Tafseer Surah Al Ma'idah- Part 57
Aayat: 20 -26 Surah Al Ma'idah, Tafseer Ma'ariful Quran Volume 3:
Important Notes
🕋 اہم نکات درسِ تفسیر القرآن (سورۃ المائدہ، آیات 20 تا 26)
بتاریخ 18 جون 2026
اس درس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں اپنے دین کے بارے میں درج ذیل سوالات کے جوابات حاصل ہوئے
﴿وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكًا﴾ کی تفسیر کے تحت:
سوال : اسلامی حکومت دراصل کس کی حکومت ہوتی ہے؟ دینِ اسلام کس نظام کے ساتھ آیا ہے؟
جواب: اسلامی حکومت دراصل عوامی حکومت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرے کو قبائل اور اقوام کے نظام پر قائم فرمایا ہے، جیسا کہ قرآنِ عظیم میں ارشاد ہے
سورہ الحجرات آیت نمبر 13
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ
یعنی انسان مختلف قوموں اور قبیلوں کی صورت میں اس لیے بنائے گئے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔ اس نظام میں بظاہر سامنے ایک فرد ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے پوری اسکی قوم یعنی عوام موجود ہوتی ہے۔
اہم نکتہ: اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا قبائلی اور خاندانی نظام ہی فطری اور اسلامی نظام ہے۔ اس لیے ہمیں اس پر اعتماد ہونا چاہیے اور اس کے خلاف پروپیگنڈے میں نہیں آنا چاہیے۔
سوال: دجالی دور میں حقیقتاً حکومت کس کی ہوتی ہے؟ ہمیں یہ سب نظر کیوں نہیں آتا؟
جواب: دجالی دور میں بظاہر کوئی حکمران سامنے ہوتا ہے، مگر اصل اختیار اور نظام کسی اور کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ہمیں یہ شعور نہیں ہو پاتا کہ حکومت کسی اور کی مرضی اور منشا کے مطابق چل رہی ہے، کیونکہ ہماری سوچ اور نگاہوں کو اسی انداز سے ڈھال دیا گیا ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم الشان میں فرمایا:
﴿نُقَلِّبُ أَفْـِٔدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ﴾ سورۃ الانعام، آیت 110
یعنی ہم پلٹ دیں گے انکے دلوں کو اور انکی آنکھوں کو۔ معلوم ہوا کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا انکار کرتا ہے تو سزا کے طور پر اسکی آنکھوں کی صلاحیت یعنی دیکھنے اور پہنچاننے کو اللہ تعالیٰ الٹ دیتے ہیں۔ یہی ہمارے ساتھ ہوگیا ہے۔
اہم نکتہ: دجالی دور فریب، دھوکے اور باطل کی ملمع سازی کا دور ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اسے اسی شعور کے ساتھ دیکھا اور سمجھا جائے۔
بادشاہ اور مَلِک کے مفہوم کے بارے میں
سوال: بادشاہ کسے کہا جاتا ہے؟”ملک” کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ بنی اسرائیل کے حق میں اس لفظ کی ترجمانی کیسے ہوتی ہے؟ ان پر اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتیں تھیں؟ ہمارے مشائخ آج کے دور کے لوگوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
جواب: بادشاہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جس کے سر پر تاج ہو اور جو خودمختار حکومت رکھتا ہو، یعنی اپنی مرضی سے فیصلے کرنے والا ہو۔
“ملک” سے ایک مراد خوشحال اور آسودہ حال شخص بھی ہے، جس کے پاس مکان، جائیداد اور خادم ہوں۔ اس لحاظ سے بنی اسرائیل کی اکثریت اس لفظ کے مصداق تھے۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور معنوی دونوں نعمتیں تھیں؛ معنوی نعمتوں میں نبوت و رسالت کا شرف، اور ظاہری نعمتوں میں حکومت اور سلطنت شامل تھی۔
