🕋 درسِ تفسیر القرآن
سورۃ الأنعام، آیات 121 تا 118
بروز جمعہ : ۲۱ اگست ۲۰۲٦
🌼 ہمارا context یعنی ہمارے اوپر نعمتیں اور عذاب 🌼
اللہ کے احکامات کو ماننے کا مطلب-
۱۔ زبان سے انکا اقرار کرنا اور دل میں انکی تصدیق کرنا
۲۔ ان پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کرنا۔
حلال کو حرام جاننا خلافِ ایمان ہے، اسی طرح حرام کو حلال جاننا بھی خلافِ ایمان ہے۔ ایسا کرنا دراصل قرآن عظیم الشان پر اعتراض کرنا ہے۔
اللہ پاک نے جب تفصیل بتا دی کہ کون سے جانور حرام ہیں، جس میں اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور شامل نہیں ہے، تو پھر کون سی چیز ہے جو تمہیں اس کے کھانے سے روک رہی ہے؟
مشرکینِ مکہ کے شبہات
ان آیات کے شانِ نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکینِ مکہ مسلمانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرتے تھے۔ یہ کہ جس جانور کو اللہ نے مارا ہے اس کو تم نہیں کھاتے اور وہ بھی صرف اس شخص محمد بن عبد اللہ (ﷺ) کے کہنے پر؟ کچھ تو اپنی عقل استعمال کرو۔
آج ہم بھی یوں ہی کرتے ہیں۔ ہم اس کی بات کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں جو ہمیں آ کر یہ کہہ دے کہ صرف مولوی کی بات مان کر فلاں کام کیوں چھوڑ رہے ہو۔ کچھ اپنی عقل بھی استعمال کرو۔ عالم، مولوی، شیخ یا پیر کی بات کیوں مان رہے ہو؟
اہم نکتہ
ان کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ شیخ، عالم یا پیر جو بات کر رہا ہے، وہ دراصل اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات ہے۔ یہ صرف بات بتا رہا ہے بنا نہیں رہا۔
سمجھنے کی خاطر اگر ہم نبی ﷺ کو اُس زمانے کا مولوی تصور کر لیں، اور مشرکینِ مکہ کو اُس زمانے کا دنیا دار، ماڈرن یا غیر مقلد قسم کا انسان سمجھ لیں۔ تو کیا یہ بالکل وہی بات نہیں ہوگی جو مشرکینِ مکہ کہتے تھے۔
اگر کوئی بغیر دلیل کے بات کر رہا ہو تو نہ ماننا سمجھ آتا ہے، مگر کوئی واضح دلیل کے ساتھ قرآن شریف اور حدیثِ مبارکہ کی بات بتا رہا ہو، پھر ہم کیسے اس کی بات سے انکار کر سکتے ہیں صرف اس بنیاد پر کہ یہ مولوی صاحب کے منہ سے ہم تک پہنچ رہی ہے؟ کیا ہم اپنی ناقص عقل کو عقلِ کُل سمجھ کر مولوی یا شیخ کی اطاعت اور اتباع سے منہ پھیر سکتے ہیں؟
اس طرح کے عقل کے پیروکار خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ یہ صرف اپنے دل میں اس شخصیت کے لئے ناپسندگی کی وجہ سے ایسی باتیں کرتے ہیں، ورنہ ان کے پاس بات نہ ماننے کے لئے کوئی ٹھوس یا مدلل علم نہیں ہوتا۔
حکمت کی بات جہاں سے ملے، لے لینی چاہیے
حتی کہ ہمارا دین تو یہ سکھاتا ہے کہ اگر کسی کافر سے کوئی حکمت کی بات مل رہی ہو تو اس کو بھی مانو۔
الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا
ترجمہ : حکمت کی بات مومن کی گمشدہ متاع ہے، جہاں کہیں بھی اسے پائے، وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔
یعنی اگر کوئی کافر بھی کلمۂ حق کہہ رہا ہے تو اس کافر کو بے شک اسکی وجہ سے حکیم ماننا نہ شروع نہ کر دیں، اس کی پیروی کرنا نہ شروع کر دیں۔ مگر جو کلمۂ حق وہ کہہ رہا ہے، اسے ضرور اپنائیں۔ تو پھر جو مسلمان عالم دین یا شیخ کلمہ حق کہ رہا ہے اسکو اپنی کم علمی یا ذاتی عناد کی وجہ سے ہم کیسے ترک کر سکتے ہیں۔ (اگر اسکی بات سمجھ میں نہیں آرہی تو کم از کم پوچھیں تو صحیح نا کہ اسکی کیا دلیل ہے).
