Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Tafseer Surah Al An'aam - Part 118 (Ramadan 1447)

Class Date:05/03/2026

Aayat: 90-94 Surah Al An'aam, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:

Audio

To Download or increase speed click :

Video

Important Notes

🌸 درس قرآن سورۃ الانعام – اہم نکات 🌸
(مارچ ٥، ٢٠٢٦ – بروز جمعرات)

✨ جس کو زیادہ علم والوں نے کم علم والوں پر امام مقرر کیا اس کی اطاعت و اتباع کم علم والوں پر واجب ہوتی ہے۔ اسی کو ڈسپلن بھی کہتے ہیں۔ ہمارے دین میں اسکو اتنا زیادہ تاکید سے سکھایا جاتا ہے کہ روزانہ کی نماز میں یہ اصول بنا دیا کہ اگر امام غلطی بھی کررہا ہے تو بھی مقتدی کے لیے یہ جائز نہیں کہ اگر امام نے سبحان اللہ سن کے غلطی درست نہیں کی تو مقتدی اپنی الگ نماز شروع کردے بلکہ امام کے ساتھ غلط نماز پڑھے چاہے بیشک بعد میں اسکو دہرانا پڑے۔

✨ وما قدروا اللہ حق قدرہ – جو کہے کہ اللہ نے ہمیں دنیا کی پیچیدہ زندگی میں بھیج تو دیا لیکن اس کے لئے کوئی ھدایات، علم، اور معلِّم نہیں عطا فرمایا اس نے اللہ تعالیٰ کی ان عظیم ترین نعمتوں کی ناقدری کی۔

✨ اللہ تعالیٰ ہماری طرح ظالم تو نہیں ہیں نا کہ ہم جیسے اپنی بیٹیوں کو گھر بار سنبھالنے، رشتہ داریاں نبھانے اور بچوں کی صحیح نشونما کے لیے ضروری تعلیم و تربیت دئیے بغیر انکو انکی پریکٹکل زندگی میں دھکا دے دیتے ہیں (یعنی انکی شادی کر دیتے ہیں) کہ اب تم خود سے figure out کرو کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔ بلکہ ہم تو اس علم کی بجائے انکو وہ علم دیتے ہیں جس کے بعد نہ وہ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کے قابل رہیں نہ ہی انکا دل چاہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو نبھائیں۔ ہمارا پروردگار ایسا نہیں کرتا بلکہ اس نے مکمل relevant ہدایات کے ساتھ ہمیں دنیا میں بھیجا۔

✨ اسکولوں میں دین کے معاملے میں عقل پرستی گھول کے پلادی جاتی ہے۔ لیکن یہی عقل پرستی سائنس، ٹیکنالوجی حتی کہ لٹریچر کے بارے میں نہیں سکھاتے۔ اس معاملے میں تو تقلید سکھاتے ہیں کہ ہر فیلڈ کے اٰئِمہ کرام کی بات پر اعتماد کرنا چاہیے جب تک کہ آپ خود بھی تفصیلی علوم حاصل کرکے اس فیلڈ کے امام یا مجتہد کے درجے پر نہیں پہنچ جاتے۔ لیکن دین میں کہتے ہیں کہ صرف ایک امام کی کیوں تقلید کرنی چاہے، اسی لئے تقریبا ہر بچے کا یہی سوال ہوتا ہے۔

✨ In schools science is treated as exact and definite knowledge whereas religion is taught as a matter of opinion.

✨ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ اگرچہ قرآن مجید شروع میں صرف جدا جدا اوراق کی شکل میں لکھا گیا تھا لیکن اسکو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ کے دور میں ہی ایک جلد میں جمع کرلیا گیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے علماء کو اس کی توفیق نہیں دی۔ آسمانی کتاب کو جمع کرنا تو چند امتیوں کے بس کی بات نہیں ہوتی کہ چند نیک علماء بنی اسرائیل یہ کرلیتے، اس کے لئے تو اجماع کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ اکثریت بد نیت ہوتی تھی اس لئے انکو اسکی توفیق ہی نہیں ملی کہ تورات کو کتابی شکل میں جمع کرتے، جیسے صحابہ نے اجماع کے ساتھ قرآن مجید کو جمع کیا۔

✨ کیونکہ ان کی اکثریت کی ہمیشہ نیت ہی خراب رہتی تھی اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو خیر کی توفیق نہیں دیتا جنکی نیت میں فتور ہوتا ہے۔

✨ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ
ہم دین کو بھی دنیا ہی کی بہتری کے لئے چاہتے ہیں حالانکہ قرآن کریم تو آخرت پر فوکسڈ ہے۔ اسی لئے دنیا کو فوقیت دینے والا قرآن پر ایمان نہیں لا سکتا۔ اسی جلدی انعام کی طلب کو انگریزی میں instant gratification بھی کہتے ہیں۔

✨ جو اللہ کے حکم کونوا مع الصادقین کو نظر انداز کرکے اھل اللہ سے صحیح معنوں میں نہیں جڑتے بلکہ دور دور رہتے ہیں اور ان کے بیانیے بھی بس میڈیا پر سنتے رہتے ہیں وہ آج کے دور میں انہی بیانات کے ذریعے گمراہی میں دھکیلے دئیے جا رہے ہیں۔ اللہ کا حکم کوئی ہلکی چیز تو نہیں کہ اسکو بس نظر انداز کرکے بندے کا گزارہ ہو جائے۔

✨ ہمیں چاہیے کہ جن کو اھل اللہ سمجھتے ہیں اللہ کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے انکے قریب رہیں۔ اس سے حالات اور واقعات پر انکا اول موقف معلوم کرنا بھی ممکن ہوگا۔ میڈیا پر یا تو سیاسی بیانیے ہوتے ہیں یا بات ایک خاص انداز میں کہنے کے لئے کوئی مجبوری ہوتی ہے۔ چنانچہ اھل حق کے بھی بیانات میڈیا پر سن کے حقیقت کی سمجھ نہیں حاصل کی جاسکتی، نتیجتا شیطان آسانی سے گمراہ کردیتا ہے۔

Books

WordPress Video Lightbox