Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 55
Aayat: 20 -26 Surah Al Ma'idah, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:
Important Notes
🗒️*درسِ قرآن – سورۃ المائدہ (آیات 20 – 26)*🗒️
📅 Dated: 04 May, 2026
اس درس میں ہمیں اللہ کے فضل سے اپنے دین کے بارے میں جن سوالات کے جواب ملے
سوال: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے ایسا کون سا نظام بنایا ہے جسےاختیار کرنے سے بات بہتر طور پر سمجھ میں آتی ہے، یاد رہتی ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے ہمیں تکرار کے نظام کا محتاج بنایا ہے۔ کسی بات کو دوبارہ پڑھنے، سننے اور دہرانے سے وہ زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے اور یاد بھی رہتی ہے۔ عام طور پر انسانوں کو ایک ہی مرتبہ میں علمِ نافع حاصل نہیں ہو جاتا۔ اسی لئے حکم خداوندی بھی ہے “وذکر فإن الذكرى تنفع المؤمنين” اور یاد دہانی کراتے رہا کرو (یعنی نصیحت کی باتیں دہراتے رہا کرو) کیونکہ یہ نصیحت ماننے والوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
جب ہمارے خالق نے فائدہ مند قرار دے دیا تو اب اس میں دو رائے نہیں ہوسکتی۔
سوال: حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو کس چیز کی ترغیب دینے کے لیے اللہ کی نعمتیں یاد دلائیں؟
جواب: حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو اللہ کی نعمتیں یاد دلا کر جہاد اور اطاعت کے لیے آمادہ کیا۔ یہ اصل حکم سے پہلے ایک تمہید تھی تاکہ ان کے دل مضبوط ہوں۔
اہم نکتہ: نعمتوں کو یاد کرنا اطاعت اور عمل کے لیے ہمت پیدا کرتا ہے۔
سوال: اللہ کی طرف سے حکم کے ذریعے آنے والی نعمت کو کیا کہا جاتا ہے؟ اس کی کوئی مثال بیان کریں۔
جواب: اللہ کے حکم کے ذریعے آنے والی نعمت کو معنوی یا روحانی نعمت کہا جاتا ہے۔ مثال: نماز۔ بظاہر یہ ایک بوجھ محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ انھا لکبیرۃ۔۔۔۔
اہم نکتہ: ہر نعمت آرام کی صورت میں نہیں ہوتی، بعض نعمتیں حکم کی شکل میں آتی ہیں، جن پر عمل کرنے سے راحت و آرام کی نعمت ملتی ہے۔
سوال: “اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ” کی کیا تفسیر بیان کی گئی ہے؟
جواب: اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کی وہ نعمتیں یاد کرو جو اس نے تم پر فرمائیں۔ یعنی بندہ اللہ کے احسانات کو فراموش نہ کرے۔ نعمتوں کو یاد کرنا دل میں شکر اور نیکی پر استقامت پیدا کرتا ہے۔
اہم نکتہ: جو شخص نعمتوں کو یاد رکھتا ہے، وہ کمزور نہیں پڑتا۔
سوال: بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے کونسی ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جو دنیا میں دوسروں کو نہیں دیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے ان میں بہت سے انبیاء مبعوث فرمائے،انہیں اقتدار عطا کیا، فرعون سے نجات دی، سمندر میں راستہ بنایا، اور ان کے دشمن کو غرق کر دیا۔ انہیں ذلت سے نکال کر عزت اور راحت عطا فرمائی گئی۔ یہ غیر معمولی نعمتیں تھیں، جن کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی وابستہ تھی۔
سوال: اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی تائید کیسے کروائی؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی تائید دو ایسے آدمیوں کے ذریعے فرمائی جو اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ انہوں نے حضرت موسیٰؑ کی بات کی حمایت کی اور قوم کو ہمت دلائی۔ یہ اللہ کی مدد کا ایک طریقہ ہے کہ حق بات میں تائید کرنے والے عطا فرمادیں۔
