Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 52

Class Date:13/04/2026

Aayat: 19 Surah Al Ma'idah, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:

Audio

To Download or increase speed click :

Slides

Important Notes

*درس قرآن مجید: سورۃ المائدہ ( آیت 19) – 13 اپریل 2026*

اس درس میں ہمیں اپنے دین کے بارے میں جن سوالات کے جواب اللہ کے فضل سے ملے:

📍اس آیتِ مبارکہ میں لفظ “فترہ” کس معنی میں استعمال ہوا ہے؟ دوسرے مقام پر یہ کس زمانے اور کس معنی میں استعمال ہوا ہے؟ اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کون سی بات سمجھا رہے ہیں؟

جواب: لفظ “فترہ” کے لغوی معنی ہیں: سست ہونا، ساکن ہونا، کسی کام کو معطل یا بند کر دینا۔
اس آیت میں استعمال: یہاں “فترۃ” سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت تک کا وہ زمانہ ہے جس میں سلسلۂ نبوت موقوف رہا۔ یہ عرصہ تقریباً پانچ سے چھ سو سال پر مشتمل تھا، اور تاریخ میں اس سے پہلے کبھی انبیاء کی بعثت اتنے طویل عرصے کے لیے بند نہیں ہوئی۔

دوسرے مقام پر استعمال: “فترۃ” کا لفظ “فترۃ الوحی” کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، یعنی وہ وقفہ جو پہلی وحی (غارِ حرا میں نازل ہونے والی) کے بعد آیا، جب حضرت جبرائیل علیہ السلام کچھ عرصے تک دوبارہ وحی لے کر نازل نہیں ہوئے۔ اس آیت میں یہ دوسرا معنی مراد نہیں ہے۔

فترتِ رسل = رسولوں کے آنے میں وقفہ
فترتِ وحی = وحی کے نازل ہونے میں وقفہ

آیت میں مقصد: اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب کو یہ بات سمجھا رہے ہیں کہ تمہارے پاس ہمارا رسول آ چکا ہے، جو تمام حقائق کو واضح کر رہا ہے، تاکہ تم یہ عذر پیش نہ کر سکو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا یا ڈرانے والا نہیں آیا۔ ساتھ ہی فرمایا: واللہ علیٰ کل شیء قدیر — یعنی اللہ ہر چیز پر قادر ہے؛ جو کام بظاہر ناممکن نظر آئے، جیسے صدیوں کے وقفے کے بعد نبی کا آنا، وہ بھی اللہ کی قدرت سے ممکن ہے

📍آخرت کے دن مشکل ترین وقت میں نبی کریم ﷺ کو کس بات کی سب سے زیادہ فکر ہوگی؟ وہ اللہ تعالیٰ سے سب سے پہلے کس کے بارے میں سوال کریں گے؟

جواب: قیامت کے اس نہایت سخت مرحلے میں، جب حساب کتاب شروع ہونے میں تاخیر ہوگی اور لوگ اضطراب میں مبتلا ہوں گے، نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جائیں گے اور اس کی حمد و ثنا بیان کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے: سر اٹھائیے، مانگیے، آپ کو عطا کیا جائے گا، اور شفاعت کیجیے، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔

اس موقع پر نبی کریم ﷺ کو نہ اپنی ازواج یاد آئیں گی، نہ اولاد اور نہ ہی اہلِ بیت؛ بلکہ اس وقت آپ ﷺ کو اپنی امت کے مؤمنین کی فکر ہوگی۔ یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ مؤمنین کے ساتھ سب سے زیادہ شفقت اور قرب رکھتے ہیں، جیسا کہ سورۃ التوبہ کے آخر میں بیان ہوا ہے

📍بچوں کو قرآنِ پاک کا صرف ترجمہ پڑھانے کا کیا نقصان ہے؟ یہ کس کے لیے اپنی مرضی کی تفسیر کرنے کا راستہ کھول دیتا ہے؟ اس حوالے سے والدین اور بڑوں کی کیا غلطی ہے، اور اس کی اصلاح کیسے کی جا سکتی ہے؟

جواب: بنیادی نقصان یہ ہے کہ محض ترجمہ پڑھنے سے قرآن کا صحیح مفہوم واضح نہیں ہوتا، بلکہ بسا اوقات غلط معنی ذہن میں آ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورۃ یٰسٓ میں لفظ “مرسلین” آیا ہے، جس کا ترجمہ “بھیجے گئے لوگ” ہے، لیکن یہاں اس سے مراد اللہ کے رسول نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھیجے ہوئے قاصد ہیں — یہ فرق صرف تفسیر سے معلوم ہوتا ہے، محض ترجمے سے نہیں۔

