Apple Podcast Google Podcast
Ask us Questions

Taubah Hamari Wahid Ummeed

Class Date:31/07/2026

Surah Al An'aam 114-117:

Audio

To Download or increase speed click :

Class Notes

🌷 Recording & Notes – Weekly Majlis Bayan🌷
🕋 درسِ تفسیر القرآن
سورۃ الأنعام، آیات 114 تا 117
🌼توبہ ہماری واحد امید 🌼

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا
🔹تمت یعنی مکمل ہوگئے کا مطلب
اللہ کے کلمات کی تکمیل سے مراد یہ نہیں کہ اس میں صرف آیات کی تعداد مکمل ہوگئی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی یا نقص باقی نہیں رہا۔ انسانیت کی ہدایت کے لیے رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام ادوار کی جو جو ضرورت تھی، دینِ اسلام اس کے لیے کامل اور مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

جہاں تک کفر کے نظام کا تعلق ہے، اس میں بہت سے جھوٹ شامل ہوتے ہیں، جنہیں وہ کچھ سچائی کے لبادے میں پیش کرتے ہیں، یعنی تلبیس سے کام لیتے ہیں۔ اس اعتبار سے کفر کا نظام بھی بظاہر ایک جامع نظام دکھائی دیتا ہے، لیکن اس میں وہ بنیادی صفت موجود نہیں جو اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کے بارے میں بیان فرمائی ہے، یعنی “صِدْقًا وَعَدْلًا” (سچائی اور انصاف)۔

دینِ اسلام کے نظام کی بنیاد صدق اور عدل پر ہے، اور یہی دینِ اسلام اور کفر کے نظام کے درمیان بنیادی اور نمایاں فرق ہے۔

🔹کفر اپنے نظام کی تبلیغ و اشاعت کیسے کرتا ہے؟
وہ اپنے تعلیمی نظام کے ذریعے اپنے نظریات کو عام کرتا ہے۔ ہم بھی اسی تلبیسی تعلیمی نظام میں دینی اور اسلامی تعلیمات کے پیوند لگا کر سمجھتے ہیں کہ یوں یہ نظام اسلام کے مطابق ہو گیا، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

آج کے دور میں بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اب زمانہ اتنا بدل گیا ہے کہ (نعوذ باللہ) اب دینِ اسلام آج کے تقاضوں کے مطابق کامل یا دوسرے الفاظ میں قابل عمل نہیں رہا۔ یہ بات سراسر غلط ہے۔ دینِ اسلام ابھی بھی بالکل کامل اور مکمل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔

البتہ ہر دور میں نئے مسائل پیش آتے رہتے ہیں۔ ان مسائل کا حل علماءِ کرام قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ﷺ، اجماع اور دیگر شرعی اصولوں کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔ یہ دین میں کسی قسم کی کمی پوری کرنا نہیں ہوتا، بلکہ نئے پیش آنے والے مسائل کے حل کو دین کے ابدی اصولوں پر منطبق (Fit) کرنا ہوتا ہے۔

کیونکہ کفر کے نظام کو سمجھانے کے لئے”پیوند کاری” کا لفظ استعمال کیا گیا تھا تو ایک کلاس میں اس کو دین کے معملہ میں بھی استعمال کر لیا۔ اللہ جزاء خیر عطا کرے ہمارے ایک نوجوان طالب علم کو جنہوں نے ادب کے ساتھ اس کی نشاندہی کی کہ دینِ اسلام تو پھٹی ہوئی چیز نہیں جس میں پیوند لگایا جائے، کیونکہ دین تو پہلے ہی کامل اور مکمل ہے۔ انکے اس اہم نکتے کو فورا قبول کرتے ہوئے ہم نے پیوند کے لفظ کو “فٹنگ” سے تبدیل کردیا۔ جیسے ایک دیوار ہر لحاظ سے مضبوط، صاف اور مکمل ہے۔ اگر اس پر ایک خوبصورت پینٹنگ فٹ کر دی جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دیوار میں کوئی نقص یا خرابی تھی جسے چھپایا جا رہا ہے۔ چنانچہ علماءِ کرام ہر دور کے تقاضوں کے مطابق اجتہاد کے ذریعے مسائل کا ایسا حل پیش کرتے ہیں جو ایک مکمل شریعت پر بس فٹنگ کا کام دیتے ہیں۔

