہیں رہے؟ کیوں ہم نے اللہ کے ساتھ ایسا سوتیلا معاملہ کیا ہوا ہے؟ واقعی ہمارے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالی ہم سے احساس چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس کیا کچھ ہے۔ حقائق ہمارے پاس ہیں، دلائل ہمارے پاس ہیں، باقاعدہ حل ہماری پاس ہے مگر ہم بے حس ہیں، بس دینداری کا تمغہ لگا لیا ہے۔ ہمارا دل کڑھتا نہیں کس کو تڑپتا دیکھ کے کہ مسئلے کی صحیح تشخیص کریں تاکہ اسکو اور دوسروں کو اس سے بچانے کا کوئی انتظام کرسکیں۔
نجی مجلس کی کچھ اہم باتیں
مسئلہ بے حسی کا ہے یا حالات کو احکام سے نہ جوڑنے کا؟
اصل Root Cause Analysis ہے کہ ہم بے حس ہیں۔ اگر ہسپتال میں کوئی مریض شدید تکلیف اور مرگ کی حالت میں آ جائے اور ڈاکٹر یہ کہے کہ میری تو ڈیوٹی کا وقت ختم ہو گیا ہے، اور وہ اس کی تکلیف کا احساس ہی نہ کرے تو Diagnosis کی تو نوبت ہی نہیں آئے گی کہ وہ اس تکلیف میں کیسے اور کیوں مبتلا ہوا ہے۔
یہی ہمارا حال ہے۔ ہم کسی کو تڑپتا دیکھتے ہیں، مگر اپنی بے حسی کی وجہ سے اسکی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے۔ جب ہم تکلیف کا احساس کریں گے تو پھر اگر ایمان والے ہونگے تو اس کی تکلیف کو اللہ کے احکام کے ساتھ جوڑ سکیں گے۔ ہمیں تو اسکا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اللہ نے ہمیں علم عطا کیا ہے، حقیقت سے آشنائی عطا کی ہے مگر ان سب کے باوجود ہمیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کیونکہ ہم نے اللہ کی اس نعمتِ عظیمہ یعنی دل کی قدر نہیں کی اسکو احساس کرنے کے لئے استعمال کرکے۔
اللہ کے شکر کی اہمیت
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں
مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ
ترجمہ
اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے کے (یعنی تمہیں دی ہوئی اپنی بے حساب نعمتوں کو تم سے چھین کے کیا کرے گا) کیا کرے گا (کوئی اللہ کے پاس نعمتیں کم تو نہیں پڑ رہیں)، اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ؟
اللہ نے پہلے ایمان کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہم سے یہی چاہتے کہ ہم نعمتوں کا شکر کرنے والے بنیں۔
اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ہمیں نعمتیں دے کر بھیجا ہے۔ یہ شرط نہیں لگائی کہ ایمان لاؤ گے تو نعمتیں ملیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سے بس یہ چاہتے ہیں کہ ہم ان نعمتوں کو اسکی دی ہوئی نعمتیں سمجھیں اپنی کمائی نہ سمجھیں اور پھر ان پر اسکا شکر کریں۔
یہ بات شیطان اچھی طرح جانتا تھا، کیونکہ وہ عارف اور عالم تھا۔ یہ کیسے پتا چلتا ہے کہ وہ جانتا تھا؟ کیونکہ جب اللہ پاک نے اسے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے انکار کر دیا، اور جب اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی درگاہ سے نکال دیا تو اس نے کہا:
قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَ ۟ۙ۞ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَیْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَآىِٕلِهِمْ ؕ— وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ ۟ ۞
ترجمہ:
 کہنے لگا: اب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، اس لیے میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ ان (انسانوں) کی گھات لگا کر تیرے سیدھے راستے پر بیٹھا رہوں گا۔ پھر میں ان پر (چاروں طرف سے) حملہ کروں گا، ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی، اور ان کی دائیں طرف سے بھی اور ان کی بائیں طرف سے بھی۔ اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہیں پائے گا۔
اس نے یہ نہیں کہا کہ تو ان میں سے اکثر کو ایمان لانے والا یا عبادتیں کرنے والا نہیں پائیں گے، بلکہ یہ فرمایا کہ آپ ان میں سے اکثر کو شکر کرنے والا نہیں پائیں گے۔
کیا مطلب؟
جب وہ چاروں طرف سے بہکائے گا تو اس کی محنت اس بات پر ہوگی کہ بنی آدم اللہ کا شکر کرنے والا نہ بنے۔ شیطان کی ساری کی ساری محنت یہی ہے کہ بندے کو اللہ کی نعمتوں کا ناشکرا بنانا ہے۔ اس نے اس بات کا اعلانیہ اقرار کیا ہے اللہ کے سامنے۔
شکر کیسے کریں گے؟
اب یہ کیسے پتا چلے گا کہ شکر کیسے کرنا ہے؟ ہماری عقل میں اللہ نے یہ صلاحیت نہیں رکھی کہ ہم خود سے اس کا طریقہ طے کر سکیں۔ اس کے لیے اللہ کے نبیوں کے پاس جا کر صحیح طریقہ سیکھنا پڑے گا کہ اللہ کا شکر گزار بندہ کیسے بننا ہے، وہ طریقہ جو شکر کرنے کا اللہ کو پسند ہے۔
اس کو ہی ایمان لانا کہتے ہیں۔
چنانچہ اللہ نے شکر کو پہلے رکھا اور ایمان کو بعد میں، کیونکہ شکر اصل ہے۔ جب ہم نعمت کی ناشکری کرتے ہیں تو ہمیں نبیوں کی ضرورت نہیں پڑتی ہے اس لئے ایمان بھی نہیں لاتے۔
اللہ نے ہمیں روح اور قلب دے کر بھیجا ہے، جس کا کام ہے دوسروں کا احساس کرنا۔ اور اللہ کی دوسری نعمتوں کی قدر جیسے، ہدایت کی نعمت، اور نبی علیہ سلام کی نعمت، قرآن عظیم شان کی نعمت اور اصلاحی تعلق کی نعمت, عقل سلیم، قلب سلیم اور دیگر اور نعمتوں کی۔ اگر ہم نے قدر نہ کی اور شکر ادا نہ کیا تو اللہ انکو چھین لے گے۔
اہم نکتہ
اللہ تعالیٰ بس بندے سے نعمتوں کی شکر گزاری چاہتے ہیں، یہی حقیقی بندگی ہے (الانسانُ عبدُ الاحسانِ، انسان احسان کا بندہ ہوتا ہے) اور شیطان نے اپنی ساری توجہ اسی طرف لگا دی ہے کہ انسان شکر گزار بندہ نہ بنے۔

WordPress Video Lightbox