اہم نکات
مولوی کی کیوں سن رہے ہو؟
یہ اپنی عقل کو عقلِ کل سمجھنے والے جو کہتے ہیں کہ مولوی کی کیوں سن رہے ہو، خود سے کیوں نہیں پڑھتے؟ عجیب بے وقوفی ہے۔ یہ جو پڑھنے کو کہ رہے ہوتے ہیں، تو کیا وہ کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں ہوتی ہے۔ ایک اور انتہائی بے عقلی کی بات کہ جب دین کی بات ہو تو خود سے پڑھ لو مگر جب دنیا کی چیز ہو تو اعلی سے اعلی استاد بلکہ انسٹیٹیوشن ہی سے اسکو جاکے پڑھو۔
قرآن کریم کی تفسیر، تشریحات و تدوین کس نے کی؟
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس کے الفاظ اللہ کے ہیں۔ لیکن جو قرآنِ مجید کی تفسیریں، احادیثِ مبارکہ کی تشریحات، فتاویٰ اور فقہ کی کتابیں ہیں، یہ سب کس نے لکھی ہیں؟ انسانوں ہی نے لکھی ہیں نا۔
ثابت ہوا کہ یہ ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا کوئی سر اور پیر نہیں ہوتا۔ ان کی بات میں کوئی ربط، منطقی تسلسل اور باہمی مناسبت نام کی چیز ہی سرے سے نہیں ہوتی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ ان کا شیخ شیطان ہوتا ہے، جو ان کو ظلمت و گمراہی کی طرف یعنی جہنم کی طرف دھکیل رہا ہوتا۔
ایمان کی حدود سے نکل جانے والے
جو اس طرح کے لوگ ہوتے ہیں، وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ دنیا میں انہیں گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی وجہ سے مستقل چھوٹی چھوٹی سزائیں مل رہی ہوتی ہیں، مگر موت کے وقت، یا موت سے پہلے، انہیں بڑی سزا ملتی ہے، جس کا بعض اوقات دنیا والے بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔
انسان کی سوچ = باطنی گناہ
اگر آپ حرام کو حلال سمجھ رہے ہیں یا ایسا سوچ رہے ہیں، یا حلال کو حرام سمجھ رہے ہیں یا ایسا سوچ رہے ہیں، تو یہ ایک باطنی گناہ ہے۔ اسی سوچ کو عقیدہ بھی کہتے ہیں اور اسے نیت بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ کسی کو نظر نہیں آتا، بلکہ چھپی ہوئی ہوتی ہے، اسی لیے اسے باطنی کہتے ہیں۔
انسان کا قول = ظاہری گناہ
جو کچھ آپ سوچ رہے ہیں، اگر اسے کہنا بھی شروع کر دیں تو یہ ظاہری گناہ بن جاتا ہے۔
اللہ پاک چاہتے ہیں کہ ہم صرف دکھاوے کے لیے، صرف ظاہری گناہ ہی نہ چھوڑیں، بلکہ سوچ کے گناہ کو بھی چھوڑیں۔ مگر ہماری توجہ سوچ کے گناہوں کی طرف نہیں جاتی۔ ہم صرف اوپر اوپر سے یا دیکھا دیکھی میں ظاہری طور پر اپنے آپ کو ٹھیک کر لیتے ہیں، مگر اپنی فکر اور سوچ کو نہیں بدلتے، جبکہ یہ بھی اللہ کا حکم ہے:
وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ
اور گناہ کے ظاہر کو بھی چھوڑ دو اور اس کے باطن کو بھی۔
ہمارے مشائخ ہمیں یہ شعر اکثر یاد دلاتے ہیں:
عدل و انصاف فقط حشر پر موقوف نہیں زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے
گناہ سے انسان کے قلب پر فوراً روحانی داغ لگ جاتا ہے۔ یہ انسان کو نقد اور فوری سزا مل رہی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے نیکی کے اعمال کرنا مشکل اور گناہ کے اعمال کرنا آسان ہو جاتے ہیں۔
تو کیا یہ داغ سزا میں شمار نہیں ہوگا؟ اس داغ کی وجہ سے انسان کا قلب روحانی طور پر کمزور ہوگا؛ کیا یہ روحانی کمزوری سزا نہیں ہے؟