شیطان کے لیے راستہ: جب کوئی شخص صرف ترجمہ پڑھتا ہے اور تفسیر سے ناواقف ہوتا ہے، تو گویا وہ اپنی رائے سے مفہوم اخذ کرنے لگتا ہے، جس سے گمراہی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

والدین کی غلطی اور اصلاح: بعض والدین یہ سمجھتے ہیں کہ صرف ترجمہ پڑھانا کافی ہے، حالانکہ یہ غلط فہمی ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو عربی زبان کی بنیادی سمجھ دی جائے، اور اگر ترجمہ پڑھایا جائے تو مستند تفسیر کے ساتھ پڑھایا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ اہلِ علم کی تحقیق شدہ تفاسیر سے رہنمائی لی جائے، جیسے مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی معارف القرآن، جو عصرِ حاضر کے فہم کے مطابق مرتب کی گئی ہے۔

ایک اہم نکتہ: دورانِ درس ایک سیمینار کا ذکر ہوا جس میں ویپ (Vape) اور سگریٹ نوشی کے تدریجی نقصانات، خصوصاً ان کے دس سال کے بعد کینسر کا سبب بننے پر روشنی ڈالی گئی۔ اس مثال سے یہ سمجھایا گیا کہ جس طرح دنیاوی معاملات میں ہم لمبے وقفے سے بھی ہونے والے نقصانات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، اسی طرح دینی معاملات میں ایمان کے بتدریج کمزور ہونے کو بھی نقصاندہ سمجھنا چاہیے۔

ڈاکٹرز کے مطابق ویپ سے کینسر فوری طور پر نہیں ہوتا بلکہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اسی طرح گناہوں اور غلط رویّوں کے اثرات بھی فوراً ظاہر نہیں ہوتے، لیکن ایمان رفتہ رفتہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ آخرکار اس کا نقصان بہت بڑا ہوتا ہے، جو آخرت کے اعتبار سے دنیاوی بیماریوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔

📍اگر کسی شخص تک نبی کریم ﷺ کا پیغام نہ پہنچا ہو، تو قیامت کے دن اس کے ساتھ کس بنیاد پر معاملہ ہوگا، اور اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: اس مسئلے میں فقہاء کے دو اقوال ہیں:

پہلا قول (بخشش کی امید): جمہور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جن لوگوں تک نہ کوئی رسول پہنچا، نہ ان کے نائبین (علماء وغیرہ)، اور نہ ہی شریعت محفوظ حالت میں پہنچی، وہ معذور شمار ہوں گے اور ان پر عذاب نہیں ہوگا، کیونکہ یہ بھی اللہ کی مرضی ہی تھی کہ ان تک یہ سب علم نہیں پہنچا۔

شرط: یہ رعایت اس صورت میں ہے جب وہ شرک میں مبتلا نہ ہوں، کیونکہ توحید کا بنیادی تصور انسانی فطرت میں موجود ہے۔

دوسرا قول: بعض فقہاء کے نزدیک عقل بذاتِ خود ایک طرح کی حجت ہے، اس لیے ایسے لوگ مکمل طور پر معذور نہیں ہوں گے۔ تاہم اس رائے کو نسبتاً کمزور سمجھا جاتا ہے۔

📍ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ: آج کل مسلمانوں میں یہ سوال کیوں عام ہو گیا ہے کہ “کافر تو اچھے ہیں، پھر انہیں عذاب کیوں ہوگا؟” اس سوچ کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟

جواب: اس کی دو بڑی وجوہات ہیں:
پہلی وجہ — غیر مسلموں سے قلبی تعلق: موجودہ تعلیمی نظام اور میڈیا غیر مسلموں کو مثبت انداز میں پیش کرتے ہیں، جس سے ان کے ساتھ ہمدردی اور قربت پیدا ہو جاتی ہے۔ جب دل میں تعلق پیدا ہو جائے تو ان کے بارے میں منفی انجام کو قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری وجہ — دینی ناواقفیت: بہت سے مسلمانوں کو نہ اپنے دین کی گہرائی کا علم ہے اور نہ کفر کے مفہوم کی صحیح سمجھ۔ جب دین سے واقفیت کم ہو تو ایسے اشکالات پیدا ہونا فطری ہے۔

اہم نکتہ: اس سوال کا ایک متوازن جواب یہ ہے کہ جنت کی قطعی ضمانت کسی کو نہیں، حتیٰ کہ مسلمان کو بھی نہیں جب تک اس کا خاتمہ ایمان پر نہ ہو۔ اسی طرح اگر کوئی غیر مسلم ایمان لے آئے تو وہ بھی جنت کا مستحق ہو سکتا ہے۔ یہ بات ذہن میں موجود کئی غلط فہمیوں کو دور کر دیتی ہے۔

WordPress Video Lightbox