🔹شاگرد کا استاذ کو مشورہ دینے کا طریقہ
اس واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اخلاص، ادب اور احترام کے ساتھ بھی ایک طالب علم بھی اپنے استاد کو مشورہ دے سکتا ہے یا کسی بات کی تصحیح بھی کر سکتا ہے۔

🔹قرآنِ عظیم الشان کی حفاظت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ
”اللہ کے کلمات کو بدلنے والا کوئی نہیں۔”

اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص کبھی تحریف یا غلط بات پیش کرنے کی کوشش ہی نہیں کرے گا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اللہ کے اصل کلام کو اس طرح تبدیل نہیں کر سکتا کہ وہی بدلا ہوا قرآن امت کے ہاں اصل قرآن کی جگہ لے لے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے، اس لیے قرآنِ کریم ہر قسم کی تحریف، کمی اور زیادتی سے محفوظ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا:
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
”بے شک ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔” (الحجر: 9)

لہٰذا کسی کی یہ مجال نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے حصار کو توڑ کر قرآنِ مجید میں تبدیلی کر دے۔ دین اسلام کے دشمنوں کو موقع ملتا بھی ہے کہ وہ قرآن کو بدلنے کی کوشش کرسکیں لیکن اللہ تعالیٰ انکے دلوں پر
رعب پیدا کردیتے ہیں۔ قرآن کی پہلی مشین پرنٹنگ جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں ہوئی۔ وہ چاہتے تو بڑی تعداد میں تحریف شدہ کاپیاں پرنٹ کرسکتے تھے لیکن نہیں کرسکے۔ اس لئے نہیں کہ وہ نیک تھے یا اسلام دشمنی سے توبہ کرچکے تھے۔ بالکل جیسے مکی دور میں ایک دفعہ ابوجہل ظاہرًا کوئی رکاوٹ نہ ہوتے ہوئے بھی اور چاہتے ہوئے بھی نبی کریم ﷺ کو نقصاں نہیں پہنچا سکا۔ اللہ نے رکاوٹ ڈال دی اور محبوب ﷺ کی حفاظت فرمائی۔

اہلِ علم لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آخری شریعت مکمل ہو چکی ہے۔ اب کسی نئی وحی یا نئی شریعت کی گنجائش نہیں۔ یہی مفہوم ختمِ نبوت کی تائید بھی کرتا ہے۔

🔹وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
 “اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔”

یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام اقوال و اعمال کو سنتا اور جانتا ہے۔ وہ کسی کے مشورے یا مدد کا محتاج نہیں، بلکہ اپنے کامل علم اور کامل سماعت کی بنیاد پر جزا اور سزا دیتا ہے۔

یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے مفسرینِ کرام اور اہلِ علم کے ذریعے اپنے کلام کی تشریح ہمارے لیے آسان فرما دی، ورنہ ہماری محدود عقل اور کم علمی کی وجہ سے قرآن عظیم الشان کے بہت سے دقیق معانی تک پہنچنا ممکن نہ تھا۔

🔹اکثریت حق کی دلیل نہیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ
”اگر آپ زمین میں رہنے والوں کی اکثریت کی پیروی کریں گے تو وہ آپ کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔” (الأنعام: 116)

ظاہری طور پر یہ خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے، حالانکہ آپ ﷺ کے بارے میں یہ تصور ابھی نہیں کیا جا سکتا کہ آپ اکثریت کے دباؤ میں آ جاتے۔

درحقیقت اس خطاب کے ذریعے پوری امت کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ حق کا معیار لوگوں کی تعداد نہیں بلکہ اللہ کی وحی ہے۔ اگر فرضِ محال کے طور پر نبی ﷺ بھی اکثریت کی پیروی کرتے تو آپکی گمراہی لازم آتی، تو عام انسان اس خطرے سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟ یہ بات کہ اکثریت گمراہی پر ہے یہ بات اتنے وثوق سے صرف اللہ تعالیٰ ہی کہ سکتا ہے جسے ہر دور ہر زمانے کے ہر انسان کے بارے میں کامل علم حاصل ہے۔

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اکثر لوگ حق کو قبول نہیں کرتے، جیسے:

وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ

اور

وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف اکثریت کسی بات کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہوتی۔