اہم نکتہ: اللہ تعالیٰ حق کی مدد کے لیے مددگار لوگ کھڑے فرما دیتے ہیں۔
سوال: “ہم فضلی ہیں” کا اصل مطلب کیا ہے؟ اور ہمارے سلسلے کی نسبت سے اس کا کیا مفہوم ہے؟
جواب: اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہے، وہ سب اللہ کے فضل سے ہے، ہمارا اپنا کوئی کمال نہیں۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ نسبت ہمارے سلسلے کے شیخ حضرت فضل علی قریشی رحمہ اللہ کی طرف ہے جنکی خانقاہ میں حضرت جی پیر ذولفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بیان فرمایا تھا۔
اہم نکتہ: اللہ کے فضل کا ادراک انسان میں عاجزی پیدا کرتا ہے۔
سوال: قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کس کا تذکرہ بار بار فرماتے ہیں اور ایسا کیوں ہے؟
جواب: قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ بار بار اپنا تذکرہ فرماتے ہیں تاکہ بندے کی توجہ یکسوئی کے ساتھ اسکی طرف رہے اور اسکے غیر میں مشغول نہ ہو جائے۔
سوال: اسباب اختیار کرنا مگر اسباب پر نظر نہ رکھنے کا کیا مطلب ہے؟ یہ فرق کیوں سمجھ میں نہیں آتا، اور یہ کیفیت کیسے حاصل ہوتی ہے؟
جواب: اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ نہ سوچے کہ اس کے کام اسباب سے ہوتے ہیں۔ اگر اسباب نہیں ہونگے تو کام نہیں ہوسکتے اور اگر ہونگے تو کام لازمی ہو جائیں گے۔ بلکہ یہ سوچے کہ کام بنانے والی تو اللہ کی ذات ہے جو مسبب السباب ہے۔ ہم اسباب اختیار کیا کریں یہ اللہ کی پسند (یعنی نبی کریم ﷺ کی سنت ہے) ہے صرف اس لئے ہم اسباب اختیار کرتے ہیں۔ یہ فرق آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ یہ صرف علمی بات نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے۔
اہم نکتہ: یہ کیفیت کہ ہمیشہ نظر اللہ پر ہو یہ اہلِ اللہ کی صحبت میں اپنے نفس کو پامال کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
سوال: فہمائش کا کیا مطلب ہے
جواب: فہمائش کا مطلب ہے نرمی اور محبت کے ساتھ کسی کو سمجھانا یعنی حکمت والے انداز سے۔ حق بات نرم لہجے میں زیادہ اثر کرتی ہے۔
سوال: میڈیا اور اپنی نظر سے بڑھ کر کس چیز پر بھروسہ کرنا ایمان کی نشانی ہے؟
جواب: ایمان کی نشانی یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خبر پر زیادہ بھروسہ کرے۔ میڈیا، مشاہدہ اور ظاہری حالات محدود ہوتے ہیں، جبکہ وحی سچی اور بلند ترین رہنمائی ہے۔ مومن کے نزدیک وحی، ظاہری مشاہدے پر مقدم ہوتی ہے۔
اہم نکتہ: ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں ہر وقت وحی پر پورا اعتماد کیا جائے۔
سوال: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے “اللہ میاں” کا لفظ کیوں استعمال فرمایا؟ “میاں” کا لفظ عرف میں کیوں بولا جاتا ہے؟ اس سے کیا اظہار ہوتا ہے؟ اور اس کے استعمال میں تردد کیوں نہیں ہونا چاہیے؟
جواب: حضرت تھانویؒ نے “اللہ میاں” کا لفظ ادب، محبت اور عرفی انداز میں استعمال فرمایا۔ ”میاں” عام بول چال میں تعظیم اور احترام کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے “میاں جی”۔
اس لفظ کے استعمال میں تردد نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ مسئلہ ہماری اس کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم کم علم لوگوں کے سطحی اعتراضات سن کر فوراً اپنے مشائخ کے طریقے کو چھوڑ دیتے ہیں۔
اہم نکتہ: ہمارا اعتماد اپنے مشائخ اور اکابرین پر اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ کوئی سطحی اعتراض اسکے کمزور ہونے کا ذریعہ نہ بن سکے۔

