Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 34

Class Date:06/10/2025

Aayat: 6-7, Page: 65-66:

Audio

To Download or increase speed click :

Video

Important Notes

🕋 درس قرآن سورة المائدہ آیت نمبر ۶ اور ۷❓

 

تاریخ: ۶ اکتوبر ۲۰۲۵

 

✨ ۔۔۔ بچوں کو اچھی کارکردگی پر انعام دینے میں کن باتوں کا لحاظ رکھنا چاہیے؟ ۔۔۔

📍 تیمم کا حکم کیوں دیا گیا؟ یہ حکم کن حالات میں لاگو ہوتا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟

جواب: تیمم کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ کوئی تنگی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک رعایت اور سہولت ہے۔ یہ حکم ان حالات میں لاگو ہوتا ہے جب پانی میسر نہ ہو یا پانی استعمال کرنے سے بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو۔ تیمم کا مقصد یہ ہے کہ طہارت حاصل کرنے کے لیے ایک سے زیادہ طریقے اختیار کیے جا سکیں۔ پانی کی عدم دستیابی کے وقت ریت، مٹی، گرد اور کوئلہ وغیرہ سے تیمم کیا جا سکتا ہے۔

📍وضو اور تیمم کن عبادات کے لئے مشروط ہیں؟

جواب: وضو اور تیمم نماز پڑھنے کے لیے، قران پاک چھونے کے لیے اور کعبۃ اللہ کا طواف کرنے کے لئےمشروط ہے۔

📍وضو یا تیمم کب باطل ہو جاتا ہے؟ کن صورتوں میں اس کا اعادہ ضروری ہو جاتا ہے؟

جواب– وضو یا تیمم پیشاب، پاخانہ، ہوا خارج ہونے، گہری نیند، نشے، یا جنابت کی صورت میں باطل ہو جاتا ہے۔
ان سب صورتوں میں اگر پانی تک رسائی ہو جائے تو وضو کیا جائے بصورت دیگر تیمم کیا جائے۔

📍اللہ کی ہم سے چاہت کیا ہے اور اللہ کی ہم سے توقع demand کیا ہے؟

جواب: اللہ تعالی کی ہم سے چاہت یہ ہے کہ ہم جسمانی طہارت کی حالت میں رہیں، اور توقع یہ ہے کہ ہم فقط اس کی عبادت کریں۔

عبادت کے لیے پاکیزگی شرط ہے، مثلا فجر کی نماز پڑھ کر ظہر کی نماز تک ہم حالت ناپاکی میں رہ سکتے ہیں لیکن یہ پسندیدہ نہیں ہے۔

دليل نقلي ان الله يحب التوابين ويحب المتطهرين.

📍 احکام بنانے والا، بتانے والا اور سمجھانے والا کون؟

جواب احکام بنانے والے اللہ، بتانے والے نبی پاک ﷺ اور سمجھانے والے علما کرام ہیں۔

📍 عبادت کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ ہم پر عبادت کب کب لاگو ہوتی ہے؟

جواب عبادت کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ کسی بھی لمحے اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ ہو۔ اسی کو طہارت قلوب بھی کہتے ہیں۔ ہم پر عبادت ہر لمحہ لاگو ہوتی ہے (کیونکہ ہماری تخلیق کا مقصد ہی فقط عبادت ہے، اور کچھ نہیں). تاہم کوشش یہ ہونی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ وقت بدنی طہارت بھی حاصل رہے۔

📍بچوں کو اچھی کارکردگی پر انعام دینے میں کن باتوں کا لحاظ رکھنا چاہیے؟ ہمارے مربی پروردگار کی سنت کیا ہے؟ والدین کو اس سنتِ الٰہیہ سے کیا سیکھنا چاہیے، اور ان کو اللہ تعالیٰ نے کس منصب پر فائز فرمایا ہے؟

جواب بچوں کو اچھی کارکردگی پر انعام دینے میں اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ بچے اس طریقے کا استحصال نہ کریں۔ اسلئے کبھی انعام دیں اور کبھی نہ دیں۔ اور اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے اپنی کارکردگی انعام کے ساتھ مشروط نہ کرنا شروع کردیں۔
ہمارے پروردگار کی بھی یہی سنت یہ ہے کہ زیادہ انعام آخرت میں دیتے ہیں، دنیا میں انعام کبھی کبھی ملتا ہے لیکن وہ بھی ایسا کہ اچھے کام سے کسی انعام کو براہِ راست جوڑنا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے کہ یہ اسی نیک کام کا نتیجہ ہے. دنیا میں سب سے بڑا انعام دل کے سکون کا حاصل ہونا ہے جو لازماً ملتا ہے۔ اسکو اللہ سے قلبی تعلق نصیب ہونا بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح والدین کو بھی چاہیے کہ جو انعام ہر اچھی بات پر اپنے بچوں کو دیں وہ انسے اظہار محبت، بات چیت، انکے ساتھ وقت گزاری و تعلق میں اضافہ کی شکل میں ہو، نہ کہ ہر دفعہ بس کسی مادی چیز یا روپے پیسے کی شکل میں۔ والدین کو بھی اللہ تعالیٰ نے مربی کے منصب پر فائز کیا ہے.

📍 آیت 7 میں ہے کہ صحابہ کرام نے سمعنا اور اطعنا کہا تھا تو وہ اس عہد کو یاد رکھیں اور اللہ سے ڈریں۔ لیکن ہم نے تو کبھی یہ الفاظ نہ کہے تو اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ ہم سے احکامات کی پابندی کی توقع نہیں اور اطاعت نہ کرنے پر ہم سے باز پرس نہیں ہوگی؟

جواب نہیں بلکہ ہمارا کلمہ پڑھنا سارے حکموں کو ماننے کا اقرار ہے۔ صحابہ نے بھی کوئی الگ الگ حکموں کے ماننے والا فارم فل نہیں کیا تھا۔ لیکن کیا ہم نے کلمہ بھی پڑھا ہے یا بس اس لئے مسلمان ہیں اور کچھ اعمال کرلیتے ہیں کیونکہ ہمارے والدین مسلمان تھے۔ یہ تو منافقانہ امتثال ہوا۔

📍 منافقانہ امتثال (فرمانبرداری) سے کیا مراد ہے؟ اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہے اور اس سے بچنا کیوں ضروری ہے؟

جواب منافقانہ امتثال سے یہ مراد ہے کہ دل میں انکاری ہو اوپر سے جھوٹا اقرار کرتا ہو اور عمل کرلیتا ہو یا حکم کو دل سے نہ مانے بلکہ بس دوسروں کی دیکھا دیکھی کوئی کام کر لے۔ یہ نہ ماننا ہی ہے۔
اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے کلمہ شہادت پڑھے اور دل سے اسکی تصدیق کرے کہ میں نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے تمام احکامات کو قبول کرتا ہوں۔ (قَبِلتُ جَمیعَ أحکامہِ. إقرارٌ بالسانِ و تَصديقٌ بِالقلبِ)۔
منافقانہ امتثال سے بچنا ایمان والوں میں شامل ہونے کے لئے ضروری سمجھنا چاہیے۔
♻ Download link:
https://www.rememberallah.org/courses/tafseer-surah-al-maidah-part-34/

Books

WordPress Video Lightbox