اللہ تعالیٰ خود اس کی وجہ بھی بیان فرماتے ہیں کہاکثر لوگ علم کی بجائے گمان اور بے بنیاد قیاسات کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ دین کے احکام کو وحی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی خواہشات، اندازوں اور قیاسات کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اکثریت سے مرعوب نہ ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو دین نازل فرمایا ہے، اسے جوں کا توں لوگوں تک پہنچا دیں، اس میں اپنی طرف سے نہ کمی کریں اور نہ زیادتی۔

یہی ہدایت آج ہمارے لیے بھی ہے۔ دین کو لوگوں کی خواہشات کے مطابق بدلنا، کسی حکم کو مشکل سمجھ کر نکال دینا، یا لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اللہ کے احکام میں ترمیم کرنا جائز نہیں۔ مثلاً ایمانیات میں سے تقدیر کو، عورتوں کے لیے پردہ یا کسی اور شرعی حکم کو اس لیے ختم کر دیا جائے کہ زیادہ لوگ دین میں داخل ہو جائیں۔ آج کے دور میں سب سے بڑی تعداد دین میں داخل ہو جائے گے اگر موسیقی جیسے ناجائز امور کو دین کا حصہ بنا دیا جائے تاکہ لوگوں کو دین آسان محسوس ہو، تو یہ اللہ کے دین میں تبدیلی ہوگی۔ ایسا کرنے کی اجازت نہ رسول اللہ ﷺ کو تھی، نہ کسی صحابی کو، نہ کسی عالم کو، اور نہ آج کسی مسلمان کو ہے۔

اللہ پاک خوب جانتے ہیں کون سیدھی راہ پر ہے اور کون گمراھی کے راستے پر۔

ہمارا فرض صرف یہ ہے کہ اللہ کے دین کو اسی طرح پہنچائیں جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اور صحابہ کرام اور اکابریں امت نے ہم تک پہنچایا۔ جو مانے گا اسکا اپنا فائدہ جو نہیں مانے گا اسکا اپنا نقصان ہے۔ اس پر اعتماد کرکے جب ہم دین حق کی پیروی کریں گے تو اللہ پاک اس دنیا میں اچھی زندگی عطا کریں گے اور آخرت میں یقینی اچھی زندگی کا وعدہ ہے اس اعتماد کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔ اللہ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔

🔹وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
ہمارے مشائخ یہ آیت اپنے ہر بیان میں یونہی نہیں پڑھتے۔ حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے: جب تم اللہ کے دین کے راستے میں جدوجہد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے راستے ہموار فرما دے گا۔

اس آیت یا قرآن شریف کی کوئی بھی آیت پر ذرہ برابر بھی بداعتمادی سے ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں ہمارا مقصد کسی پر فتویٰ لگانا نہیں، کیونکہ یہ ہمارا منصب نہیں۔ ہمارا مقصد صرف اضطراب، فکر اور احتسابِ نفس پیدا کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص دین کی کسی قطعی دلیل کا جان بوجھ کر انکار کرے تو اس سے ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے جو مطلوب ایمان ہے، ہمیں خود اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ آیا وہ ایمان ہمارے اندر موجود ہے یا نہیں۔ مسئلہ اکابرین کا نہیں، مسئلہ ہمارا ہے۔ ہم ٹوپی والے، داڑھی والے، تبلیغ والے، نقشبندی، چشتی، عالم اور عالمہ کورس کرنے والے تو بہت ہیں، لیکن مسلمان سے جو ایمان مطلوب ہے ایسے بہت کم ہیں، آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔

علمائے کرام کا اصل کام دین کے علوم کی حفاظت کرنا ہے۔ وہ محض جذبات کی بنیاد پر حکومت وقت کے خلاف بغاوت نہیں کرتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آج کے نام نہاد مسلمان ان کا ہرگز ساتھ نہیں دیں گے۔ یہی ایک اہم بات یہی رہنمائی سنت سے بھی یہ ملتی ہے کہ جب اسباب میسر نہ ہوں تو محض جذبات میں آ کر قوتِ نافذہ یا ریاستی طاقت سے ٹکراؤ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اصول مکی دور میں واضع طور پر نظر آتا ہے اور آج امت کا جو حال ہے وہ مکی دور سے یی مطابقت رکھتا ہے۔