آپ کی مٹھی کی طاقت کمزور ہو جائے تو آپ کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑ نہیں سکیں گے۔ اسی طرح جب آپ کا قلب کمزور ہوگا تو وہ اوپر والوں، یعنی اللہ، اللہ کے رسول ﷺ اور اللہ کے رسول کے نائبین کے ساتھ اپنی نسبت کو مضبوط نہیں پکڑ سکے گا۔
اہم نکتہ و خلاصہ
نہ چھوڑنے میں ان کی اتباع کرو اور نہ کرنے میں ان کی اتباع کرو۔ یعنی کافر اور مشرک کی کسی صورت میں اتباع نہ کرو۔
آج ہم کسی کام کو چھوڑتے بھی ہیں تو انکی اتباع کی وجہ سے اور کسی کام کو کرتے ہیں تو وہ بھی ان کی اتباع کی وجہ سے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
گزشتہ روز ہماری کلاس میں، ماشاءاللہ، دو چھوٹے بچوں سے اللہ پاک نے اس کا صحیح جواب دلوایا۔
۱۔ ایک بچے نے بتایا: انکے دھوکے اور فریب کی وجہ سے۔
حضرت جی رحمہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مغربی تہذیب نے جب سے دنیا پر قبضہ کیا، یہ فتنۂ دجال کا آغاز تھا، جسے تقریباً چار سو سال گزر چکے ہیں۔ فتنۂ دجال کا مطلب دھوکہ اور فریب ہے۔
۲۔ دوسرے بچے نے اسی جواب کو مزید تقویت دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب اسی نظام سے پڑھ کر نکلے ہیں۔ ان کا نظریہ، عقائد، فلسفہ، زندگی گزارنے کا طریقہ، ان کا worldview اور ان کی perception of reality کو فروغ دینے کے لیے جو نظام، طریقہ اور اسباب اختیار کیے جاتے ہیں، اسی کو ان کا تعلیمی نظام کہتے ہیں۔
جو لوگ اس تعلیمی نظام سے نہیں پڑھے، وہ بھی ان سے متاثر ہیں۔ آج مدارس کا جو نظام ہے، وہ بھی کسی نہ کسی حد تک مغربی تعلیمی نظام سے متاثر ہے، کیونکہ یہ اسی دور میں تشکیل پایا ہے۔ جو مدارس کا نظام مغربی تعلیم و تہذیب کے غلبے سے پہلے تھا، وہ بہت مختلف تھا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ مدارس والے جب گھر جاتے ہیں، بازار جاتے ہیں یا کہیں اور جاتے ہیں، وہاں بھی تقریباً سب ہی ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو اسی مغربی تعلیم سے نکل کر آئے ہیں۔ اسی لیے وہ اس کے اثرات سے پوری طرح نہیں بچ پاتے، إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي۔
إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي یعنی کچھ لوگ ہی اللہ کی رحمت کی وجہ سے بچ پاتے ہیں۔ اس اللہ کی رحمت کا مستحق ہونے کے لیے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، جن میں توبہ، تقویٰ، ذکر اللہ، اللہ والوں کی صحبت میں اپنے نفس کو پامال کرنا اور اپنے قلب کا تزکیہ کرنا شامل ہیں۔ صرف کتابوں کے الفاظ کو پڑھ لینے یا رٹ لینے سے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔
دین کا جو طریقہ ہے، اس طریقے کو چھوڑ کر کام نہیں ہو سکتا۔ نبی علیہ السلام کو کس کام کے لیے بھیجا گیا تھا؟
يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ
جب تک کوئی عالمِ دین یہ چاروں کام نہیں کرتا، تو وہ نبی کا وارث کیسے ہو سکتا ہے؟ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں، وہی حقیقت میں وارث بنتے ہیں۔
علماء کرام کے مرتبے کے تقاضے
آج کے دور میں اگر کسی کو راتوں رات ہیرو اور مشہور بننا ہو تو مولویوں کو گالیاں دینا شروع کر دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ آپکی عوام آپ سے اتنا نفرت کرتی ہے کہ جو آپ کو برا کہتا ہے اسکو اپنے سر پر بٹھا لیتی ہے۔ حالانکہ یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو آپ کے محلے میں رہتے ہیں، آپ کے ساتھ معاملات کرتے ہیں، آپکی مسجد میں آکر نماز پڑھتے ہیں، جمعہ کے دن آپ کا خطبہ سنتے ہیں، اور اسکے باوجود وہ آپ سے نفرت کرتے ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟
