Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 35
Aayat: 8-10 Surah Al Ma'idah, Tafseer Ma'ariful Quraan Volume 3, Page: 67-69:
Video
Important Notes
🕋 درس قرآن سورة المائدہ آیت نمبر ٨ سے ١٠❓
تاریخ: ١٣ اکتوبر ۲۰۲۵
✨ ۔۔۔ شیخ کا درجہ ماں باپ سے اوپر کیوں ہے اور ہمارا اس بارے میں رویہ کیا ہے ؟ ۔۔۔
📍اللہ تعالی ایمان والوں کو کیا کہہ کر خطاب فرماتے ہیں۔ ایمان والوں سے کون لوگ مراد ہیں، کس پر اعتماد کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟
جواب۔ اللہ تعالی ایمان والوں کو يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا کہہ کر خطاب فرماتے ہیں، ایمان والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو نبی کریم ﷺ پر اعتماد کرتے ہیں، یعنی مانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جو بھی بتایا ہے وہ سچ ہے اور وہ اللہ تعالی کی بات ہے۔
📍ان آیات میں اللہ تعالی ایمان والوں کو کس بات کا حکم دے رہے ہیں؟
جواب۔ اللہ تعالی ایمان والوں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم سب کے سب انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے ہو جاؤ، اور تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس بات پر ہرگز امادہ نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف اور عدل کرنا تقوی کی حقیقت ہے۔ جو عدل کرتا ہے وہ تقوی کی صفت والا کہلاتا ہے، یعنی تقوی کی صفت کا موصوف بن جاتا ہے۔
📍 اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنے کا کیا مطلب ہے؟
جواب۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی کے ساتھ احتیاط کا معاملہ کرنا۔ جیسے ہم اپنے بڑوں کے سامنے احتیاط سے بیٹھتے ہیں، ہر کام احتیاط سے کرتے ہیں کہ ان کو کوئی بات بری نہ لگ جائے، باس ناراض نہ ہو جائے، پیر صاحب ناراض نہ ہو جائیں۔ اللہ تعالی سب سے بڑے ہیں اور اللہ تعالی سے احتیاط کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے، یعنی ہم اللہ تعالی کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کریں۔
📍 اللہ تعالی نے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کے ساتھ کیا وعدہ فرمایا ہے؟
جواب۔ مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔
📍 وہ غیر مسلم جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی شان میں قصیدے لکھے اور کتابیں لکھیں مگر ایمان نہیں لائے یا آپ کی کسی ایک بات کو اگر سچا نہ جانا، تو ان کا کیا انجام ہے؟
جواب۔ غیر مسلم نبی کریم ﷺ کی شان میں چاہے جتنے قصیدے اور کتابیں لکھے، مگر وہ ایمان نہ لائے یا اپ کی صرف کسی ایک بات کو سچ نہ جانے تو وہ آپ کا انکاری ہی کہلائے گا اور ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالی نے جہنم کا وعدہ فرمایا ہے۔ رسالت کی کسی ایک بات کا بھی انکار کفر ہے، چاہے انسان سو باتوں کو جھوٹا کہے یا کسی ایک بات کو سچ نہ مانے برابر ہے۔ جب نبی کریم ﷺ کو وہ نبوت کے دعوے میں جھوٹا کہتا ہے تو باقی صفات و اخلاق میں تعریف کے پل باندھنے کا اسکو کیا فائدہ۔ الا یہ کہ نبی ﷺ کی دیگر صفات کی تعریف کی وجہ سے اللہ اسکو ایمان قبول کرنے کی توفیق دے دے۔ معلوم ہوا کہ انسان کی بنیادی اچھی صفت تو اسکی سچائی ہے۔ وہی نہیں تو باقی کسی صفت کا کیا اعتبار۔ نبی کریم ﷺ کی بھی اصل صفت سچائی اور دیانت ہے۔ صادق اور امین۔ اس کو کیوں نہیں مانتے۔
