Tafseer Surah Al An'aam - Part 138
Aayat: 103-107 Surah Al An'aam, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:
Important Notes
🪷 Dars e Tafsir Surah Al Ana’m Ayaat 104-107 🪷
(Class Dated: 20/4/2026)
🔹 حضرت مفتی شفیع رحمتہ اللہ علیہ نے صرف چند الفاظِ قرآن کو سمجھانے کے لئے اتنی ساری باتیں بیان فرمائیں اس کی وجہ ہے کہ ہمارے جیسے کند ذہن لوگوں کو تفصیل کے بغیر بات سمجھ نہیں آتی۔ جو لوگ تیز ذہن کے ہوتے ہیں انہیں بات کم الفاظ میں سمجھ آجاتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ اجمعین تیز ذہن کے مالک تھے یہی وجہ تھی کہ نبی کریم ﷺ قرآن کی آیات کی مختصر تفسیر بیان فرماتے تھے اور صحابہ کرام سمجھ جایا کرتے تھے۔
🔹 جیسے جیسے ہم نبی کریم ﷺ کے زمانے سے دور ہوتے جا رہے ہیں، انسانی عقل نفسانی خواہشات کو پوری کرنے کے لیے تیز ہوتی گئی جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ روحانی خواہشات کو پورا کرنے کے سلسلے میں کند ہوتی گئی۔
🔹 روحانی خواہشات سے مراد ہیں جیسے کہ روح کو اللہ کا قرب نصیب ہو جائے، جنت نصیب ہو جائے، قلبی اطمینان نصیب ہو جائے۔
🔹 وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
انسان کی روح لطیف ہے اور اس کا سورس اللہ ہے۔
🔹 اللہ تعالی نے روح کی کوئی فزیکل باڈی نہیں بنائی اور نہ ہی اس کے لیے کوئی مادی سواری بنائی بس اللہ تعالی کن (ہو جا) کا حکم دیتے ہیں اور روح ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔
🔹 روح اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس میں اللہ تعالی نے بہت سی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ روح سے کام نہ لے کر ہم اس پر بہت ظلم کر رہے ہیں۔
🔹 دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ
روح کو زندہ کرنے کے لیے اسے روحانی غذا دینی پڑتی ہے، جو دو ہیں:
1- سوچ بدلنے والا علم
2- اللہ کا ذکر، جس سے اس علم پر عمل کرنا آسان ہوتا ہے
🔹 ہم نے کیے گناہ اور اس نے نہ کی پکڑ
کتنے بڑے ہیں حوصلے پروردگار کے
اللہ کا علم حاصل کرنے کے بعد بھی ہمارا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ نہ صرف ہم اللہ تعالی کے حکم کو توڑتے ہیں بلکہ اللہ تعالی کو بالکل خاطر میں ہی نہیں لاتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ کے اسکی چھوٹی چھوٹی مخلوق کو خوش کرنے میں لگ جاتے ہیں۔
🔹 ہم مخلوق کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں اور اللہ تعالی کو سخت ناراض کر دیتے ہیں۔ ہم جھوٹ بول کر نعوذ باللہ اللہ پر ڈائریکٹ اٹیک کر رہے ہوتے ہیں، کہ جو اللہ نے کیا وہ نہیں ہوا اور اللہ نے نہیں کیا اس کو ہوا کہتے ہیں۔ جھوٹ کی یہی تعریف تو ہے۔
🔹 اللہ تعالی کا حوصلہ کتنا بلند ہے کہ اللہ ہمارے اوپر کاؤنٹر اٹیک نہیں کرتے ورنہ ہم اسی وقت صفحہ ہستی سے ہی مٹ جاتے ۔
▫️اللہ ہماری ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کو جانتا ہے اور ہمیں بے شمار نعمتیں دیتا ہے، لیکن انسان اکثر اللہ کو نظر انداز کرکے دوسروں کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ماں اور بچے کی مثال دی جا سکتی ہے: اگر بچہ اپنی ماں کو چھوڑ کر کسی غیر عورت کو زیادہ اہمیت دے، تو ماں کو شدید تکلیف ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم اللہ کے ساتھ اس سے بھی بدتر رویہ اختیار کرتے ہیں، یعنی اللہ کے دشمنوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
▫️بصائر (بصیرت کی جمع): اللہ تعالیٰ نے انسان کو حق پہچاننے کے لیے واضح دلائل اور ذرائع دیے ہیں، جیسے قرآن، نبی کریم ﷺ کے معجزات، ان کا اخلاق، تعلیمات اور سیرت۔ یہ سب “بصائر” ہیں، یعنی ایسے وسائل جن کے ذریعے انسان حقیقت کو سمجھ سکتا ہے-
* اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو ان ذرائع سے فائدہ اٹھائے گا وہ اپنا نفع کرے گا، اور جو اندھا بنے گا وہ اپنا نقصان کرے گا، کسی دوسرے کا نہیں۔
▫️اللہ کا نظام نہایت درست (Precision based) ہے-
ایک کا گناہ دوسرے کو نہیں ملتا۔
سزا صرف اپنے گناہ پر ملتی ہے۔ کسی دوسرے کے گناہ سے جو مشکل حالات پیدا ہوتے ہیں وہ سزا نہیں آزمائش ہوتے ہیں۔
* مثلاً نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء کو بھی مشکلات پیش آئیں، مگر وہ سزا نہیں بلکہ آزمائش تھیں کیونکہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔
▫️اللہ کا بنایا اصول یہ ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ حتی کہ والدین تک کے گناہ کی سزا اولاد کو نہیں ملتی حالانکہ اولاد والدین پر dependant بھی ہوتی ہے۔
▫️والدین کی نیکیوں کا اثر اولاد پر دو طریقوں سے دیکھا جا سکتا ہے:
1. پہلا رخ: جب والدین نیکی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوتے ہیں اور انہیں اپنی رضا، مدد اور ثواب عطا فرماتے ہے۔ اس ثواب کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولاد کو بھی نیکی کی توفیق عطا فرما دیتے ہیں۔ یعنی والدین کی نیکی اولاد کے لیے ہدایت کا سبب بن جاتی ہے۔
2. دوسرا رخ: جو اس آیت کی تفسیر کے مطابق ہے قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ عَمِىَ فَعَلَيْـهَا ۚ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ
کہ جو شخص حق بینی کے ذرائع اور وسائل سے کام لے کر صاحب بصیرت بن گیا اس نے نفع حاصل کر لیا۔جو ان ذرائع کو چھوڑ کر اندھا بنا رہا تو اپنا ہی نقصان کیا۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو نیکی کرنے کا اصل فائدہ تو خود نیکی کرنے والے (والدین) کو ہوتا ہے لیکن والدین اپنی نیکی کے ذریعے گھر میں جو پاکیزہ اور گناہوں سے پاک ماحول فراہم کرتے ہیں، وہ اولاد کے لیے ایک آزمائش ہی ہوتی ہے کہ وہ اس ماحول کی قدردانی کرتی ہے یا نہیں۔
▪️اگر اولاد والدین کے بنائے ہوئے نیک ماحول کی قدر کرتی ہے اور گناہوں سے بچتے ہوئے نیکی کا ہی راستہ اختیار کرتی ہے تو وہ اس آزمائش میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
▪️اور اگر اولاد اس نیک ماحول کی قدر نہیں کرتی، ایسی اولاد (بالغ اولاد) اللہ کے یہاں گناہ گار ہے کیونکہ اس نے اس بہترین موقع اور ماحول کو ضائع کیا، جس کی وجہ سے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں سزا کی مستحق بن جاتی ہے۔
▫️ماحول نیکی کا ہو یا برائی کا، جیسا بھی ہو، وہ اولاد کے لیے امتحان ہوتا ہے۔
اگر والدین گناہ گار ہوں اور انہوں نے اپنے گھر میں گناہوں کی نحوست والا ماحول بنایا ہو، تو یہ اولاد کے لیے صبر کرنے اور اللہ سے جڑنے کی آزمائش ہے۔
اولاد یہ عذر پیش نہیں کر سکتی کہ میرے والدین گناہ گار تھے اس لیے میں نیک نہیں بن سکتا
اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال پیش کردیں گے جن کا باپ مشرک تھا، یا ان بے شمار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی مثالیں موجود ہیں جن کے والدین مشرک، منکر، دشمنِ رسول ﷺ تھے لیکن انہوں نے خود نیکی کا راستہ چنا۔آج کے دور میں بھی بے شمار ایسی مثالیں ہیں جن کے والدین نیک نہیں تھے لیکن اولاد نے نیکی پر زندگی گزاری۔
▫️نبی ﷺ کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا تھا، ہدایت دینا یا زبردستی کسی کو بدلنا ان کی ذمہ داری نہیں تھی۔ ہر انسان خود اپنے عمل کا ذمہ دار ہے۔
▫️ہر دور میں ہدایت کے دلائل موجود ہوتے ہیں۔ جو شخص غور و فکر کرتا ہے وہ ہدایت پا لیتا ہے، اور جو آنکھیں بند کر لیتا ہے وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے۔
▫️انسان کی زندگی دو حالتوں میں گزرتی ہے: صبر (مشکل میں) یا شکر (آسانی میں)۔ کامیاب وہی ہے جو ہر حال میں اللہ سے جڑا رہے اور شریعت پر چلنے کی مقدور بھر کوشش کرتا رہے۔