اس لیے کہ نبی علیہ سلام کے وارثوں میں سے اگر کوئی صرف اپنی وراثت کا ایک چوتھائی کام، یعنی علم سکھانے کا کام کر رہا ہو، نہ اسے یتلو علیھم آیتہ کی فکر ہو، نہ اپنے تزکیہ کی فکر ہو، نہ حکمت یعنی سنتوں کی فکر ہو، اور نہ اپنے شاگردوں کے تزکیہ کی، تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے۔
علماء کرام کو اپنا تزکیہ کرنے کے لیے کسی شیخِ طریقت، جو غیر معروف بھی ہو، کے پاس جانے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔ یہ خواہش کہ میں تو ایسے شیخ کے پاس جاؤں جن کی مشہوری ہو، آگے پیچھے محافظ ہوں، یا جن کے بہت بڑے بڑے جلوس نکلتے ہوں، درست رویہ نہیں۔
جب کسی کے جلسے اور جلوس نکلنا شروع ہو جائیں، پھر انکے پاس جا کر آپ اپنی اصلاح نہیں کرواسکتے۔ جلوس ہمشہ پُرکشش ہوتا ہے۔ لیکن جلوسوں سے اصلاح نہیں ہوتی۔
دین کے علم کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔ پی ایچ ڈی کرکے کوئی الف ب ت پڑھا رہا ہو اس سے یہی کہیں گے کہ تم نے پی ایچ ڈی کیوں کی تھی۔
اللہ کی نعمتوں کا حساب
اللہ تعالیٰ نے جسے جو نعمتیں دی ہیں، اس سے ان ہی نعمتوں کا حساب لیا جائے گا۔ جو نعمت اس کے پاس نہیں ہے، اس کا حساب نہیں لیا جائے گا، اور نہ ہی کسی دوسرے کو دی گئی نعمت کا اس سے حساب لیا جائے گا۔ مندرجہ ذیل آیت کا مطلب ہی یہی ہے:
ثُمَّ لَتُسْألُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ
“پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔”
اب اگر ہم اس کا ادراک ہی نہ کر سکیں کہ اللہ پاک نے مجھے کیا کیا اور کون کون سی نعمتیں دی ہیں تو ہم کیسے انکا شکر ادا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کو بڑھانے کا کیا اصول بتایا ہے:
لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ
“اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔”
اللہ پاک نے ہمیں پہلے سے نعمتیں دی ہوئی ہیں۔ ہم سے یہ تقاضا ڈیمانڈ ہے کہ ان نعمتوں کا ادراک کریں اور جب سمجھ آ جائے کہ کیا کیا نعمتیں ہیں تو ان کا حق ادا کریں۔ ان نعمتوں کو صحیح طور پر استعمال کریں، یعنی جہاں اور جس طریقے سے ان کے استعمال کا اللہ کے نبی ﷺ اور ان کے وارثین نے طریقہ بتایا ہے، اسی طرح استعمال کریں۔ یہ انکا شکر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس نعمت کو بڑھاتے ہیں۔
جب ہم نعمت کا حق ادا کرتے ہیں تو اللہ پاک کبھی بھی اسے ہماری ذلت کا ذریعہ نہیں بننے دیتے۔
یہ کسی مولوی کا وعدہ نہیں، یہ خالقِ کائنات، ربِ ذوالجلال کا وعدہ ہے کہ جب تم نعمت کا حق ادا کرو گے تو ہم ضرور بضرور نعمت کو بڑھائیں گے۔
ہم اپنی نعمتوں کا ادراک کیوں نہیں کرتے؟
کیونکہ ہم اپنے پاس کی نعمتوں کی بجائے دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اس کے پاس تو یہ بھی ہے اور وہ بھی ہے۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم سے ہماری اپنی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اسکی نہیں۔