📍 نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد کیا ہے۔ کیا نبی کریم ﷺ صرف اس لئے بھیجے گئے تھے کہ امتی آپ سے دعائیں کروائیں؟
جواب۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کا علم ہم کو سکھانا ہے۔ نبی کریم ﷺ اللہ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں اس لیے آپ کا درجہ سب سے بلند ہے۔ آپ ﷺ امت کے لیے صرف دعائیں مانگنے کے لیے نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ اللہ تعالی کے احکامات ہمیں بتانے اور سکھانے کے لیے بھیجے گئے تھے، تاکہ ہم اللہ تعالی کو راضی کر سکیں۔
📍 شیخ کا درجہ ماں باپ سے اوپر کیوں ہے اور ہمارے کس رویے کی وجہ سے شیخ ماں باپ کے مقابلے میں ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے؟ اس صورت میں جب ماں باپ کہتے ہیں کہ ہماری بات مانو کیونکہ ہمارا حق زیادہ بڑا ہے تو وہ کیوں غلط نہیں کہ رہے ہوتے؟
جواب۔ نص سے ثابت ہے کہ ماں باپ کی دعائیں بچوں کے لیے قبول ہوتی ہیں۔ ماں باپ بچوں کے لیے قربانیاں دیتے ہیں، انکی سخت محنت کرکے پرورش کرتے ہیں، ان کی نجاست تک صاف کرتے ہیں۔
جبکہ شیخ کا ہمارے ساتھ ایسا تعلق نہیں ہوتا ہے جب تک کہ ہم اپنی سنجیدگی کے ذریعے شیخ کے دل کو اپنی طرف مائل نہ کرلیں۔ شیخ تو ہمیں اللہ تعالی کو راضی کرنے کا علم سکھاتے ہیں، اللہ تعالی کے احکامات ہمارے ذاتی زندگی کے احوال کے مطابق ہمیں سمجھاتے ہیں۔ اب چونکہ یہ علم ہمیں اللہ سے جوڑنے کا سبب بنتا ہے اس لیے شیخ کا درجہ ماں باپ سے اونچا ہے۔
لیکن اگر ہم شیخ کے ساتھ صرف دعائیں منگوانے کا معاملہ رکھتے ہیں تو یہ کام تو ماں باپ زیادہ اچھے سے ہمارے لئے کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے لئے دعائوں میں انکا دل شامل ہوتا ہے اور قبولیت دعا کے لئے دل کا شامل ہونا شرط ہے۔ صرف زبانی کلامی دعا قبول ہی نہیں ہوتی۔ ماں باپ کے ساتھ قلبی تعلق انکے ساتھ ذاتی محبت کی وجہ سے بنا ہوتا ہے جبکہ شیخ کے ساتھ قلبی تعلق ہمارے تعلق کی سنجیدگی کی بنیاد پر بنتا ہے۔
جبکہ شیخ جو ہمیں اللہ کو راضی کرنے کا طریقہ سکھلاتے ہیں اس میں انکا دل جگر کلیجہ سب شامل ہوتا ہے، لیکن ہم اس علم کو سنجیدہ نہیں لیتے، بس دعاؤں کی حد تک تعلق رکھتے ہیں۔
چنانچہ اس طرح ہم شیخ کو ماں باپ کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں جب ان سے اللہ تعالی کو راضی کرنے کا طریقہ نہیں سیکھتے اور جب وہ اللہ کی رضا کا علم سکھا رہے ہوتے ہیں تو توجہ نہیں دیتے۔ علم کی تکرار نہیں کرتے۔ ان کے ملفوظات کو نہیں پڑھتے۔ ذہن میں اشکالات کو پوچھ پوچھ کے دور نہیں کرتے۔ اور سب سے زیادہ بڑی ناقدری کہ ہم اس علم پر اپنی چھوٹی سے عقل کو ترجیح دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب اللہ تعالی کی اس عظیم نعمت کی بہت بڑی ناقدری ہے۔

