Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Tafseer Surah Al An'aam - Part 115 (Ramadan 1447)

Class Date:02/03/2026

Aayat: 82-89 Surah Al An'aam, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:

Audio

To Download or increase speed click :

Video

Important Notes

🌸 درس قرآن سورۃ الانعام – اہم نکات 🌸
(مارچ ٢، ٢٠٢٦ – بروز پیر)

✨ کلاس میں ایک سوال کے جواب میں: مومن کے دل میں امید اور خوف دونوں ایک ساتھ رہتے ہیں۔ بس کسی وقت امید غالب خوف مغلوب کبھی خوف غالب امید مغلوب۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ ایک ہے تو دوسرا نہیں ہے۔ سویچ کی طرف کہ یا تو امید کی طرف ہے یا خوف کی طرف، ایسا نہیں ہے۔

✨ اس کے برخلاف ایمان اور کفر کا ایسا معاملہ نہیں۔ ایک ہے تو دوسرا نہیں دوسرا ہے تو پہلا نہیں۔ ایمان اور کفر ایک ساتھ نہیں ہوسکتے۔

✨ عام طور پر جیسے ماں باپ ہوتے ہیں اولاد بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ جیسے ابراہیمؑ کی اولاد۔ لیکن کبھی استثنائی صورت بھی ہوسکتی ہے جیسے نوحؑ علیہ السلام کا ایک بیٹا۔

✨ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو سب خود ہی دے کے فرمایا کذالک نجزی المحسنین۔ ہم احسان کرنے والے سب لوگوں کو ایسے ہی جزا دیا کرتے ہیں۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ کہ حق ادا نہ ہوا
سچی بات تو یہ ہے کہ یہ صرف جان پر نہیں بلکہ ہر چیز پر صادر ہوتا ہے۔ کہ ہم تو کسی بھی ثواب کے مستحق نہیں ہیں۔ محدود اعمال پر ہمیشہ کی جنت تو کیا ہم دنیا کے محدود فائدوں اور نعمتوں کے بھی مستحق نہیں۔ کوئی کسی کو پیسا دے پھر وہی پیسا وہ اسکو کسی چیز کے بدلے میں دے کے اس چیز کو لے لے تو اسکو قیمت ادا کرکے خریدنا تو نہیں کہیں گے۔ کیونکہ قیمت تو آپ کو چیز کے مالک نے ہی دی تھی۔

✨ ذالک ھدی اللہ: ہدایت تو وہ ہے جو اللہ کی طرف سے ملے یعنی قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ ہم نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے صحیح اور غلط کو پہچاننا ہے۔ لیکن ہم آجکل ماس میڈیا اور سوشل میڈیا پر اعتماد کرتے ہوئے صحیح اور غلط کے فیصلے کر لیتے ہیں۔ یہ تو خبروں کے باوثوق ذرائع نہیں ہیں۔ ان پر تو سلیم العقل اور سلیم القلب لوگ خبریں پوسٹ نہیں کر رہے ہوتے ہیں۔ اس سے ہمارے اگر ایمان ہے بھی تو وہ بھی ختم نہیں تو خراب ضرور ہو رہا ہوتا ہے۔

✨ آج کل کسی سے دین پر بات کرنی ہے تو بالکل بنیادوں اور اصولوں پر بات کرنی ہوگی۔ حالات حاضرہ کی بنیاد پر بات کرنا بے سود ہے کیونکہ وہ تو اخباروں اور میڈیا سے پتا چلتے ہیں جو قابل اعتماد ہی نہیں۔

✨ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ
صرف عربی زبان سمجھنے سے قرآن مجید کا اصل مفہوم سمجھ میں نہیں آتا، جیسے صحابہ کو اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھ میں نہیں آیا تھا تو نبی ﷺ نے تصحیح فرمائی۔ بلکہ سیاق و سباق (reference to context) کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تو ہم بھی صرف انگریزی اردو ترجمے کی بنیاد پر کیسے صحیح مفہوم سمجھ سکتے ہیں۔

✨ من یکفر بالایمان فقد حبط عمله (سورۃ المائدہ)
جسنے ایمان یعنی آپ ﷺ (کسی ایک بات پر بھی) پر اعتماد کا انکار کیا اسکے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ ایسا کیوں؟
کیونکہ نبی کریم ﷺ کی کسی ایک بات کا انکار آپ کی پوری رسالت کا انکار ہے۔ سچا ایسا تو ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ ایک جھوٹ بولنے والا سچا نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اگر کسی نے نبی کریم ﷺ کو ایک معاملہ میں جھوٹا قرار دے دیا تو اس نے نعوذ باللہ آپ کو ہر معاملے میں جھوٹا قرار دے دیا۔ اب ہم اپنے معاملے کو دیکھ لیں کہ ہم نبی ﷺ کی کتنی ساری تواتر سے ثابت باتوں کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں، خصوصا صحابہ کے متعلق۔ جیسے رضی اللہ عنھم و رضو عنہ

Books

WordPress Video Lightbox