اپنی نعمتوں کو جاننا چاہیے، چاہے اس کے لیے Excel sheet ہی کیوں نہ بنانی پڑے، اور ان نعمتوں کا حق ادا کرنا اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
ہمیں جو اللہ نے نعمتیں دی ہیں، ان کا شمار بندے کو خود ہی کرنا ہے۔ کوئی اور شخص صرف کچھ رہنمائی تو کر سکتا ہے، مگر ہماری تمام نعمتوں کا ادراک ہم خود ہی سب سے بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔
تمہاری نعمتوں کا شکر تمہارا شیخ ادا نہیں کرے گا۔ وہ شیخ تو احسان کر رہا ہے اس کے علم میں تمہارے پاس کیا نعمتیں ہیں انکی نشان دہی کرکے تمہیں سمجھا رہا ہے ۔ پھر اگر تم اپنے شیخ کی بات مان کر اپنی نعمتوں کی طرف متوجہ نہیں ہورہے ہو تو اللہ کی طرف سے کفرانِ نعمت کا عذاب ہوگا، جسکا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس نعمت کو چھین لیں گے۔
ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو دیکھ ہی نہیں رہے ہوتے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ کی دی ہوئی نہیں بلکہ میری اپنی کمائی ہوئی ہیں۔
اس سے بڑی ناشکری اور کیا ہو سکتی ہے؟
اس حدیث کا مطلب کیا ہے؟
الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں، جو آج کے مغربی نظام کے طلبہ اور طالبات نے سمجھا ہے، کہ ہم انگریزی لٹریچر پڑھیں گے، ان کی فلسفیانہ تعلیمات پڑھیں گے، ان کے مصنفین کی کتابیں پڑھیں گے یا ان کے اداروں میں جائیں گے اور وہاں سے حکمت کے کلمات حاصل کریں گے۔ بالکل بھی نہیں۔
کیوں؟ کیونکہ اگر آپ اس حدیث کے الفاظ پر غور کریں گے تو آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا کہ اس میں ہے کہ حکمت کا کلمہ “مومن” کی گم شدہ میراث ہے۔ جس کا ایمان ہی نہ ہو، یا جس کا ایمان شک کرنے کی وجہ سے زائل ہو گیا ہو، جس کی سرے سے ایمانی تربیت ہی نہ ہوئی ہو، جس نے اپنی بے ایمانی سے کبھی توبہ ہی نہ کی ہو، اسکا تو یہاں ذکر ہی نہیں ہورہا؟ تو ایسے بچے یا ایسے بڑے جب غیر مسلموں کے تحت حکمت کی باتیں بھی پڑھ رہے ہوتی ہیں تو وہ انکو فائدہ نہیں بلکہ نقصان دے رہی ہوتی ہیں۔
درحقیقت ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اللہ کے کلام کو سامنے رکھیں اور چیک کریں کہ کس بات پر ہمارا ایمان، اعتقاد اور اعتماد ہے، اور کس کس بات کی ہم نفی کر رہے ہیں تو سارا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی واضح ہو جائے گا۔
یہود و نصاریٰ کے بارے میں ہمارا نرم گوشہ (soft corner)
اسی وجہ سے یہود و نصاریٰ کے بارے میں ہماری کثیر عوام ایک سوفٹ کارنر ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ایک انداز سے دیکھا جائے تو نیتن یاہو اور مودی مسلمانوں کے لیے نعمت ہیں۔ وہ کیسے؟
اس طرح کہ ان کی وجہ سے کچھ مسلمانوں کو اپنے ایمان کی پہچان ہوئی ہے اور وہ اسلام کی نسبت سے اپنی شناخت کو منفرد کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ اگر اس طرح کے لوگ نہ ہوتے تو ہمارے مسلمان عوام تو کافروں سے گلے مل مل کر خوش ہو رہے ہوتے۔ اپنی انسے دوستی پر ہی خوش ہو رہے ہوتے۔
ایمان کی فکر
اللہ کا شکر ہے کہ ان دونوں جیسوں کی وجہ سے ایمان کی فکر، یا کم از کم مسلمانیت کی شناخت تو ہم میں سے کچھ میں قائم ہوئی ہے۔ تو ہم کسی اور وجہ سے ان دونوں کو اچھا نہیں کہہ رہے۔ بالکل نہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بظاہر ان کی وجہ سے ایک ایمانی جذبہ بیدار ہو جاتا ہے، بس اسی لیے ایسا کہہ رہے ہیں۔ یقیناً یہ کوئی اچھے لوگ نہیں، ہم سب جانتے ہیں۔