🔹اپنے انفرادی معاملات میں اہل علم سے پوچھنا
یہ اصول ہر مسلمان کی انفرادی زندگی میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی دینی حکم پر عمل کرنے کی خواہش ہو لیکن اسباب مخالف ہوں، تو پہلے اپنے شیخ سے رہنمائی لینی چاہیے کہ اس حکم پر کم سے کم نقصان اور زیادہ سے زیادہ فائدے کے ساتھ کیسے عمل کیا جائے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو شیطان ہماری نیک نیتی میں فساد ڈال دیتا ہے، اور عمل اخلاص کے بجائے ضد، ہٹ دھرمی اور خود اعتمادی (انانیت) کا شکار ہو جاتا ہے، یا بہت مشکل بنا کے شیطان سرے سے عمل کی کوشش ہی چھڑوا دیتا ہے۔

مثلاً اگر گھر کی کوئی خاتون پردہ کرنا چاہتی ہو لیکن حالات اس کے موافق نہ ہوں، تو اسے اہلِ علم سے مشورہ کرنا چاہیے کہ موجودہ حالات میں اس حکم پر مناسب طریقے سے کیسے عمل کیا جائے۔ یہی قرآنِ کریم کی تعلیم ہے:

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

🔹اکابر ہماری نظر میں اکابر کس وجہ سے ہیں؟
اکابرین اپنے علم، فقاہت اور بصیرت کی وجہ سے اکابرین ہیں۔ جب وہ اہلِ علم ہیں تو اجتہاد کے بھی اہل ہیں۔ اگر وہ اجتہاد کریں کہ موجودہ حالات میں کون سا طرزِ عمل سنت کے زیادہ مطابق ہے اور کون سا نہیں، تو وہ اس کے مجاز ہیں۔ اور اہلِ علم کی رہنمائی اختیار کرنا بھی شریعت کے مطابق ہے۔
آج کل آن لائن دینی کورسز نے بہت سے لوگوں کو معلومات تو دے دی ہیں کہ اکابر کون ہیں لیکن اکابر کی اطاعت اور ان کی رہنمائی میں دین پر چلنا نہیں سیکھا۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ اس کی اپنی رائے ہی چلے اور دوسرے اس کی بات مانیں۔

🔹توبہ ہی ہماری واحد امید ہے
اس دور میں ہماری واحد امید توبہ ہے کیونکہ سارے اسباب ہمارے دین کی مخالفت میں سرگرم ہیں۔ ہمیں مسلسل توبہ کرتے رہنا چاہیے، مجلس میں سکھائے جانے والے توبہ کے کلمات پڑھتے رہنا چاہیے، اور اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہنی چاہیے۔ اس ٹینش اور اضطراب میں رہنے سے ہمیں توبہ کی فکر لاحق رہے گی بغیر اس اضطراب کے توبہ کی فکر بھی ممکن نہیں لگتی۔

🔹وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے۔ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ اسباب کے ذریعے سے رزق عطا فرماتے ہیں۔ IBM یا کسی فنانشل ایڈوائزری فرم میں کام کرنے والے کے لیے اسکی کمپنی ذریعہ رزق ہے، اور دین کا کام کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ان کے رزق کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔

حضرت جی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:

“اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو چھپر پھاڑ کر رزق دیتے ہیں، اور بعض کو لفافہ پھاڑ کر رزق عطا فرماتے ہیں۔”

ہم یہ ڈنکے کی چوٹ پر کہیں گے کہ مالِ غنیمت کے بعد ہدیہ، حلال رزق میں افضل درجہ کا حلال ہے۔

ہمیں اللہ کے دین کو صحیح طور پر سمجھنے اور آگے سمجھانے کی محنت میں لگنا چاہیے۔ بندہ اللہ کے قرآن عظیم الشان کو اپنا اوڑنا بچھونا بنائے اور اللہ پر کامل بھروسا رکھے تو اللہ تعالیٰ قرآن مجید اور حدیث شریف کے ذریعہ سے اسے رزق عطا کرے گا۔ سوائے چند بیوقفوں کے، اس طرح سے رزق کمانے کو کسی نے ناپسندیدہ قرار نہیں دیا ہے۔ ان لوگوں کی باتوں کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔

🔹علم کی تعریف
کوئی چیز پہلے سے موجود ہو اور اس کے بارے میں معتبر اور درست معلومات ہوں تو اسے علم کہا جاتا ہے۔ محض گمان، اندازہ، قیاس یا بے بنیاد باتوں کو علم نہیں کہا جاتا۔

Recording link:
https://www.rememberallah.org/courses/taubah_hamari_wahid_ummeed/

WordPress Video Lightbox