Tafseer Surah Al An'aam - Part 119 (Ramadan 1447)
Aayat: 90-94 Surah Al An'aam, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:
Video
Important Notes
🌸 *درس قرآن سورۃ الانعام – اہم نکات* 🌸
(١٧ رمضان المبارک ١٤٤٧. ٦ مارچ، ٢٠٢٦ – بروز جمعہ)
✨ بڑے کا کام ہوتا ہے اپنے چھوٹوں کو انکے مشکل حالات میں صبر کی تلقین کرتے رہنا اور چھوٹوں کا کام ہوتا ہے اسکو ادب سے سننا اور اس کے مطابق عمل کی کوشش کرنا۔ جیسے اللہ رب العزت نبی کریم ﷺ کو کرتے رہے اور آپ اس پر عمل کرتے رہے۔ چھوٹوں کو یہ ہرگز نہیں کہنا چاہیے کہ آپ کو کیا پتا میں کس مصیبت سے گزر رہا ہوں آپ اپنی نصیحتیں اپنے پاس رکھیں وغیرہ۔
✨ صبر تین قسم کا ہوتا ہے۔ *صبر علی الطاعات* یعنی ہر اچھے برے حال میں نیکی کرتے رہنا، چھوڑ نہ دینا۔ *صبر عن المعاصی* یعنی جیسے بھی حالات ہوں گناہوں سے بچتے رینا۔ اور *صبر علی المصائب* یعنی مصیبت کے وقت ناشکری کے کلمات اور واویلہ شروع نہ کردینا بلکہ اللہ سے رجوع کرنا۔
✨ کسی انسان کی زندگی میں موافق یا غیر موافق حالات سے اس کے نیک یا بد ہونے کا پتا نہیں چلتا، کہ اگر اسکے سب کام بن جاتے ہیں تو وہ نیک ہے اور اگر اٹک جاتے ہیں تو وہ بد ہے۔ بلکہ اسکے حالات پر رد عمل سے پتا چلتا ہے۔ اگر صبر اور شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا تو نیک ہے اور اگر اسکے برعکس کرتا ہے تو نیک نہیں ہے۔
✨*لا اسئلکم علیہ من اجر* اللہ والے دین کی تعلیم اور دعوت و تبلیغ کے لئے کبھی معاوضہ کی شرط نہیں رکھتے، جیسے آج کل باقاعدہ کسی اسلامک لکچر کی پہلے سے فیس طے کی جاتی ہے۔
✨ لیکن اس اصول پر آج کے دور میں مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کرام یا گھروں میں جاکے قرآن مجید پڑھانے والے قاری حضرات کی طے شدہ تنخواہوں کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ یہ اس وجہ سے مجبورا کرنی پڑتی ہے کیونکہ عوام الناس نے دین کے علوم کی حفاظت اور سیکھنے سکھانے کے کام کو غیر اہم سمجھ کے ان کی خود سے کفالت کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔
✨ ان اساتذہ کرام کا بھی گھر بار روٹی پانی کا خرچہ ہوتا ہے۔ من و سلویٰ صرف بنی اسرائیل پر ایک محدود وقت کے لئے اترا تھا۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی نہیں اترا۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں بھی من و سلویٰ نہیں اترا۔
✨ اگر ہم انکی اچھے سے کفالت نہیں کریں گے تو اگر انہوں نے اپنا کام چھوڑ کے کوئی دوسرا کام شروع کردیا تو ہمارے معاشرے اور ہماری نسلوں سے دین ختم ہو جائے گا اور گمراہی اسکی جگہ لے لے گی۔ نقصان ہمارا اپنا ہے۔
✨ یہ ان لوگوں کا ہمارے اوپر احسان ہے کہ یہ تنگدستی کے باوجود اس کام کو چھوڑ کے دوسرے پیشوں کی طرف التفات نہیں کرتے۔ یہ انکی مجبوری نہیں، نہ یہ کند ذہن ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ہے بھی تو وہ کسی شعبہ میں بھی محنت کرکے اچھی کمائی کرسکتا ہے۔ لیکن انکو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے کہ یہ اسکے قرآن حدیث کی محنت سے ہی لگے رہیں۔
✨ جس کام کی کسی کے دل میں اہمیت نہیں ہوتی اس کام کو کرنے والے کی بھی اہمیت نہیں ہوتی۔ علماء کہ قدر نہ کرنا دراصل ہمارے دل میں اسلام کی قدر نہ ہونے کی غمازی کرتا ہے۔