ورنہ اہل مغرب کے بارے میں ہمارا سوفٹ کارنر یہ ہے کہ یہ اچھے لوگ ہیں۔ انہوں نے ہمارے برے لوگوں، جیسے مغلیہ سلطنت کے برے لوگوں کو ختم کیا اور ہمیں اپنی سائنس اور ترقی کے راستے پر ڈالا۔
ہمارے نزدیک اچھے لوگ کون تھے؟ جو حدیث کے منکر تھے، جنہوں نے نبی ﷺ کے راستے کو چھوڑ کر ہمیں انگریزوں کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کے لیے تیار کیا۔ جنکی اتنی بڑی سفید داڑھی کے ساتھ تصویر بھی بنائی گئی، جن والے لوگوں نے ہمیں انگریزی علوم پڑھنے اور ماڈرن سائنس کو اللہ والوں کے نظام سے بہتر تسلیم کرنے کی تعلیم دی۔
جبکہ ٹیپو سلطان شہید رحمہ اللہ علیہ کو کلین شیو بنا کر ایسے پیش کیا گیا جیسے کوئی جِلیٹ بلیڈ کے اشتہار میں آیا ہوا ہو۔
یہ تماشے کہاں سے آئے ہیں؟ ان کے تعلیمی نظام سے۔ دانستہ طور پر ہماری ایسی ذہن سازی کی گئی ہے کہ ہم ان کو اپنا اچھا اور اپنا خیرخواہ سمجھتے ہیں اور اپنوں کے بارے میں تصور ہی خراب کیا گیا۔
اللہ کا قرآنِ عظیم الشان کیا کہتا ہے:
وَلَنْ تَرْضىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ
“اور یہود و نصاریٰ آپ سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے طریقے کی پیروی نہ کریں۔”
یہ اللہ تعالیٰ کا قرآن اتنے واضح الفاظ میں علانیہ کہہ رہا ہے، اور ہم کاغذی مسلمان اپنے بچوں کو ان کے تعلیمی نظام میں پڑھنے کے لیے انکے حوالے کردیتے ہیں۔
اہم نکتہ
کیا ہمارا اس واضح اور کھلی ہوئی آیت پر ایمان ہے؟
ہم تو اس آیت کی نفی کر رہے ہوتے ہیں اور پھر خود کو ایمان والا بھی سمجھتے ہیں۔ کون سا ایمان؟ کیسا ایمان؟
ہم بے شک اعمال کرتے ہوں گے، مگر اندر ایمان نہیں ہے۔ ہمیں یقیناً اس کفر پر توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے ساتھ دشمنی والا معاملہ کرنے کا حکم ہے، اور ہم ہیں کہ ان کو اپنا رہبر، رہنما اور خیرخواہ سمجھتے ہیں۔
ہم سر سید کو اپنا سب سے بڑا لیڈر سمجھتے ہیں، جس نے ان سے تربیت حاصل کرکے ہمیں ان جیسا بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کون سے ایمان کی بات کر رہے ہیں ہم؟
قرآن مجید کی ان آیات کی یہ تفسیر ہمیں کب سمجھ میں آئی؟ جب حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ علیہ کا تفسیرِ قرآن میں یہ جملہ پڑھا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ ہمیں اصل میں یہ فرما رہے ہیں کہ نہ ترک میں ان کی اتباع کرو، نہ فعل میں۔
ہم تو اپنی ہر چیز میں ان مغربی نظام و تہذیب کی اتباع کر رہے ہوتے ہیں۔ دل میں انکے لئے انتہائی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اگر ان کے خلاف کوئی بات سننے کو مل جائے تو ہم ان کے دفاع میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر کے تحت فرماتے ہیں کہ خدا کی تعلیم کے برابر کسی اور کی تعلیم کو سمجھنا شرک ہے۔ جبکہ ہماری تو یہ حالت ہے کہ ہم مغرب کی تعلیم کو ترجیح دے رہے ہوتے ہیں۔ ہم کہاں سے ایمان والے ہو سکتے ہیں؟
