Rishtedariyan Nibhana - Part 10
Page: 135-137:
Video
Important Notes
🪷 Class Notes :: Umoor e Khana Daari Mein Husn e Intizaam 🪷
(Dated 17/12/2025)
🔶️ اختلاف پر جھگڑنے کی بجائے اللہ تعالی سے مدد مانگیں، دعا کریں اور صبر کے ساتھ اختلاف کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
🔶 معاف کرنا سیکھیں اور اللہ تعالی کی خاطر دوسروں کو معاف کریں۔
◼️*بغض*۔ جس سے بغض ہو اس کا اچھا کام بھی برا لگتا ہے
◼️*عداوت* سے مراد دشمنی ہے۔ دشمنی میں نقصان پہنچانے کا جذبہ غالب ہوتا ہے۔
◼️*کینہ* چھپے ہوا غصہ کو کہتے ہیں۔
🔹ان تینوں روحانی بیماریوں کے ساتھ انسان کبھی قلب سلیم حاصل نہیں کر سکتا اور ہم نے اللہ تعالی کے سامنے قلب سلیم لے کر جانا ہے، جب ہی کامیابی ملے گی۔
🔸 نکاح ایک بہت عظیم نعمت ہے اور اس کا کوئی endpoint نہیں ہوتا۔ جس کے ساتھ نکاح ہوتا ہے ساری زندگی اس کے ساتھ گزارنی ہوتی ہے۔
اگر نکاح کی ناقدری کی جائے تو اللہ تعالی کسی نہ کسی شکل میں عذاب دیتے ہیں کیونکہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں
🔹 نکاح کی اہمیت دل میں پیدا کریں کیونکہ جب دل میں اہمیت ہوگی تب ہی انسان اس چیز کی قدر کرتا ہے اور محتاط رہتا ہے۔
🔹 بیوی کو شوہر کا بہترین دوست بننا چاہیے کہ شوہر کو کوئی مسئلہ پہلے بیوی سے شیئر کرنے میں اطمینان ہو۔
• اگر خاوند کی کوئی hobby یا مشغلہ ہو تو اُسکے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں کیونکہ مردوں کے تفریحی مشاغل ہوتے ہیں، اور ان میں بہت زیادہ strict نہیں ہونا چاہیئے۔
• شریعت میں ایسے کھیل خود کی اجازت ہے جو فائدہ مند ہوں، بلکہ نبی ﷺ نے ایسے کھیل پسند فرمائے جو خاص اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی میں مدد دیں، جیسے اس زمانے میں گھڑ سواری اور تیر اندازی تھے۔
• لیکِن اگر ان مشاغل میں وہ بہت زیادہ وقت ضائع کرنے لگ جائیں یا ایسے کھیل کود میں جو آج کل کے زمانے میں بھی خلاف شریعت ہوں، تو اُس کو دل میں پسند تو بلکل بھی نہ کریں لیکن اس بات کو سمجھانے کا طریقہ بہت محتاط ہونا چاہئے۔
• کُچھ بھی کرنے سے پہلے دعا کرنی چاہیے۔
🪷 کسی کے دل میں سے کسی چیز یا انسان کی محبت نکالنے کے لیے اسکی برائی بیان کرتے ہیں، اور یہ کام ہم دنیاوی معاملات میں تو اکثر کرتے ہیں لیکِن دین کے راستے میں نہیں کرتے۔ اسباب کے اندر ہمارے پاس یہی ایک راستہ ہے محنت کرنے کا۔
• ایک اور راستہ بھی ہے اسکا، اور وہ نیکی کے راستے کی سہولتیں/فائدے بیان کرنا ہے ہے، لیکن یہ طریقہ comparatively مشکل ہے کیونکہ نیکی کا ماحول بہت کم ہے، جبکہ برائی اور اسکے نقصانات ہر جگہ موجود ہیں۔
• بیوی کو خاوند کی ساتھ ایسا تعلق رکھنا چاہیے کہ وہ یہ پسند کرے کہ جب بھی کوئی مسئلہ ہو تو سب سے پہلے اُسے بتائے، اور وہ اُسے ایسا مشورہ اور محبت دے کہ وہ ہر بات اس سے شیئر کرے۔
🪷 بیوی کو oxygen کی طرح بننا چاہئے، اور کوئی انسان oxygen کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مطلب یہ کہ شوہر کو بیوی سے دوری میں اطمینان نہ رہے اور فوراً واپس آنے کی کوشش کرے۔