آج کے دور میں بھی ایک لحاظ سے ہر شخص
“بادشاہ” ہے، کیونکہ وہ سہولتیں ہمارے گھروں میں موجود ہیں جو پہلے بادشاہوں کو بھی شاذ و نادر ہی حاصل ہوتی تھیں۔
اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ ہمارا رویہ
سوال: اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے کے بجائے ہم عموماً کیا طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے احکام ماننے کے بجائے ہم عموماً شرطیں لگاتے رہتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ میرا دفتر کا معاملہ ٹھیک ہو جائے تو میں درس میں شرکت کروں گا، یا میرا گھٹنہ ٹھیک ہو جائے تو نماز پڑھوں گا، یا شادی ہو جائے تو پردہ کروں گی۔
اہم نکتہ: جب اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے تو اپنی من مرضی کو پسِ پثت رکھ کر اس کی اطاعت فوراً فرض ہو جاتی ہے۔ یہی صحیح طرزِ عمل ہے۔
سوال: یہ کن لوگوں کی خصلت تھی جو آج ہم میں بھی پائی جاتی ہے؟
جواب: یہ بنی اسرائیل کی خصلت تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کے باوجود شرطیں لگاتے رہتے تھے، اور یہی عادت آج ہم میں بھی پائی جاتی ہے۔
سوال: اس طرزِ عمل کے نتیجے میں ہم کن قرآنی نصوص کے زمرے میں آ جاتے ہیں، بلکہ آچکے ہیں؟
جواب: اس طرزِ عمل کے نتیجے میں ہم بھی یہودیوں کی طرح ﴿الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ﴾ جن پر اللہ کا غضب ہوا کے مصداق بن جاتے ہیں جیسے یہودی بنے۔ ہمیں نظر نہیں آتا لیکن ہم اللہ کے غضب کا شکار ہیں۔
حضرت موسیٰؑ کی تربیت ہمارے لئے سبق
سوال: حضرت موسیٰؑ کی تربیت کس انداز سے ہوئی؟
جواب: حضرت موسیٰؑ کی تربیت تدریجاً مختلف مراحل میں ہوئی
1۔ جب آپ سے قبطی کا قتل ہو گیا تو آپ خوف کے باعث شہرِ مصر سے ہی نکل گئے۔
2۔ جب آگ لینے گئے اور عصا ڈالنے کا حکم ملا تو وہ سانپ بن گیا، جس پر آپ پلٹ کے بھاگے لیکن بلانے پر واپس آگئے۔
3۔ جب جادوگروں نے اپنے عصا اور رسیاں ڈالیں اور وہ بظاہر سانپ دکھائی دینے لگے تو آپ کے دل میں خوف پیدا ہوا لیکن جگہ سے ہلے نہیں۔
4۔ پھر جب آپ اپنی قوم کو لے کر سمندر کے کنارے پہنچے اور فرعون کا لشکر پیچھے آ گیا، تو قوم نے کہا: “اب تو ہم پکڑے گئے”، مگر اس وقت آپ اللہ کے وعدے پر کامل یقین کے ساتھ ثابت قدم رہے، دل میں خوف بھی نہ پیدا ہوا۔
سوال: اس تربیت کے اثرات عمالقہ کے واقعے میں کس شان سے ظاہر ہوتے ہیں؟
جواب: عمالقہ کے واقعے میں حضرت موسیٰؑ مکمل سکون اور اطمینان میں تھے۔ ان کے دل میں کوئی خوف پیدا نہیں ہوا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے انہیں فتح کی خوشخبری دے دی تھی۔ آپ کو اللہ کے وعدے پر کامل یقین تھا، اور یہ یقین اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے مختلف حالات واقعات کے ذریعے حاصل ہونے والی تربیت کا نتیجہ تھا۔
اہم نکتہ: تعلیم و تربیت ایک تدریجی عمل ہے، جس میں انسان آہستہ آہستہ اصلاح اور بہتری کی منازل طے کرتا ہے۔ جب انبیائے کرام علیہم السلام جیسی مقدس ہستیوں کی بھی اللہ تعالیٰ نے تربیت فرمائی، تو ہمیں اپنی اصلاح و تربیت کی ضرورت کیوں محسوس نہیں ہوتی!!