پچھلے جمعہ بھی بات ہو رہی تھی کہ ہم نے پاکستان بنایا تو جشنِ آزادی منانے کے لیے، نبی علیہ السلام کو رسول مانا تو جشنِ عید میلاد النبی منانے کے لیے۔ یہ ہمارا رویہ ہے اللہ کی نعمتوں کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ نے تو نبی کو معلم بنا کر بھیجا تھا۔
إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا
مثال کے طور پر میں اس وقت آپ کا معلم بن کر یہاں بیٹھا ہوں۔ اب اگر میں خاموش بیٹھا رہوں اور بس ایک طرف سے کچھ لوگ آئیں، کوئی پھول کا ہار پہنا کر چلا جائے، کوئی مٹھائی کھلا کر چلا جائے اور کوئی لفافہ تھما کر چلا جائے۔ تو یہ چپ شاہ کیسا معلِّم ہوا؟
ہمارا نبی ﷺ کے ساتھ بعینہٖ یہی رویہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کو اللہ پاک نے معلم بنا کر بھیجا تھا، مگر ہم نبی ﷺ کے جشن منا رہے ہیں، چراغاں کر رہے ہیں۔ ان کی تعلیمات کو پس پشت رکھ کر تعلیم دوسروں سے حاصل کر رہے۔
ایسا کیوں ہے؟
کیونکہ اصل میں ہمارا معلِّم تو مغرب کا تعلیمی نظام ہے۔ نبی کریم ﷺ کوئی تھوڑی ہیں۔
بہت ہی شدت ترین بات
اللہ تعالیٰ کا قرآن فتویٰ دے رہا ہے کہ کافروں کی اتباع کرنے سے مشرک ہو جاؤ گے۔
وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
“اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو بے شک تم مشرک ہو جاؤ گے۔”
کیسا ایمان؟ کون سا ایمان؟
اللہ کا قرآن واضح طور پر شرک کا اعلان کر رہا ہے۔ یہ آیات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر نازل ہوئیں، جن کا ایمان پکا تھا۔
ہم تو اپنے بچوں کو مغرب کی تعلیم کے حوالے کر دیتے ہیں اور اوپر یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی عورتوں کو ملازمت نہیں کرنے دیں گے، مگر ہم ان کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں۔ جب ان کو اتنا انکی تعلیم پڑھا کر ان کے نظام اور تہذیب کا گرویدہ بنا دو گے تو وہ کیسے گھر کی زینت بنیں گی؟ وہ تمہاری ایک نہیں سنیں گی اور کہیں گی:
“میں نے اتنی تعلیم اس لیے تو نہیں حاصل کی کہ میں گھر میں بیٹھ جاؤں اور کھانا پکاؤں۔ میری ساری دوستیں کام کر رہی ہیں، میں بھی کروں گی۔”
اگر اس کو زبردستی بٹھا دیا اور اب وہ شکوے، بغض اور عناد کی کیفیت کے ساتھ کھانا بھی بنا لے گی تو اس کھانے میں ظلمت ہی آئے گی۔ وہ کھانا جب بچے کھائیں گے تو اس کی ظلمت کی وجہ سے وہ بچے نیکی اور تقویٰ کے راستے پر نہیں آئیں گے۔ وہ نسلوں کو برباد کرنے کا سبب بنے گی۔
یہ نہیں سمجھ آتا، ہماری عقل ماری گئی ہے، بلکہ یوں کہیں تو غلط نہ ہوگا کہ گھاس چر گئی ہے۔
زینت کیسے بنے گی؟ زینت تو وہ ہوتی ہے جو خوشی سے رہتی ہو۔ جو اپنے آپ کو مس فٹ سمجھ رہی ہوگی، وہ گھر کی زینت کیسے بنے گی؟
اس کے برعکس وہ دیندار لڑکی جو اپنی خوشی سے، محبت کے ساتھ، اپنائیت کے ساتھ اور اللہ کی یاد کے ساتھ کھانا بنائے گی، اس کھانے سے روحانیت ملے گی۔
آج جو لڑکی تھوڑا بھی کچھ پڑھ لیتی ہے تو وہ گھر نہیں بیٹھتی۔ چہ جائیکہ کہ ڈاکٹر بننے کے بعد وہ گھر بیٹھے گی۔ پہلے پھر ڈاکٹری پڑھنے کے بعد کچھ لڑکیاں گھر بیٹھ جاتی تھیں۔ اپنے اردگرد دیکھیں، کیا ہو رہا ہے؟ اب تو معاشرہ ہی اس کو گھر پر بیٹھنے نہیں دیتا۔
کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ۔
ہم اپنے جن اعمال پر فریفتہ ہو کر زندگی گزار رہے ہیں، ان سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں، سوائے توبہ کے۔