• لیکن شیطان کچھ بیویوں سے اسکا یہ طریقہ کرواتا ہے کہ جیسے ہی شوہر کہیں باہر سے گھر آتا ہے، وہ اُسے ایسا tough time دیتی ہیں کہ وہ دوبارہ باہر جانے کا سوچے بھی نہیں؛ مطلب اُسے ڈرا کر اپنے پاس رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اب وہ آپ کی اچھائی کی وجہ سے نہیں تو آپ کے پاس نہیں رہ رہا۔ یہ طریقہ oxygen بننے والا نہیں ہے بلکہ CO2 بننے والا ہے جس سے انسان کا دم گھٹ جاتا ہے۔ تو عورتوں کو یہ طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اتنا اچھا بننا چاہیے کہ خاوند جہاں بھی ہو، اُس کا دل گھر کی طرف مائل ہو۔
• اس کی سب سے اچھی مثال نبی ﷺ کی ہے، جب وہ غارِ حرا سے اُترے تو سب سے پہلے بیوی کے پاس گئے۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کی بیوی انکو محبت/اعتماد دیتی تھیں، نہ کہ ایسی کہ اُن کے پاس جا کر پچھتانا پڑے۔
پھر نبی ﷺ نے فرمایا: “ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ” یعنی مجھے کمبل اُڑھا دو، اور انہوں نے اُڑھا دیا۔ اس جگہ اگر آج کی بیویاں بولتیں کہ خود ہی اُوڑھ لو، یا ہاتھ پاؤں ٹوٹ گئے ہیں کیا، تو اس قسم کا behavior اور الٹے جواب جو بیویاں دیتی ہیں، اُن سے تو شوہر یہ کہے بھی نہیں۔
• پھر خدیجہ رضی اللّٰہ عنھا نے پوچھا کہ آپ کیا محسوس کرتے ہیں — یہ پہلے بھی پڑھا تھا کہ سامنے والے کی بات سنو اور اس کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا: “ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ” کہ انہیں لگتا ہے کہ اُن کی موت آ جائے گی۔ اس پر خدیجہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا: كَلَّا فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کریں گے۔ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ کہ بے شک آپ تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ اور آپ لوگوں کا بوجھ اٹھانے والے ہیں، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ اور آپ کما کر ان پر خرچ کرنے والے ہیں، وَتَقْرِي الضَّيْفَ اور آپ مہمان نوازی کرنے والے ہیں، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ اور آپ نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے والے ہیں۔
💎 اس حدیث سے دو باتیں:
🌹 پہلی : جب جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات میں انہوں نے اگرچہ کہ انہیں 3 مرتبہ کھینچا تھا، اس سے نبی ﷺ میں اُن کی روحانی صفات منتقل ہو گئی تھیں، لیکن اس سے نبی ﷺ کے اندر فرشتوں والی physical power نہیں آئی اور نہ اُن میں سے انسانی کیفیات نکلیں؛ ان میں صرف ملکوتی صفات آئیں، باقی بشریت ہی قائم رہی۔ تو انسان جتنا بھی نیک بن جائے، لیکن انسانی صفات ختم نہیں ہو جاتیں؛ اس لیے اس سے فرشتوں والی expectations نہیں کرنی چاہئیں۔
🌹 یہ پانچ خوبیاں جو خدیجہ رضی اللّٰہ عنہ نے اس موقع پر بیان کیں، وہ اس لیے کیں کہ first of all وہ سب اچھائیاں نبی ﷺ میں تھیں، اور دوسری بات یہ بھی کہ خدیجہ رضی اللّٰہ عنہ نبی ﷺ کی اچھائیوں پر focused تھیں اور اُن کو appreciate کرتی تھیں، اور اسی لیے
*بیوی اور شوہر کو ایک دوسرے کی اچھائیوں پر فوکس کرنا چاہیے۔*

